تحقیق,ناشتہ نہ کرنے والے بچوں کی ذہنی صحت پر منفی
جو بچے صبح کے وقت ناشتہ نہیں کرتے ہیں، ان میں رویہ جاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایک طبی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے صبح کے وقت ناشتہ نہیں کرتے ہیں، ان میں رویہ جاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ناشتے کو پورے دن کا سب سے اہم کھانا تصور کیا جاتا ہے جس کے ذریعے دماغ اور جسم کو وہ ایندھن فراہم ہوتا ہے جس کے زور پر وہ پورے دن کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن اب کچھ سالوں سے لوگ اس خیال کو مشکوک سمجھنے لگے ہیں کیونکہ بعض جائزوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر وقفے وقفے سے فاقہ کیا جائے تو وزن گھٹتا ہے اور زندگی طویل ہو سکتی ہے۔ اب ایک نئی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ صبح کے وقت کچھ نہ کھانے سے نوجوانوں میں پریشان کن مسائل سامنے آ سکتے ہیں جن میں فکر، پریشانی، خود اعتمادی میں کمی اور چڑ چڑا پن شامل ہیں۔
ریسرچر ز نے اسپین میں 3700 بچوں کے والدین کا سروے کیا تھا تا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بچوں کے کھانے پینے کی عادتوں نے ان کے ذہنوں پر کیا اثر ڈالا ہے۔ ان بچوں کی عمر چار سال سے لے کر 14 سال تک تھی۔ اس جائزے کے مصنفین نے کہا ہے کہ ناشتے کا ناغہ کرنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ بچوں کو اس طرح صبح کے وقت وہ اہم غذائیتیں حاصل نہیں ہوتی ہیں اور دن بھر وہ اس کمی کو کسی طرح پورا بھی نہیں کر سکتے۔ جائزے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اسکول جاتے ہوئے راستے میں ناشتہ کرنا یعنی کسی کیفے یار یستوران میں ناشتہ کرنے سے بھی یہ مسائل اس طرح کم نہیں ہوتے جس طرح گھر پر ناشتہ کرنے سے ہوتے ہیں۔ جائزہ رپورٹ کے مصنف ڈاکٹر جوز فرانسسکو نے کہا ہے کہ ہمارے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ صرف ناشتہ کرنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ نوجوان افراد ناشتہ کہاں کر رہے ہیں اور ناشتے میں کیا لے رہے ہیں؟
ناشتے کا ناغہ کرنا یاگھر کے علاوہ کہیں اور ناشتہ کرنے سے بچوں اور کم عمر نوجوانوں میں رویہ جاتی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسپین میں 3772 بچوں کے والدین کا سروے کیا گیا تھا اور ان سے ان کے بچوں کے موڈ، خود اعتمادی اور فکر و پریشانی کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم کیا گیا تھا کہ بچوں کو ناشتے میں کیا دیا گیا اور انہوں نے یہ ناشتہ کہاں کیا؟ ریسرچرز نے بچوں کی عمر، جنس علاقہ اور ان کے ترک وطن کی حیثیت بھی معلوم کی۔
سروے کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ جو بچے ناشتے کا ناغہ کیا کرتے تھے ان میں ناشتہ کرنے والے بچوں کے مقابلے میں رویہ جاتی مسائل پیدا ہونے کا3.29 گنازیادہ امکان تھا اور جو گھر کے علاوہ کہیں باہر ناشتہ کرتے تھے ان میں اس قسم کے مسائل کا2.06 گنازیادہ اندیشہ تھا۔ ریسرچرز نے یہ بھی بتایا کہ کیفے اور فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں ناشتے میں کھائی جانے والی چیزیں کم غذائیت بخش تھیں۔ بچے جو خوراک لے رہے تھے، اس کا بھی ان کی ذہنی صحت پر اثر پڑ رہا تھا۔ ناشتے میں روٹی، ٹوسٹ اور دلیہ کی عدم دستیابی سے بھی ذہنی مسائل بڑھنے کا 31 فیصد امکان پایا گیا۔ اس کے مقابلے میں ناشتے میں پروٹین سے بھر پور انڈے، پنیر یا گوشت کے استعمال سے یہ خطرہ 44 فیصد کم ہو گیا تھا۔



