سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

پیش رفت,انسانوں میں کینسر کی تشخیص کیلئے ٹڈیوں کا استعمال

کینسر کی تشخیص کیلئے ٹڈی کے دماغ کو اس طرح استعمال کیا گیا

سائنس دانوں نے ٹڈیوں کے دماغ پر تجربات کے بعد کہا ہے کہ یہ حشرات انسانی خلیات کو سونگھ کر یہ بتاسکتے ہیں کہ یہ خلیات سرطانی ہیں یا غیرسرطانی۔مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ریسرچرز نے اپنے تجربات کے ذریعے یہ دریافت کیا ہے کہ اڑنے والے یہ حشرات تین اقسام کے منہ کے کینسر والے خلیات اور غیر سرطانی خلیات میں فرق واضح کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تکنیک بہت تیزی سے کینسر کی تشخیص کرسکتی ہے۔ اس وقت منہ کے کینسر کا سراغ لگانے کیلئے Swabs اور لیبارٹری میں اسکیننگ پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کے جائزوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کتوں اور چیونٹیوں جیسی مخلوقات کو انسانوں میں کینسر کا سراغ لگانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اس سلسلے میں تحقیق پر بہت زیادہ پیش رفت اس وجہ سے نہیں ہوسکی کہ سائنسدان اس قسم کے کام سے کوئی تجارتی فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ کینسر کی تشخیص کیلئے ٹڈی کے دماغ کو اس طرح استعمال کیا گیا کہ ریسرچر نے پہلے اس کے دماغ کو ایکسپوز کیا اور اس کی سونڈ میں برقیرے (Electrodes) لگائے جو مہک یا بو کی شناخت کرتے ہیں۔ تین اقسام کے منہ کے سرطانی خلیات جس طرح کی گیسز خارج کرتے ہیں، انہیں الگ الگ قید کیا گیا۔ اسی طرح غیرسرطانی خلیات سے خارج ہونے والی گیس بھی قید کی گئی اس کے بعد ان گیسز کو ٹڈی کی سونڈ پر ایکسپوز کیا گیا۔ ساتھ ہی سائنسدانوں نے ٹڈی کے دماغ میں ہونے والے ردعمل پر بھی نظر رکھی۔

ریسرچ کے نتائج میں دیکھا گیا کہ منہ کے کینسر کی تینوں قسموں کے خلیات نے ٹڈی کے دماغ میں منفرد اقسام کے برقی سگنلز کو متحرک کیا تھا۔ غیر سرطانی خلیات نے بھی بالکل الگ قسم کا سگنل ٹڈی کے دماغ کو روانہ کیا۔ اس جائزے کی قیادت کرنے والے بایومیڈیکل انجینئر ڈاکٹر دیباجیت سابا اور دیگر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہماری ریسرچ کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ انسانوں میں منہ کے کینسر کی تینوں مختلف قسموں اور غیر سرطانی خلیات میں لڈی کی سونڈ میں موجود بو کو شناخت کرنے کی صلاحیت آسانی سے تمیز کرسکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ طریقہ کار بہت حساس، معتبر اور تیز رفتار ثابت ہوا لیکن چونکہ اس تجربے میں کام کرنے والے 40 نیورونز کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے ریسرچ ٹیم کو چھ سے دس ٹڈیوں کے دماغ کو ایکسپوز کرنا پڑا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ منہ کے علاوہ دیگر اقسام کے کینسر کی شناخت کیلئے بھی یہ طریقہ کار کارگر ہوگا یا نہیں یا ٹڈی مریضوں کے پیشاب، سانس یا پسینے کو سونگھ کر بھی کینسر کا سراغ لگا سکتے ہیں یا نہیں۔

کینسر کا سراغ لگانے کیلئے فی الحال روئی کے پھائے میں لگے مواد (Swabs) کا تجزیہ کیا جاتا ہے جس کے نتائج دو سے دس دن کے بعد ملتے ہیں یا پھر متاثرہ حصے کی اسکیننگ کے ذریعہ کینسر کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ سابقہ ریسرچ سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ چھاتیوں اور پھیپھڑوں سمیت دیگر اقسام کے کینسر کا سراغ لگانے کیلئے کتوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جو مریضوں کی سانس کو سونگھ کر یہ ظاہر کرسکتے ہیں کہ متعلقہ شخص کینسر کا مریض ہے یا نہیں۔ فرانسیسی سائنس دانوں نے یہاں تک دریافت کرلیا ہے کہ چیونٹیوں کو بھی سرطانی اور غیرسرطانی خلیات میں تمیز کرنے کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً 54 ہزار امریکیوں میں منہ کے سرطان کی تشخیص ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر اس قسم کے مریضوں میں سے 60 فیصد کے بارے میں یہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ تشخیص کے بعد 5 سال سے زیادہ عرصہ جی لیں گے لیکن اگر ابتدائی مرحلے میں کینسر کی تشخیص ہوجائے تو زندہ بچ جانے والے مریضوں کی شرح 90 فی صد تک جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button