سرورققومی خبریں

قادیانیوں کیلئے مودی سرکار کا نرم گوشہ,قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے پر مسلمانوں کو ڈال سکتا ہے پریشانی

مودی سرکار میں اب احمدیوں یعنی قادیانیوں کو کافر کہنا بہت سے مسلمانوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے

نئی دہلی، 25جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مودی سرکار میں اب احمدیوں یعنی قادیانیوں کو کافر کہنا بہت سے مسلمانوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ حال ہی میں وزارت اقلیتی امور کی جانب سے اس سلسلے میں ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کی وزارت نے تنقید کی ہے اور آندھرا پردیش وقف بورڈ کی اس تجویز کو واپس لینے کا حکم دیا ہے، جس میں بورڈ نے احمدیوں یعنی قادیانیوں کو کافر قرار دے کر انہیں غیر مسلم قرار دیا تھا۔آندھرا پردیش کی حکومت کو لکھے گئے خط میں اقلیتی امور کی وزارت نے وقف بورڈ کی تجویز کو نفرت انگیز مہم قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک بھر میں احمدیوں(قادیانیوں) کے خلاف ماحول بن سکتا ہے، جس سے انہیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری کے ایس جواہر ریڈی کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وزارت کو قادیانیوں کی طرف سے 20.7.2023 کو ایک میمورنڈم ملا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کچھ وقف بورڈ قادیانیوں کی مخالفت کر رہے ہیں، اور کمیونٹی کو دائرہ اسلام سے باہر قرار دینے کے لیے غیر قانونی قراردادیں پاس کر رہے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے، کہ یہ قادیانیوں کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مہم ہے۔وقف بورڈ کے پاس قادیانیوں سمیت کسی بھی کمیونٹی کی مذہبی شناخت کا فیصلہ کرنے کا نہ تو دائرہ اختیار ہے اور نہ ہی اس کے اختیار میں ہے۔وزارت نے کہا ہے کہ وقف ایکٹ 1995 بنیادی طور پر ہندوستان میں وقف املاک کے انتظام کے لیے ایک قانون ہے اور ریاستی وقف بورڈ کو اس طرح کے اعلانات کرنے کا کوئی اختیار فراہم نہیں کرتا ہے۔ 2012 میں، آندھرا پردیش اسٹیٹ وقف بورڈ نے ایک قرارداد پاس کی جس میں قادیانیوں غیر مسلم قرار دیا گیا۔اس قرارداد کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس نے قرارداد کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قادیانی یعنی احمدی خود کو مبینہ طور پر مسلمانوں کا ایک ذیلی فرقہ قرار دیتے ہیں، تاہم یہ محض کذب اور دجل پر مبنی ہے۔ یہ مذہب19ویں صدی میں پنجاب کے قادیان سے نمودار ہوا، جس کاداعی مرزا غلام احمدقادیانی تھا۔

یہ اپنی خود ساختہ نبوت کا دعویدار تھا،مسلم علماء اور اسکالروں نے اس سے مناظرہ بھی کئے ،اور بری طرح شکست فاش بھی دی ، جس میں علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور پیر مہر علی گولڑویؒ کا اسم گرامی آبِ زر سے لکھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے پیروکار مرزا غلام ا حمد کو مسیح موعود اور مجدد بھی گردانے میں دریغ نہیں کرتے۔خیال رہے کہ پوری دُنیا کے مسلمان باجماعِ امت قادیانیوںکو دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیتے ہیں۔

قادیانیوں کو مسلمان کہنا اسمرتی ایرانی کا بیجا اصرار اور غیر منطقی : جمعیۃ علماء ہند

نئی دہلی، 25جولائی (پریس ریلیز)جمعیۃ علماء ہند نے آندھرا پردیش وقف بورڈ کے ذریعہ قادیانیوں کے سلسلے میں قائم کردہ موقف کو درست ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پوری امت کا متفقہ موقف ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کا اصرار بیجا اور غیر منطقی ہے، کیوں کہ وقف بورڈ مسلمانوں کے اوقاف اور ان کے مفاد کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا ہے، جیسا کہ وقف ایکٹ میں لکھا ہوا ہے۔ اس لیے وہ کمیونٹی جو مسلمان نہیں ہے، اس کی پراپرٹی اور عبادت گاہیں اس کے دائرے میں نہیںہرگز آتیں۔ اسی کے مدنظر 2009ء میں آندھرا پردیش وقف بورڈ نے جمعیۃ علماء آندھرا پردیش کی نمائندگی پر یہ موقف قائم کیا تھا، وقف بورڈ نے فروری 2023 کے اپنے بیانیہ میں اسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔

جمعیۃ نے کہا ہے کہ دین اسلام کی بنیاد دو اہم عقیدوں پر ہے۔ (1) توحید، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کو اپنی ذات و صفات میں ایک ماننا، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دینا،:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خدا کے رسول اور آخری نبی ہیں، آپ پر وحی و نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور آپ کی شریعت آخری اور مکمل شریعت ہے۔ یہ دونوں عقیدے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں بھی شامل ہیں۔ان اسلامی عقیدوں کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسا نجی موقف اختیار کیا جو عقیدہ ختم نبوت کے سراسر خلاف ہے۔ اس اصولی اور واقعی اختلاف کی موجودگی میں قادیانیت کو اسلامی فرقوں میں شمار کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور امت اسلامیہ کے تمام ہی مکاتب فکر اس فرقہ کے غیر مسلم ہونے پر متفق ہیں۔

اس سلسلے میں معروف اسلامی تنظیم ’رابطہ عالم اسلامی‘ نے اپنے اجلاس 6 تا 10 اپریل 1974ء میں ایک سو دس ملکوں سے آئے ہوئے مسلم تنظیموں کے نمائندوں کے اتفاق رائے سے قادیانیت کے متعلق تجویز منظور کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ یہ گروہ اسلام سے خارج اور اسلام دشمن ہے۔اس کے علاوہ ماضی میں مختلف عدالتوں نے قادیانی کے سلسلے میں حکم جاری کیا ہے۔ 1935ء میں بہاولپورعدالت کا فیصلہ، 1912ء میں مونگیر کے سب جج کی طرف سے مسلمانوں کی مسجدوں میں مرزائیوں کے داخلہ پر پابندی، 1974ء میں متحدہ عرب امارات کی عدالت عالیہ کی طرف سے قادیانیوں کو ملک بدر کر دینے کی ہدایت، اسی طرح 1937ء میں ماریشس کے چیف جسٹس کے ذریعہ مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ صادر کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button