گیان واپی مسجد میں چھٹے دن اے ایس آئی کا سروے گنبد کی نقش و نگار کی کاربن کاپی کی جائے گی تیار
گیان واپی مسجد احاطہ میں ’غیر ہندؤں‘ کے داخلہ پر پابندی کی درخواست خارج
وارانسی، 8اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی ٹیم آج چھٹے دن گیانواپی کمپلیکس کا سروے کرنے پہنچی۔ جہاں آج گنبد کی نقش و نگار کی کاربن کاپی تیار کی جانی ہے۔ انتظامی حکام کے مطابق سروے شروع کر دیا گیا ہے۔ دوپہر کو کھانے کا وقفہ ہوگا۔ نماز کے وقت سروے کا کام روک دیا جائے گا، پھر آگے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق سروے منگل کی شام 5 بجے تک جاری رہنا ہے۔ یہ سروے بدھ سے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار (جی پی آر) ٹیکنالوجی سے شروع ہو سکتا ہے۔ آئی آئی ٹی کانپور کے ماہرین کی ٹیم بدھ کی رات تک وارانسی پہنچ سکتی ہے۔اے ایس آئی نے گیانواپی سروے میں آئی آئی ٹی کانپور سے مدد مانگی ہے۔ آئی آئی ٹی کے پاس جدید ریڈار ہے۔ ریڈار سروے میں گیانواپی کیمپس کا نئے سرے سے مطالعہ کیا جائے گا۔
جی پی آر کی مدد سے زمین کے نیچے کی حقیقت کو کھدائی کے بغیر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مغربی دیوار کی تحقیقات سے حقیقت سامنے آئے گی۔ یہ حصہ ویاس کے تہہ خانے سے جڑا ہوا ہے۔ شرنگار گوری مندر تک پہنچنے اور باہر نکلنے کا راستہ بھی اسی طرف سے تھا۔ سروے میں تمام ثبوت مل جائیں گے۔ اسی لیے مغربی دیوار اور اس کے آس پاس کے علاقے میں سروے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، میپنگ اور اسکیننگ کی جا رہی ہے۔ آج پانچویں روز بھی اسی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔واضح رہے کہ گیانواپی معاملے میں مسلم فریق کی درخواست پر ہائی کورٹ میں 25، 26، 27 جولائی کو سماعت ہوئی تھی۔ 27 جولائی کو عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا اور 3 اگست کو جسٹس پریتنکر دیواکر نے انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی عرضی کو خارج کر دیا۔
عدالت نے کہا کہ انصاف میں سروے ضروری ہے۔ اس دلیل میں کوئی دم نظر نہیں آتی کہ اے ایس آئی دیوار کھودے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔مسلم فریق اس حکم کے خلاف 3 اگست کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جبکہ 4 اگست کو سپریم کورٹ نے سروے پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔
گیان واپی مسجد احاطہ میں ’غیر ہندؤں‘ کے داخلہ پر پابندی کی درخواست خارج
الہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی کے گیان واپی کیمپس میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے والی ایک پی آئی ایل کو خارج کر دیا ہے۔ یہ درخواست راکھی سنگھ اور دیگر کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ چیف جسٹس پریتنکر دیواکر اور جسٹس آشوتوش سریواستو کی ڈویژن بنچ نے اس پر سماعت کی۔اس پی آئی ایل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کیمپس میں غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی لگائی جائے اور گیان واپی کیمپس میں پائے جانے والے نام نہاد ہندو نشانات کو تب تک محفوظ رکھا جائے جب تک وارانسی کی ضلعی عدالت شرنگر گوری کیس پر فیصلہ نہیں دیتی۔
جے آئی ٹی میں کہا گیا کہ وارانسی میں شری آدی وشویشور مندر (موجودہ گیان واپی کیمپس) کے پرانے کھنڈرات کو بچانا ہے۔یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ متنازعہ جگہ پر ایک عظیم الشان مندر ہوا کرتا تھا (تصفیہ پلاٹ نمبر 9130 وارڈ اور دشاسوامیدھ وارانسی)، جہاں شیو نے خود جیوترلنگ کو نصب کیا تھا۔دعویٰ کیا گیا تھا کہ 1669 میں مغلیہ شہنشاہ اورنگزیب ؒنے اس مندر کو مبینہ طور پر تباہ کر دیا۔ایک حلقے کی طرف سے یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مذکورہ مندر کو تباہ کرنے کے بعد مسلمانوں نے غیر مجاز طور پر مندر کے احاطے میں گھس کر ایک عبادت گاہ تعمیر کی، جسے گیان واپی مسجد کہا جاتا ہے۔



