سیما حیدر کیس:جعلی کاغذات بنانے پرسچن مینا کے دو بھائی گرفتار
سیما حیدر ملک کیلئے خطرہ، ملک میں رُکنا خطرناک، فورا پاکستان بھیجو: شنکر اچاریہ
لکھنؤ ، 24جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پاکستان سے فرار مبینہ طور پر مرتد ہوکر ہندو مذہب میں داخل ہونے والی خاتون سیما حیدر ہر طرح کے دعوے کر رہی ہیں لیکن جب سے یوپی اے ٹی ایس نے اپنی جانچ شروع کی ہے۔ اس معاملے میں آئے روز نئے انکشافات ہو نے لگے ۔ اب اسی تناظر میں اتر پردیش کے بلند شہر سے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جن پر الزام ہے کہ اس نے اپنی طرف سے سیما اور سچن مینا کے لیے جعلی دستاویزات بنائے تھے۔گرفتار ملزمان کے نام پشپیندر مینا اور پون مینا ہیں۔ یہ دونوں بھائی ہیں اور ان میں ایک عوامی خدمت مرکز ہے جہاں وہ کام کرتے ہیں۔ اب الزام یہ ہے کہ سیما حیدر اور سچن ان بھائیوں کے پاس جعلی دستاویزات بنوانے آئے تھے۔
کچھ پیسوں کے عوض دونوں نے جعلی دستاویزات بنا کر دے دیا۔ اب اے ٹی ایس نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید پوچھ گچھ ہونے جا رہی ہے۔اب یہ پہلا انکشاف نہیں ہے جس کی وجہ سے سرحدی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ دن پہلے نیپال کے ایک ہوٹل کے مالک نے کہا تھا کہ سیما اور سچن وہاں ضرور ٹھہرے ہیں لیکن پھر سچن نے اپنا نام شیونش بتایا تھا۔ یعنی وہاں بکنگ بھی فرضی نام رکھ کر کی گئی۔ سیما حیدر نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس الزام کی تردید کی۔ ان کی طرف سے کہا گیا کہ ان کا نام چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔حال ہی میں سیما حیدر کی شادی کی تصویر بھی وائرل ہوئی تھی۔ وائرل تصویر میں سیما حیدر سچن کے ساتھ کھڑی ہیں، ان کے چار بچے بھی موجود ہیں۔ ایک اور تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں سیما سچن کے پاؤں چھو رہی ہیں۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیما نے خود دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سچن مینا سے اس سال 13 مارچ کو نیپال کے پشوپتی مندر میں شادی کی تھی۔ اس وقت تک اس شادی کا کوئی ثبوت نہیں ملا؛ لیکن اب اچانک تین ایسی تصویریں منظر عام پر آگئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی ہوئی ہے۔
سیما حیدر ملک کیلئے خطرہ، ملک میں رُکنا خطرناک، فورا پاکستان بھیجو: شنکر اچاریہ
ملک بھر میں میڈیا کے ذریعہ سنسنی بنائی گئی پاکستانی خاتون سیما حیدر کو لے کر جیوتش پیٹھ شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند سرسوتی نے بڑا بیان دے ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیما حیدر ملک کے لئے خطرہ ہے، اگر وہ زیادہ دیر تک ملک میں رہی تو ہندوستان کے ساتھ کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتاہے، اس لیے سیما حیدر نامی عورت کو جلد از جلد پاکستان بھیجو۔ انہوں نے یہ بات مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور ضلع میں واقع پرمہنسی گنگا آشرم جھوتیشور میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ سیما کو فوری طور پر ان کے ملک واپس بھیج دینا چاہئے۔
شنکر اچاریہ کے مطابق ایک وقت تھا جب سیاست مذہب کی سرپرستی میں ہوتی تھی، لیکن اب وہ سیاست نہیں رہی۔ اب سیاست ہو رہی ہے کہ عوام کو کیسے بے وقوف بنایا جائے؟وہیں گیان واپی کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ چاہتے تھے کہ شیولنگ کی پوجا کی جائے، پوجا کے لئے 108 گھنٹے اپواس پر بیٹھے رہے۔ ہمارے دیوتا، پرکٹ ہونے کے بعد بھی پوجیہ نہیں ہیں، ایسے میں ہمارے ملک کے کروڑوں سناتنی لوگ افسردہ ہیں۔جیوتش پیٹھ شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند سرسوتی نے مندروں میں ڈریس کوڈ کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جب کمپنیوں اور اسکولوں میں ڈریس کوڈ ہے تو مندروں میں بھی ڈریس کوڈ ہونا چاہئے۔بھگوان کے سامنے کیسا لباس پہن کر جانا چاہئے، یہ ڈریس کوڈ ہونا ضروری ہے۔ ہمارا بھی تو ڈریس کوڈ ہے۔



