منی پور: خواتین کی برہنہ پریڈ کے معاملہ میں کلیدی ملزم گرفتار
منی پور تشدد اور خاتون کو برہنہ گھمانے پر عدالت عظمیٰ کا نوٹس
امپھال ، 20جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) منی پور میں جاری تشدد کے درمیان دو قبائلی خواتین کی برہنہ پریڈ کرانے کا معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ لوگ وائرل ہونے والی ویڈیو سے حیران و ششدر ہیں ،جبکہ حزب اختلاف نے حکومت پر حملہ بولا ہے اور ریاست کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔وہیں، خواتین کی برہنہ پریڈ کے معاملے میں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعے میں ملوث کلیدی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شخص کا نام کھوروم ہیراداس ہے اور اسے منی پور کے تھاوبل ضلع سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں اس نے سبز رنگ کی شرٹ پہن رکھی ہے۔ ہیراداس کی عمر 32 سال ہے، جس کی شناخت ویڈیو سے کی گئی ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور کے واقعہ پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کے مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ سے فون پر بات کی ہے۔
دریں اثنا، سپریم کورٹ نے منی پور کے اس سنسنی خیز معاملہ کا از خود نوٹس لیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا ’’منی پور میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ یہ پورے ملک کو شرمندہ کرنے جیسا ہے۔ میں تمام وزرائے اعلیٰ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ریاست کی ماؤں اور بیٹیوں کی حفاظت اور نظم و نسق کی صورت حال کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ منی پور کے واقعہ میں قصورواروں کو سخت ترین سزا ملے گی۔ خواتین کے ساتھ جو ہوا وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے درست نہیں ہے۔وہیں، منی پور کے اس ہولناک واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے ضروری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے کہاکہ ہم حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے تھوڑا وقت دیں گے ورنہ ہم خود قدم اٹھائیں گے۔
منی پور تشدد اور خاتون کو برہنہ گھمانے پر عدالت عظمیٰ کا نوٹس
سپریم کورٹ نے منی پور میں دو خواتین کی برہنہ پریڈ کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے خواتین کی پریڈ کے ویڈیو پر تشویش کا اظہار کیا اور چیف جسٹس (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ نے اس واقعہ کو روح کو جھنجھوڑ دینے والا بتایا ہے۔ منی پور واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ جمہوری ملک میں اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں عدالت کو مطلع کریں۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ وہ منی پور کی خواتین کی تصاویر سے بہت پریشان ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ویڈیو دیکھ کر ہم بہت پریشان ہیں۔ منی پور کی ویڈیو دل دہلا دینے والی ہے۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ریاستی حکومت اس پورے واقعہ کا فوری نوٹس لے گی کیونکہ ہمیں میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اس واقعہ کی اطلاع ملی ہے۔ اس ویڈیو نے ہماری روح کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ایک جمہوری ملک میں اس طرح کے واقعے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے اس قسم کا واقعہ روح کو ہلا دینے والا ہے… یہ آئین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین کے خلاف ایسے واقعات جمہوریت میں قابل قبول نہیں ہیں۔ حکومتوں کو فوری اقدامات کرنے چاہیے۔ سپریم کورٹ نے منی پور ریاستی حکومت سے پورے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔سی جے آئی نے مزید کہا، ‘آج کے حالات میں خواتین کے ساتھ یہ سب کرنا بنانا قابل قبول نہیں ہے۔ پرانے وقت میں جس طرح خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، اب ایسا نہیں ہوگا۔ یہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ آئندہ ایسے واقعات بند ہونے چاہئیں، اب کیس کی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔



