نئی دہلی،9اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) دیپا کرماکر Dipa Karmakar کا نام ایک جانا پہچانا نام ہے۔ 1993 میں تریپورہ میں پیدا ہونے والی دیپا نے 6 سال کی عمر میں جمناسٹک میں قدم رکھا تھا۔ 22 سال کی عمر میں دیپا نے ریو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر کے ملک کے لیے تاریخ رقم کی تھی۔ اولمپکس کی 52 سالہ تاریخ میں وہ ملک کی پہلی خاتون جمناسٹ تھیں ،جنہوں نے گیمز کے میگا ایونٹ میں حصہ لیا۔ دیپا کو ہندوستان میں جمناسٹک کی پوسٹر گرل مانا جاتا ہے۔ دیپا نے 2014 کے کامن ویلتھ گیمز میں خواتین کے جمناسٹکس میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔ دیپا یہ کارنامہ انجام دینے والی ملک کی پہلی خاتون جمناسٹ بنی تھیں۔دیپا کرماکر ریو اولمپکس میں چوتھے نمبر پر رہی تھیں۔ اس کے بعد سال 2018 میں ترکی کے شہر مرسین میں منعقدہ آرٹسٹک جمناسٹک ورلڈ چیلنج کپ میں گولڈ جیتا تھا۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی ملک کی پہلی خاتون جمناسٹ بنی تھیں۔ دیپا کرماکر کو گولڈن گرل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
دیپا اس سال یعنی فروری 2023 میں ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام ہوگئی تھیں۔ انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے مطابق دیپا کو بین الاقوامی جمناسٹک فیڈریشن کی جانب سے مقابلے سے باہر لیے گئے نمونے میں ممنوعہ دوا Hygenamine لینے کا قصوروار پایا گیا تھا۔ دیپا کے نمونے 21 اکتوبر 2021 کو مقابلے کے بعد لیے گئے تھے۔ اسی لیے ان پر 21 ماہ کی پابندی لگائی گئی تھی جو 10 جولائی 2021 تک نافذ رہی۔ چوٹ کی وجہ سے دیپا ٹیم سے باہر ہوتی رہیں۔ اس سے ان کے کیریئر پر بھی اثر پڑا۔ دیپا کا شمار ان چند جمناسٹوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ پروڈونووا کو اتارا۔ اسے جمناسٹکس میں انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ دیپا کو ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ایسے میں دیپا کے لیے ایک کھلاڑی کے طور پر قدم چھوڑنا، دوڑنا یا چھلانگ لگانا آسان نہیں تھا۔ کیونکہ جس کھیل میں دیپا شامل ہو اس میں ٹانگیں گھمانا ناممکن ہے۔ اس کے باوجود دیپا نے ضد کے سامنے اس کھیل میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اپنے خواب کو جیا۔ دیپا کو یہاں تک پہنچنے میں ان کے کوچ بشیور نندی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔



