بین الاقوامی خبریں

بحرین میں اسرائیلی سفارت خانہ کا باضابطہ افتتاح

اسرائیل نے بحرین میں اپنا سفارت خانہ باضابطہ طور پر کھول دیا ہے

منامہ،5ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے بحرین میں اپنا سفارت خانہ باضابطہ طور پر کھول دیا ہے۔دونوں ممالک نے تین سال قبل دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکا کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔اب امریکا اسرائیل کے ساتھ اسی طرح کے ایک معاہدے کے لیے سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ خطے میں اسرائیل کی سب سے بڑی سفارتی فتح ہوگی۔اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے بحرین کے دورے کے موقع پر منامہ میں سفارتی مشن کے افتتاح کی سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ان کے ہمراہ اسرائیلی تاجروں اور سرکاری حکام کا ایک وفد بھی منامہ آیا ہے۔کوہن نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ’’(بحرین) کے وزیرخارجہ اور میں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں براہ راست پروازوں کی تعداد، سیاحت، تجارتی حجم اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

بحرین کے وزیرخارجہ عبداللطیف الزیانی نے کہا کہ سفارت خانے کا افتتاح خطے کے تمام لوگوں کی سلامتی اور خوش حالی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔امریکہ کی ثالثی میں بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ معمول کے دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے لیے طے شدہ ایسے ہی متعدد معاہدوں کا حصہ تھا۔انھیں معاہد? ابراہیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ان پر متحدہ عرب امارات، مراکش اور سوڈان نے بھی الگ الگ دست خط کیے تھے۔بحرین میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اپنے روایتی حلیف الریاض پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایسے ہی معاہدے پر دستخط کرے۔تاہم الریاض نے اب تک امریکی دباؤ کی مزاحمت کی ہے اور اس اقدام کو دیگر مطالبات کے ساتھ اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام سے جوڑا ہے۔وہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے باضابطہ تعلقات سے پہلے مشرقِ اوسط کے اس دیرینہ تنازع کا عرب امن اقدام کے مطابق پائیدار حل چاہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button