راہل گاندھی ایوان میں جارحانہ کیفیت میں آئے نظر کہا، منی پور میں بھارت کا قتل عام ہوا،اور حکومت سوتی رہی
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر دوسرے دن کی بحث کا آغاز
نئی دہلی،9اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر دوسرے دن کی بحث کا آغاز راہل گاندھی کی تقریر سے ہوا ہے۔ راہل گاندھی نے اسپیکر سے کہا کہ سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے میرے ایم پی کو بحال کیا۔ پچھلی بار جب میں نے بات کی تو مجھے بھی کچھ تکلیف ہوئی۔ راہل گاندھی نے کہاکہ میں کچھ دن پہلے منی پور گیا تھا۔ ہمارے وزیر اعظم آج تک نہیں گئے کیونکہ منی پور ان کے لیے ہندوستان نہیں ہے۔ میں نے منی پور کا لفظ استعمال کیا۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ منی پور زندہ نہیں رہا۔آپ نے منی پور کو تقسیم کیا، توڑ دیا۔ ریلیف کیمپ میں ہم گئے ، وہاں خواتین سے بات کی، بچوں سے بات کی، وزیراعظم نے آج تک ایسا نہیں کیا۔راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے پوچھاکہ بہن آپ کو کیا ہوا؟ اس نے کہاکہ میرا ایک ہی بچہ تھا، اسے میری آنکھوں کے سامنے گولی مار دی گئی۔ میں ساری رات اس کی لاش کے ساتھ لپٹی رہی ، میں ڈر گئی اور جو کچھ میرے پاس تھا اسے چھوڑ کر گھر سے نکل آئی۔
میں نے اس عورت سے پوچھا، اس کے سوا اپنے ساتھ کیا لائے ہیں، اس نے کہا کہ صرف کپڑے اور ایک تصویر ہے، جو میرے بچے کی ہے۔منی کی ایک نہیں، کئی مثالیںہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ نے بھارت کو منی پور میں مارا ہے۔آپ نے اس آواز کو منی پور میں مارا، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے منی پور میں بھارت ماتا کو مارا۔ آپ غدار ہیں، محب وطن نہیں۔ اس لیے آپ کا وزیراعظم منی پور نہیں جا سکتے، کیونکہ انہوں نے بھارت ماتا کو منی پور میں مارا ہے۔ آپ بھارت ماتا کے محافظ نہیں ،قاتل ہیں۔ راہل نے کہاکہ میں اپنی ماں کی بات کر رہا ہوں۔ تم نے میری ماں کو منی پور میں مارا۔ ایک ماں یہاں ایوان میں بیٹھی ہے۔
تم نے دوسری کو منی پور میں مارا۔راہل گاندھی نے کہاکہ فوج ایک دن میں وہاں امن قائم کر سکتی ہے۔ آپ ایسا اس لیے نہیں کر سکتے ۔اگر مودی جی منی پور کی آواز نہیں سنتے، اپنے من کی آواز نہیں سنتے تو وہ کس کی سنتے ہیں؟ راہل گاندھی نے کہاکہ وہ صرف دو لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ راون دو لوگوں کی باتیں سنتا تھا – میگھ ناتھ اور کمبھ کرن کی۔ اسی طرح مودی جی امیت شاہ اور اڈانی کے من کی بات سنتے ہیں۔لنکا کو ہنومان نے نہیں بلکہ راون کے ’اہنکار‘سے جلایا تھا۔ رام نے راون کو نہیں مارا، اس کی انا نے اسے مارا۔ آپ پورے ملک میں کیروسین چھوڑ رہے ہیں، آپ نے منی پور میں وہی کیا ، اور ابھی ہریانہ کے میوات میں وہی ہورہا ہے۔



