آسام میں نوجوانوں کیلئے راشٹریہ بجرنگ دل کا آتشیں اسلحہ تربیتی کیمپ
سنٹرل آرمڈ فورسیس کے ریٹائرڈ عہدیداروں کی خدمات کا حصول ، دستور کی پامالی اور قانون سے کھلواڑ
حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آسام میں مسلمانوں کی جملہ آبادی کا 40 فیصد ہے حالانکہ 2011 کی مردم شماری میں مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ یہ جملہ آبادی کا 34.22 فیصد ہے ۔ بہر حال ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کو لے کر فرقہ پرست جماعتوں اور تنظیموں میں کافی برہمی اور تشویش پائی جاتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان طاقتوں کو مسلم آبادی میں اضافہ سے ایک قسم کی چڑ ہے اور وہ حسد جلن میں مبتلا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ چیف منسٹر آسام سے لے کر بی جے پی ، بجرنگ دل ، وشوا ہندوپریشد اور ان تمام کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے قائدین وقفہ وقفہ سے اشتعال انگیز بیانات جاری کرتے ہیں حالانکہ سپریم کورٹ نے حالیہ عرصہ کے دوران مرکز و ریاستی حکومتوں کو واضح حکم دیا ہے کہ اشتعال انگیز بیانات جاری کرنے اور تقاریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کے وزیراعظم خود لباس دیکھ کر پہچاننے کی بات کرتے ہیں جب کہ ریاست کا چیف منسٹر مسلم سبزی فروشوں کا روزگار چھیننے کی دھمکیاں دیتا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ عناصر کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ان لوگوں نے سپریم کورٹ کے حکم کو بھی نظر انداز کردیا ہے ۔ ورنہ راشٹریہ بجرنگ دل کو آسام کے منگل دوئی میں ہندو نوجوانوں کو کھلے عام اسلحہ چلانے کی تربیت دینے کی ہمت و جرات کیسے ہوتی ۔ منگل دوئی کے مہارشی بدیا مندر میں اسلحہ کی تربیت کا یہ کیمپ ایک دن یا دو دن نہیں چلا بلکہ چار دن تک چلتا رہا ۔ لیکن حکومت آسام اور نہ ہی اس کی پولیس حرکت میں آئی بعد میں میڈیا کے ایک گوشہ نے اس بارے میں خبریں شائع کی اور تصاویر منظر عام پر لائی تب شائد آسام پولیس کو شرم آئی اور اس نے بڑی مشکل سے تعزیرات ہند کی دفعات 153A/34 کے تحت مقدمہ درج کیا ۔
درنگ پولیس کے ٹوئیٹ میں یہ بات بتائی گئی لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ مقدمہ آیا راشٹریہ بجرنگ دل کے خلاف درج کیا گیا ہے ؟ واضح رہے کہ نوجوانوں کو بندوقیں اور دوسرے اسلحہ چلانے کی تربیت کا یہ کیمپ 27 جولائی کو شروع ہوا اور اتوار 30 جولائی کو اختتام کو پہنچا ۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اس کیمپ میں نوجوانوں کو نہ صرف اسلحہ کی تربیت دی گئی بلکہ انہیں مارشل آرٹس ، تلوار بازی اور دوسری قسم کی لڑائیوں کی تربیت بھی دی گئی ۔ رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ سنٹرل آرمڈ فورسیس کے ریٹائرڈ عہدہ داروں نے 350 تا400 نوجوانوں کو تربیت دی ہے ۔ ترنمول کانگریس آسام یونٹ کے سربراہ ریپوتابورا کے مطابق دستور میں ایسی کوئی دفعہ نہیں جو نوجوانوں کو آتشیں اسلحہ ( بندوق ریوالور ) چلانے کی تربیت کو منصفانہ قرار دیتی ہو ۔ قانون اس طرح کے کیمپس کی اجازت نہیں دیتا ۔
Rashtriya Bajrang Dal gives firearms training to 350 Hindu youths to fight “love jihad” in Assam.#JaipurExpressTerrorAttack #FukraInsaan #HindusUnderAttack #Encounter pic.twitter.com/TmAOSauFJV
— Brut Bharat 👻 (@BrutBharat) August 1, 2023
افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی حکومت اس طرح کے غیر قانونی کیمپ پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا سرما بے شمار مدرسوں پر جہادی سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے بلڈوزر چلا چکے ہیں پھر وہ آتشیں اسلحہ چلانے کی تربیت دئیے جانے پر خاموش کیوں ہیں ؟ دراصل بی جے پی ملک بھر میں عوام کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کر کے اپنا سیاسی الو سیدھا کررہی ہے ۔ دوسری طرف روش کمار نے بھی اپنے پروگرام میں یہ سوال اٹھایا کہ آیا اس طرح کے کیمپس کا اہتمام کرنے کی اقلیتوں کو اجازت دی جائے گی ؟۔ اسی دوران اطلاع ملی ہے کہ پولیس نے ہر طرف سے تھوتھو کیے جانے پر دو افراد ہیمنتا پائنگ اور رتن داس کو گرفتار کرلیا ۔ دوسری رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ کیمپ ایک اسکول میں منعقد کیا گیا ۔ ہیمنتا اس اسکول کی انتظامی کمیٹی کا صدر ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ابھیجت گھوش نامی ایک شخص نے یوگا کیمپ کے بہانہ اسکول سے اجازت حاصل کی تھی۔



