قومی خبریں

زیادہ بچے پیدا کرنے کو لے کر بدنام مسلمانوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں کمی

ملک میں مسلمانوں کی آبادی اور بچوں کی پیدائش کے حوالے سے اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں

نئی دہلی ،10اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ملک میں مسلمانوں کی آبادی اور بچوں کی پیدائش کے حوالے سے اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ لیڈروں سے لے کر عام لوگوں کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ مسلمان بہت تیزی سے بچے پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ ہندو اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ بچے کون جنم دے رہا ہے؟این ایف ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق کون زیادہ بچوں کو جنم دے رہا ہے؟ ہندو یا مسلمان، ملک کے تمام مذہبی گروہوں میں شرح پیدائش میں کمی آئی ہے۔ پچھلے 29 سالوں میں یعنی 1992 سے 2021 کے درمیان مسلمانوں کی شرح پیدائش میں سب سے زیادہ 46.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی ہندوؤں میں 41.2 فیصد کی کمی آئی ہے۔

جن ریاستوں میں مسلم آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے، وہاں شرح پیدائش 1.8 سے نیچے آگئی ہے۔ یعنی ان مسلم اکثریتی ریاستوں میں 5 خواتین اپنی زندگی میں اوسطاً 9 بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔ یعنی ایک مسلمان عورت کے لیے اوسطاً دو سے کم بچے۔پچھلے اعداد و شمار میں یہی صورتحال تھی، سال 2019-21 یعنی این ایف ایچ ایس5 میں ہندو خواتین کی شرح پیدائش 2.29، مسلم 2.66، سکھ 1.45 اور دیگر 2.83 تھی۔ یعنی سال 2015-16 کے مقابلے سال 2019-21 میں ہندو خواتین کی شرح افزائش میں 0.38 اور مسلمانوں کی شرح 0.44 تک کم ہوئی۔ جبکہ سکھ خواتین کی شرح پیدائش میں 0.07 اور دیگر کی شرح 1.08 بڑھی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button