سرورقگوشہ خواتین و اطفال

رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں-حافظ محمد الیاس

موجودہ دور میں رشتوں میں وہ مضبوطی نظر نہیں آتی جو کبھی ہوتی تھی۔

زندگی کا سارا حسن رشتوں ہی سے عبارت ہے رنگ و آہنگ،رونقیں خوشیاں شادابیاں رشتوں ہی سے مزین ہیں۔رشتہ خواہ والدین کا ہو، میاں بیوی، بہن بھائیوں کا ، دادا دادی ، دوست و احباب استاد شاگرد ہر رشتہ اپنی جگہ نہایت اہم ہےآج تمام تر سہولتوں کےباوجود ہم ذہنی سکون سے محروم ہیں۔تمام آسائشیں ہوتے ہوئے کچھ بھی پاس نہ ہونے کا غم ہے۔ ہر طرح کے آرام سامان تعیش کے ہوتے ہوئے بھی اکیلا پن ہے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟صرف اور صرف ایک ہی سبب ہے کہ ہم نے اپنے قریبی رشتوں کو فراموش کردیا۔زندگی کی جھمیلوں میں انتہائی پیارے رشتوں سے دور ہوگئے نتیجتا نقصان ہمارا ہی ہورہا ہے۔موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہےکہ ہمارے رشتوں میں مضبوطی نہیں ہے۔رشتوں میں مضبوطی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب آپس میں محبت ہو ۔یہی محبت آج ہماری زندگی سے غائب ہے۔

بھائی بھائی سے خفا، بہن بھائیوں میں لڑائی جھگڑا ، شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات، اور تو اور ماں باپ اور بچوں میں دوریاں۔ان دوریوں میں ہم اطمینان کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اطمینان حاصل کرنے کے لئے کبھی دوستوں کا سہارا تو کبھی کسی اور چیز کا۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ حقیقی خوشی ان سے حاصل نہیں ہوتی۔خوشی تو آپسی محبت سے حاصل ہوتی ہےمحبت پر استوار رشتے بہت مضبوط ہوتے ہیں اور بے حد نازک بھی کبھی تو یہ بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکرا جاتی ہے تو کبھی ذراسی ٹھیس شکستگی کا سبب بن جاتی ہے۔رشتے بنانا اصل نہیں بلکہ ان رشتوں کو نبھانا اہم ہے۔ یہ قول حضرت علی کی طرف منسوب ہے ، فرماتے ہیں۔رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں۔اگر احساس ہو تو اجنبی بھی اپنے ہوجاتے ہیں اگر احساس نہ ہو تو اپنے بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔ شاید ہم غیر شعوری طور پر اپنوں کو اجنبی بناتے جارہے ہیں۔

موجودہ دور میں رشتوں میں وہ مضبوطی نظر نہیں آتی جو کبھی ہوتی تھی۔رشتوں کو نبھانا، گھر کے بڑے، خاندان کے بڑے، گاؤں کے بڑے اور ان کے تعلقات استوار کرنا پہلے کبھی لوگ اسے زندگی کا اہم حصہ سمجھتے تھےآج حال یہ ہے کہ پڑوس میں کون ہے کئی سال تک اس کا ہمیں پتا نہیں ہوتا۔ رشتوں کی اہمیت کو سمجھیں۔خواتین میں عام طور پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث کرنے کا مزاج ہوتا ہے اور یہی مزاج رشتوں میں دراڑ پیدا کرتا ہے۔طنز اور بحث سے رشتے کمزور پڑجاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اپنوں سے اس طرح نہ لڑو کہ لڑائی تو جیت جاؤ مگراپنوں کو ہار جاؤ۔عام طور پر چھوٹی چھوٹی باتوں یاسنی سنائی باتوں پر رشتوں میں دوریاں پیدا ہوجاتی ہیں یاد رکھیں زندگی کی خوبصورتی رشتوں سے ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرناسیکھیں، زندگی خوبصورت بن جائے گی۔پھر ہمیں سکون کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے کی ضرورت نہیں ، زندگی پر سکون گزرے گی۔رشتے پودوں کی طرح ہوتے ہیں جو پانی نہ ملنے پر مرجھا جاتے ہیں۔زندگی میں زیادہ رشتوں کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ جور شتے ہیں ان میں زندگی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آج کل تو رشتے امیری اور غریبی کے ترازو میں تلنے لگے ہیں۔امیر رشتہ داروں کا بہت زیادہ خیال کیا جاتا ہے جب کہ غریب رشتہ داروں کی سالہا سال خیریت دریافت نہیں کی جاتی۔کسی نےسچ ہی کہا ہے ۔ٹوٹ جاتا ہے غریبی میں وہ رشتہ جو خاص ہوتا ہے ہزاروں یار بنتے ہیں جب پیسہ پاس ہوتا ہےکسی دانشور نے کہا تھا۔ رشتے کبھی نہیں مرتے، رشتوں کا ہمیشہ انسان قتل کرتا ہے۔ نفرت سے نظر اندازی سے ،غلط  فہمی سے۔

ان تینوں چیزوں پر غور کریں ، نفرت ، نظر اندازی اور غلط فہمی انتہائی خطرناک ہیں۔ ان سے خود کو بچانے کی از حد کوشش کریں۔رشتوں کو پیسوں میں نه تولیں ، غریب رشتہ داروں کو نظر انداز نہ کریں۔ رشتہ غریب کا ہو کہ مالدار کا، ہر رشتہ کی اہمیت ہے۔ بلکہ امیر رشتہ داروں سے زیادہ غریب رشتہ داروں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے۔شادی بیاہ میں خوشی کی محفلوں میں یا گھر کے کسی بھی کاج میں عام طور پر مالدار رشتہ داروں کو بہت اہتمام سے دعوت دی جاتی ہے جب کہ غریب رشتہ دار کی یاد آتی ہی نہیں اور اگر یاد آبھی گئی تو سرسری انداز میں دعوت دے دی جاتی ہے۔ اس دوہرے رویے سے ہمیں خود کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔رشتوں کی قدر کریں ۔ رشتوں کو نبھانا سیکھیں۔اس سے زندگی میں بےحد سکون محسوس ہوگا اور گھر جنت نما بن جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button