آشوب چشم یا آنکھ کے فلو میں سیاہ چشمہ پہننے کا مشورہ کیوں دیتے ہیں؟
ملک کے کئی حصوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث آشوب چشم جیسی خطرناک بیماری کے پھیلنے میں اضافہ ہوا
ملک کے کئی حصوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث آشوب چشم جیسی خطرناک بیماری کے پھیلنے میں اضافہ ہوا ہے۔ آشوب چشم میں عام طور پر آنکھ کا رنگ سرخ یا گلابی ہو جاتا ہے۔دراصل اس بیماری میں آنکھ کا پپوٹا اور سفید حصہ جسے آشوب چشم کہتے ہیں۔ اس کے اوپر کی جھلی سوجن ہونے لگتی ہے۔ جس کی وجہ سے انفیکشن ہوتا ہے۔ اس بیماری کی علامات میں آنکھ کا سرخ ہونا، سوجن، پانی کا خارج ہونا، آنکھوں میں خارش کا احساس شامل ہے۔ اس انفیکشن میں الرجی، جلن جیسے مسائل بھی شروع ہو سکتے ہیں۔
سیاہ چشمہ کیوں پہنتے ہیں؟
جب کوئی شخص آشوب چشم کا شکار ہونے لگتا ہے تو آنکھ تیز روشنی میں ٹھیک طرح سے نہیں کھل پاتی۔ گردوغبار یا آنکھوں کی جلن سے بچنے کے لیے آشوب چشم میں مبتلا ہونے پر ڈاکٹر سیاہ چشمہ پہننے کا مشورہ دیتے ہیں۔ آشوب چشم میں مبتلا کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے انفیکشن دوسرے لوگوں میں نہ پھیلے۔ تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ آشوب چشم کسی ایسے شخص کو دیکھنے سے نہیں پھیل سکتا جسے یہ ہے۔ سیاہ چشمہ پہننے کی وجہ یہ ہے کہ آنکھوں کو تیز روشنی سے بچایا جاسکے۔
اس کے علاوہ عینک پہننے سے قدرتی طور پر آنکھوں میں دھول اور ذرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ سیاہ چشمہ آپ کی آنکھوں کی دیکھ بھال کے لیے اچھا ہے تاکہ حالت مزید خراب نہ ہو۔
آشوب چشم کیسے پھیلتا ہے؟
آشوب چشم فومائٹس وائرس سے پھیلتا ہے، یہ بیماری ان لوگوں کے رابطے میں آنے سے پھیلتی ہے جن کو یہ وائرس پہلے سے موجود ہے۔ اگر اس بیماری کو روکنا ہے تو صفائی کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ جیسے بار بار ہاتھ دھوئیں۔ جس کے ساتھ یہ ہوا ہے اس کے ہاتھ کے لمس سے دور رہومصافحہ نہ کریں۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو بار بار اپنی آنکھوں کوہاتھ نہ لگائیں۔ اس سے بچنے کے لیے پہلی دوا اینٹی بائیوٹک ہے۔ یہ 2-3 ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔اگر زیادہ تکلیف ہوتو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔



