قومی خبریں

مذہبی پیشوا کو ’بھگوان‘ قرار دینے کے عرضی گزار کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع

روحانی پیشوا سری سری ٹھاکر انوکول چندر کو بھگوان قرار دینے کی ہدایت دینے کا مطالبہ

نئی دہلی، 8اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک عرضی گزار کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جس نے پی آئی ایل دائر کرنے کے بعد عائد ایک لاکھ روپے جمع نہیں کرائے تھے۔ عرضی گزار نے روحانی پیشوا سری سری ٹھاکر انوکول چندر کو بھگوان قرار دینے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔جسٹس سی ٹی روی کمار اور پی وی سنجے کمار کی بنچ نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ جمع نہیں کیا اور اس کی ہدایات کی جان بوجھ کر نافرمانی کی، لہذا اس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے عرضی گزار پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب لوگ ایسی پی آئی ایل دائر کرنے سے پہلے کم از کم چار بار سوچیں گے۔

پی آئی ایل پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ درخواست مکمل طور پر غلط خیال پر مبنی ہے، جسے مثالی سزا کے ساتھ خارج کیا جانا چاہئے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آرڈر کی تاریخ سے چار ہفتوں کے اندر ایک لاکھ روپے اس کی رجسٹری میں جمع کرانا ہوں گے۔عرضی گزار اپیندر ناتھ دلائی نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، نیشنل کرسچن کونسل، رام کرشنا مشن کو شامل کیا تھا۔ اس معاملہ میں مٹھ، گوردوارہ بنگلہ صاحب، پالن پوری استھانک واسی جین ایسوسی ایشن، بدھسٹ سوسائٹی آف انڈیا وغیرہ کیس میں دیگر فریق ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ہر کسی کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے کا پورا حق ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button