ہریانہ میں نفرت کی کھیتی لہلہانے لگی ہے 50 پنچایتوں نے مسلم تاجروں کیلئے گاؤں میں ’نو انٹری‘ کا متعصبانہ فرمان
ریانہ کے نوح میں بھڑکائے گئے تشدد کے بعد اب حالات دھیرے دھیرے معمول پر ضرور آ رہے ہیں
نوح میوات ،9اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہریانہ کے نوح میں بھڑکائے گئے تشدد کے بعد اب حالات دھیرے دھیرے معمول پر ضرور آ رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے مسائل کم ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ہریانہ کی درجنوں پنچایتوں نے ایک ایساآمرانہ فرمان جاری کیا ہے جوسرتا پا تشویشناک ہے۔ دراصل تین ضلعوں ریواڑی، مہندر گڑھ اور جھجر کی 50 سے زائد پنچایتوں نے مسلم تاجروں کے داخلے پر روک لگانے سے متعلق خط جاری کیا ہے۔ سرپنچوں کے دستخط شدہ ان خطوط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں کو پولیس کے پاس اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات جمع کرنے ہوں گے۔حیران کن بات یہ ہے کہ بیشتر گاؤوں میں اقلیتی طبقہ کا کوئی بھی باشندہ نہیں ہے۔ چند ایک کنبے ہیں جو تین سے چار نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ارادہ کسی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا نہیں ہے۔نارنول (مہندر گڑھ) کے سَب ڈویژنل مجسٹریٹ منوج کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ انھیں خطوط کی کاپی ہاتھ نہیں لگی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر خط ضرور دیکھا ہے اور بلاک دفتر سے سبھی پنچایتوں کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجنے کو کہا گیا ہے۔
منوج کمار کا کہنا ہے کہ ایسے خط جاری کرنا قانون کیخلاف ہے۔ حالانکہ ہمیں پنچایتوں کی طرف سے ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے۔ مجھے ان کے بارے میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا۔ ان گاؤوں میں اقلیتی طبقہ کی آبادی 2 فیصد بھی نہیں ہے۔ہر کوئی خیر سگالی کے ساتھ رہتا ہے اور اس طرح کا نوٹس صرف اس خیر سگالی میں رخنہ ڈالے گا۔خط کیوں جاری کیا گیا، یہ پوچھنے پر مہندر گڑھ کے سیدپور کے سرپنچ وکاس نے کہا کہ نوح تشدد تازہ ٹریگر تھا، لیکن گاؤں میں گزشتہ مہینے جولائی میں چوری کے کئی معاملے درج کیے گئے تھے۔ وکاس کا کہنا ہے کہ سبھی افسوسناک واقعات تبھی پیش آنے شروع ہوئے جب باہری لوگ ہمارے گاؤں میں داخل ہونے لگے۔ نوح تشدد کے ٹھیک بعد ہم نے یکم اگست کو پنچایت کی اور امن بنائے رکھنے کے لیے انھیں اپنے گاؤں کے اندر نہیں آنے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب ان کے قانونی مشیر نے انھیں بتایا کہ مذہب کی بنیاد پر کسی طبقہ کو الگ کرنا قانون کے خلاف ہے، تو انھوں نے خط واپس لے لیا۔
وہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ کہ یہ خط سوشل میڈیا پر کیسے پھیلنے لگا۔ ہم نے اسے واپس لے لیا ہے۔وِکاس کے مطابق سیدپور خط جاری کرنے والا پہلا گاؤں تھا اور دیگر لوگوں نے اس کی پیروی کی۔انھوں نے کہا کہ مہندر گڑھ کے اٹالی بلاک سے تقریباً 35 خط جاری کیے گئے تھے۔ باقی جھجر اور ریواڑی سے جاری کیے گئے تھے۔ پڑوسی گاؤں تاج پور کے ایک باشندہ نے خط جاری کرنے کے لیے نوح تشدد کی خبر اور بڑے لوگوں (مضبوط لوگوں) کے اُکساوے کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن بڑے لوگوں سے فون اآئے اور ملاقاتیں ہوئیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ سامنے آ سکتا ہے۔مجموعی طور پر تقریباً 750 گھروں والے اس گاؤں میں اقلیتی طبقہ کا کوئی بھی کنبہ نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے بھی کہا کہ انھیں ایسی کوئی فکر نہیں ہے۔



