جب دلیپ کمار کا بائیکاٹ k آصف نے ختم کرایا-نثار احمد صدیقی
ان دنوں فلم مغل اعظم، بمبئی کے لیمیگٹن روڈ ( گرانٹ روڈ ) کے اپسرا تھیٹر میں چل رہی تھی۔
جو لوگ فلم مغل اعظم کی تعریف کرتے ہوئے آج بھی نہیں ٹھکتے انہیں شائد اس شاندار تاریخی شاہکار فلم ساز k آصف کے جیوٹ پن ، ان کی دریادلی اور تنگ مزاجی سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو، لیکن لگن کے پکے اپنے کام کے ساتھ ساتھ دوسروں کے خیالات کا قدر کرنے والے کے آصف ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جو اس زمانے میں بھی جلدی ملنا مشکل تھا۔ پھر آج کی تو بات ہی نرالی ہے۔ یہاں تو ہر کوئی ترم خاں بنا گھومتا ہے۔ دلیپ کمار سے کے. آصف کی دانت کٹی دوستی چل رہی تھی۔ دلیپ کمار اس وقت بھی اپنے بیباک خیالات سے وقت بہ وقت سیاست دانوں پر بھی تنقید کر دیا کرتے تھے۔
ایسی ہی تنقید انہوں نے بمبئی کے ایک پبلک میٹنگ میں یہاں کے گاڈ فادر مانے جانے والے شیو سینا سپر یمو بال ٹھاکرے کے بارے میں کر دی تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شیو سینا کارکنوں نے دلیپ کمار پر دھاوا بول دیا ۔ یعنی ان کے اور ان کی فلموں کے خلاف ابھیان چھیڑ دیا۔ ان دنوں فلم مغل اعظم، بمبئی کے لیمیگٹن روڈ ( گرانٹ روڈ ) کے اپسرا تھیٹر میں چل رہی تھی۔ پارٹی کارکنوں نے فلم کے پوسٹر، بینر پھاڑ کر پھینکا۔ دوسرے تھیٹروں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ اور دھمکی دی گئی کہ یہ فلم کسی بھی حالت میں بمبئی میں نہیں چلنے دیں گے۔ دلیپ کمارنے کے آصف کو فون کیا تو آصف نے ان سے پوچھا ” تم نے ایسی کون سی بات کہہ دی جو ٹھا کرے کو لگ گئی۔
دلیپ کمار نے جواب دیا ‘ بات ٹھاکرے کو نہیں بلکہ پارٹی ورکروں کو زیادہ لگی ہے۔ تب ہی وہ اتنی ادھم بازی مچارہے ہیں ۔ ” کے آصف نے کہا،آج شام ہم ٹھا کرے صاحب سے ملیں گے ۔ مگر دلیپ نے منع کیا اور کہا " بیکار اُن سے ملنا ہے، وہ بہت ضدی طبیعت کے مالک ہیں ۔ وہ آپ کی بات ہرگز نہیں سنیں گے ۔ مگر آصف اسی دن ٹھا کرے سے جا کر ملے اور اس ملن سے ہی اُنہوں نے نہ جانے ٹھا کرے پر کیسا جادو چلایا کہ مغل اعظم کے خلاف مچا ہوا ہلڑ ہنگامہ بالکل ختم ہو گیا۔ شیوسینا نے دلیپ کمار کے خلاف چلایا جانے والا ابھیان بھی ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ لیکن اب ان کے نشانے پر ساؤتھ کی فلمیں آگئیں ۔
ہندی فلموں کے کلا کاروں کو خاص کر مدراس کی فلموں میں کام کرنے سے روکا جانے لگا۔ ان ہی دنوں مالا سنہا کو مدراس کی کسی فلم کی شوٹنگ کے لئے جانا تھا مگر وہ بھی اس بات سے ڈر رہی تھیں کہ ائر پورٹ پر ان کو روک لیا جائے گا۔ مالا سنہا نے آصف صاحب سے کہا۔ وہ خود جو کھم اُٹھا کر مالا سنہا کو ساتھ لے کر ایئر پورٹ تک گئے اور وہاں ان کو رات کی فلائٹ سے روانہ کر کے ہی واپس لوٹے ۔ مشکل میں کام آنا کے آصف کی فطرت میں شامل تھا ۔ ان کی ہر فلم کی شوٹنگ کے در میان ضرورت مند لوگوں کی لائن لگا کرتی تھی ۔ ہر آدمی کو کام کی تلاش رہتی تھی ۔ اور وہ لوگ کے. آصف سے اپنی پریشانیاں بیان کرتے تھے ۔ سب کو تو کام دیا نہیں جا سکتا تھا۔
اس لئے آصف صاحب ایک ترکیب نکالتے تھے ۔ وہ یہ کہ لائن میں کھڑے ہوئے ہر آدمی کا میک اپ کرایا جاتا اور پھر شام کو اس کے بدلے کچھ روپئے دے کر رخصت کر دیا جاتا۔ پنجاب کے ایک چیف منسٹر آصف کے اچھے دوست ہوا کرتے تھے ۔ وہ پارٹی فنڈ کے لئے بمبئی آرہے تھے ۔ انہوں نے آصف سے رائے لی اور آصف نے ان کو بمبئی آنے کی دعوت دے ڈالی۔ چیف منسٹر بمبئی آئے ۔ آصف نے ان کے آنے کی خوشی میں ایک جلسہ کا اہتمام کیا، پھر چھوٹی سی تقریر کرنے کے بعد پچیس ہزار اپنی طرف سے دینے کا اعلان کیا۔
حالانکہ اس وقت ان کی حالت کافی خراب چل رہی تھی۔ ان کے بہی خواہوں نے ان کو ہوشیار بھی کیا کہ جب آپ خود اس وقت پریشانی سے گزررہے ہیں تو کسی سیاسی پارٹی کو اتنی بڑی رقم دینے کی کیا ضرورت ہے؟ آصف صاحب کا جواب تھا اگر میں شروعات نہیں کروں گا تو بے چارے چیف منسٹر صاحب کو دوسرے لوگ چندہ کیوں دیں گے؟ اور صحیح معنوں میں آصف صاحب کی دیکھا دیکھی وہاں جلسے میں موجود دوسرے دولت مند لوگ بھی۔زیادہ سے زیادہ چندہ دینے کا اعلان کرنے لگے۔ اپنی خراب حالت میں بھی ۲۵ ہزار سے چندہ دینے والے کے آصف کو آج بھی سیاسی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔!



