سرورققومی خبریں

پولیس اور اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ کے دوران سیما حیدر کے بیانات میں تضاد

سیما حیدر پاکستان جائے گی یا پھر ہندوستان میں چلے گا کیس؟ یو پی اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ پوری، رپورٹ کی بنیاد پر سرکار لے گی فیصلہ

نوئیڈا، 20جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پاکستانی سیما حیدر سے پہلے پولیس نے پوچھ گچھ کی اور پھر اے ٹی ایس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ جب تمام بیانات کو ملایا گیا تو انکشاف ہوا کہ کئی بار بیان بدل چکی ہے۔ ڈی جی پی ہیڈکوارٹر، لکھنؤ کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ کے مطابق سیما حیدر یوپی میں سونولی سرحد سے نہیں بلکہ سدھارتھ نگر کے روپن ہیڑی-کھونوا سرحد سے ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔صرف اتنا ہی نہیں، سیما نے 2020 میں پہلی بار سچن سے بات کی۔ جبکہ اس سے قبل اس نے کہا تھا کہ اس کی سچن سے سب سے پہلے 2019 میں بات ہوئی تھی۔ مرکزی ایجنسیوں کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 13 مئی کو ہند-نیپال سرحد کے سونولی سیکٹر اور سیتامڑھی سیکٹر میں کسی تیسرے ملک کے شہری کی موجودگی کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ سیما اور سچن نے ان دونوں جگہوں سے ہندوستان میں داخلے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج تلاش کی گئی تو سیما کہیں نظر نہیں آئی۔ جیسا کہ اصول ہے کہ اگر کسی تیسرے ملک کا کوئی شہری ہندوستان-نیپال سرحد کے اس پار یا اُس پار جاتا ہے تو دونوں ممالک کی پولیس ایک دوسرے کو اس کی اطلاع دیتی ہے لیکن ہندوستان کی پولیس کو ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے جھوٹی کہانی بنائی تھی، انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اب اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا کہ سیما حیدر اور سچن نیپال کے نیو ونائک ہوٹل کے کمرہ نمبر 204 میں فرضی ناموں اور پتے کے ساتھ قیام رہ رہے تھے۔

وہاں سیما نے خود کو ہندوستانی اور سچن کی بیوی بتایا۔ ہوٹل کے رجسٹر میں بھی دونوں نے اپنا اصل نام ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ جھوٹے نام سے وہیں قیام کیا۔سچن ایک دن پہلے ہی نیپال پہنچا تھا۔ جبکہ سیما اگلے دن نیپال پہنچی تھی۔ سیما حیدر نے اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ میں اعتراف کیا کہ سچن کے علاوہ وہ دوسرے ہندوستانی مردوں سے بھی رابطے میں تھی۔ سیما نے پب جی گیم کھیلتے ہوئے ان لوگوں سے واقفیت بھی کر لی تھی۔ سیما نے جن لوگوں سے رابطہ کیا ان میں سے زیادہ تر دہلی-این سی آر سے تعلق رکھتے تھے۔ جن لوگوں سے سیما نے پب جی کے ذریعے بات کی تھی ان کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔

سیما حیدر پاکستان جائے گی یا پھر ہندوستان میں چلے گا کیس؟ یو پی اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ پوری، رپورٹ کی بنیاد پر سرکار لے گی فیصلہ

پاکستان کے کراچی سے اترپردیش کے نوئیڈا آئی سیما غلام حیدر سے یوپی اے ٹی ایس کی تین دنوں تک چلی پوچھ گچھ مکمل ہو گئی ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران اے ٹی ایس کو کئی اہم معلومات ملی ہیں۔ اب یوپی اے ٹی ایس اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ کو سونپے گی، جس کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سیما حیدر کو پاکستان ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس پر فیصلہ لینے سے پہلے حکومت کو عدالت سے اجازت لینی ہوگی، کیونکہ سیما حیدر اور ان کے چار بچوں کے خلاف غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے کا مقدمہ درج ہے اور وہ ضمانت پر باہر ہیں۔

اس معاملہ میں اسپیشل ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے بتایا کہ سیما حیدر غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ اس کے خلاف نوئیڈا کے ربوپورہ پولیس اسٹیشن میں 4 جولائی کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ یوپی اے ٹی ایس بھی معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر ہی آگے کی کارروائی کی جائے گی۔یوپی اے ٹی ایس کی پوچھ گچھ میں جو بات سامنے آئی ہے، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیما حیدر پاکستان میں اپنا گھر بیچنے کے بعد اپنے عاشق سچن مینا کے پاس نوئیڈا آئی تھی۔ 4 جولائی 2023 کو نوئیڈا پولیس نے سیما غلام حیدر کو فارنر ایکٹ اور مجرمانہ سازش کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سال 2020 میں سیما حیدر پب جی آن لائن گیم کے ذریعے سچن مینا کے رابطے میں آئی تھی۔ دوستی بڑھی تو دونوں وہاٹس ایپ پر بات چیت کرنے لگے۔ سیما حیدر 10 مارچ 2023 کو نیپال آئی تھی۔ سچن مینا بھی 10 مارچ کو ہندوستان سے نیپال پہنچا تھا۔ 10 مارچ 2023 سے 17 مارچ تک سیما اور سچن نیپال کے کھٹمنڈو میں ایک ساتھ رہے۔ 17 مارچ کو سیما پاکستان چلی گئی۔ اس کے بعد 11 مئی کو سیما حیدر اپنے چار بچوں کے ساتھ پاکستان سے کھٹمنڈو نیپال کے راستے غیر قانونی طور پر 13 مئی کو ہندوستان آگئی۔13 مئی سے ہی سیما حیدر، سچن مینا کے ساتھ نوئیڈا کے ربو پورہ میں کرائے کے مکان میں رہنے لگی۔

اطلاع ملنے پر ربوپورہ پولیس نے سچن مینا، سیما غلام حیدر، سچن کے والد نیترپال کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ تینوں ملزمان فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔دوران تفتیش سیما حیدر نے بتایا کہ اس کا شوہر 2019 سے سعودی عرب میں کام کر رہا ہے۔ سیما کا شوہر گھر کے اخراجات کے لئے سعودی سے ہر ماہ 70 سے 80 ہزار روپے بھیجتا تھا۔ گھریلو اخراجات کے بعد سیما ہر ماہ 20 سے 25 ہزار روپے بچاتی تھی۔ سیما نے اپنے گاؤں میں 20 ماہ کیلئے 10 ہزار روپے کی دو کمیٹیاں بھی ڈالی تھیں۔ دونوں کمیٹیاں کھلنے پر اس کے پاس دو لاکھ روپے جمع ہوگئے تھے۔ کمیٹی کی رقم اور بچت سے سیما حیدر نے 12 لاکھ روپے میں ایک گھر خریدا تھا۔ تین ماہ بعد ہی سیما نے گھر 12 لاکھ روپے میں بیچ دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ سیما حیدر نے سچن کے پاس ہندوستان آنے کے لئے اپنا گھر بیچ ڈالا۔

پاکستانی سیما حیدر پر پہلی بار بولا ہندوستانی وزارت خارجہ کہا: اس کی تمام معلومات ہمارے پاس

پاکستان سے ہندوستان آنے والی اور گوتم بدھ نگر کے ربو پورہ میں رہائش پذیر سیما حیدر معاملے پر پہلی بار ہندوستانی وزارت خارجہ نے آفیشیل بیان جاری کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاملہ زیر تفتیش ہے اور ہمارے پاس اس کے بارے میں تمام معلومات ہیں۔پاکستانی شہری سیما حیدر کے معاملے پر پریس کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ ہم اس معاملے سے آگاہ ہیں۔ اسے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور اب وہ ضمانت پر باہر ہے۔ ان کا مزید کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر کوئی اطلاع آئی تو ہم آپ کو دیں گے۔ ابھی کے لیے، میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔ سچن کی محبت میں پاگل، چار بچوں کے ساتھ سرحد پار کرنے والی سیما حیدر کی مشکلیں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ ان کیلئے ابھی تک کوئی راحت بھری خبر نہیں ہے۔

سیما حیدر جہاں پاکستان نہیں جانا چاہتی ہے وہیں نیپال کے راستے ہندوستان آنے والی پاکستانی خاتون سیما حیدر کو خالی ہاتھ اپنے وطن واپس جانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ہندوستانی حکومتی ادارے سیما کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو ایجنسیاں سیما حیدر کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ بنا سکتی ہیں اور غیر قانونی طور پر ہندوستان آنا اس کی ڈی پورٹ کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔سیما سچن لو اسٹوری کیس سے متعلق ذرائع کے مطابق پاکستانی خاتون سیما غلام حیدر کو پاکستان واپس بھیجا جا سکتا ہے یعنی انہیں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سیما حیدر غیر قانونی طور پر پاکستان سے نیپال کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ اس کے پاس ہندوستان میں داخل ہونے کا کوئی ویزا نہیں تھا۔ یہی نہیں، سیما اپنے ساتھ 4 بچوں کو بھی غیر قانونی طور پر ہندوستان لے آئی ہے، جس کے بعد سیما کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اور اسے ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سے پہلے ایجنسیاں ہر قسم کی انکوائری کرنا چاہتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button