قومی خبریں

اجین ریپ:متأثرہ لڑکی کی مدد نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا امکان

ایم پی کے اُجین میں بربریت کا شکار ہونے والی 12 سے 15 سال کی لڑکی کی مدد نہ کرنے والوں کے خلاف بھی پولیس کارروائی

بھوپال، 30ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایم پی کے اُجین میں بربریت کا شکار ہونے والی 12 سے 15 سال کی لڑکی کی مدد نہ کرنے والوں کے خلاف بھی پولیس کارروائی کر سکتی ہے۔ مدد کے لیے پکارنے والی لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے لوگوں کیخلاف بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے قوانین کے تحت الزامات درج کیے جا سکتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے سینئر پولیس افسر نے جمعہ کو میڈیا کو یہ اطلاع دی۔ اجین کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) جینت سنگھ راٹھور نے کہا کہ اگر وہ کسی جرم کی اطلاع دینے یا مقدمہ درج کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کے قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اجین کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) جینت سنگھ راٹھوڈ نے کہا کہ کم از کم ایک ایسے شخص کی شناخت کی گئی ہے۔ ایک آٹو رکشہ ڈرائیور ہے، جسے اس معاملہ کی جانکاری تھی۔ لیکن اس نے جان بوجھ کر پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ آٹو رکشہ ڈرائیور۔ اس کی شناخت راکیش مالویہ کے طور پر کی گئی ہے، اس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ واقعہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج کا قریب سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسے مزید لوگوں کی شناخت ہوئی تو ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔پولس افسر نے کہا کہ آٹو رکشہ ڈرائیور نے لڑکی کو آٹو میں بٹھایا تھا۔ آٹو کی سیٹ پر خون کے دھبے ملے تھے، لیکن اس نے لڑکی کی حالت کے بارے میں پولیس کو نہیں بتایا،تاہم اجین کے ایس پی سچن شرما اس سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کچھ لوگوں نے رقم دے کر لڑکی کی مدد کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ویڈیو کو ٹریس کیا اور علاقے کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی، علاقے کے ایک یا دو لوگوں نے پیسے دے کر لڑکی کی مدد کی تھی، کسی نے اسے 50 روپے اور کسی نے 100 روپے کا نوٹ دیا۔پولیس نے جمعرات کو ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اس کی شناخت بھرت سونی کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ آٹو رکشہ چلاتا ہے۔ ملزم نے پولیس حراست میں رہتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تھی، چوٹ لگنے سے اس کی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی، فی الحال وہ ضلع اسپتال میں داخل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے 4 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے تاہم ان کی شناخت مخفی رکھی گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button