۔سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کی شکایت پر48گھنٹوں میں کارروائی ہوگی

نئی دہلی: (ارددودنیا.اِن)میڈیاکوکنٹرول کرنے کے بعدسوشل میڈیانشانے پرہے۔جہاں بی جے پی آئی ٹی سیل کوتوپوری آزادی ہے لیکن اپوزیشن کے کسان ا حتجاج پرپوسٹ پربھی کارروائی ہورہی ہے۔اب سوشل میڈیاکوقابوکرنے کی مبینہ کوششیں جاری ہیں۔
حکومت نے قابل اعتراض آن لائن پوسٹوں پرروک لگانے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ فی الحال شکایت کنندہ یا تو ان موادکوعدالت میں چیلنج کرسکتے ہیں یا جارحانہ ، دھمکی آمیز پوسٹوں سے پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنے کے لیے انہیں سوشل میڈیا ہینڈل کو رپورٹ کرسکتے ہیں۔چونکہ آئی ٹی ایکٹ میں نظر ثانی کے عمل میں تیزی آرہی ہے ،
حکومت ویب سائٹ بنانے پر غور کر رہی ہے،متبادل نظام کواختیارات حاصل ہوں گے
مرکزی حکومت سائبراسپیس سے متعلق امور کو تیزی سے نمٹانے کے لیے ایک متبادل نظام پر غور کررہی ہے۔متبادل نظام کو اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قابل اعتراض مواد کے خلاف شکایات کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ذرائع کے مطابق حکومت ایسے آپشن پر غور کر رہی ہے کہ جو لوگ آن لائن پرتشدد مواد کے بارے میں عدالتوں یاپولیس سے رابطہ نہیں کرنا چاہتے وہ انصاف پائیں یا اپنی شکایات کا جلد ازالہ کرسکیں۔
بی جے پی آئی ٹی سیل کے متنازعہ کمنٹ بھرے پڑے ملتے ہیں۔ ویب سائٹ بنانے کے لیے ایسے ہی ایک آپشن پر غور کیا جارہا ہے۔ جہاں آن لائن تشددیاقابل اعتراض پوسٹ کے متاثرین کی شکایات کا بروقت حل کیا جاسکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ایسے معاملات میں حل کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت کی حد پر 48 گھنٹوں پر غور کیا جارہا ہے۔



