اپنے پیاروں کو بچائیں-پلاسٹک کے کھلونوں میں خطرناک کیمیکلز, پیش کش: شافع عبدالحنان افضل
پلاسٹک کے وہ کھلونے جنہیں عام طور پر شیر خوار اور بچے منہ میں ڈالتے ہیں یا کھیلتے کھیلتے منہ میں لے جاتے ہیں مثلاً..
پلاسٹک کے وہ کھلونے جنہیں عام طور پر شیر خوار اور بچے منہ میں ڈالتے ہیں یا کھیلتے کھیلتے منہ میں لے جاتے ہیں مثلاً گڑیا یا مجسمے نما چیزیں اور دیگر ہلکے پھلکے کھلونے، یہ ساری چیزیں ان کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ ایک طبی جائزے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے اکثر کھلونوں میں زہریلے کیمیکلز کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہوتی ہے جو کم عمر بچوں کی نشو و نما میں خلل ڈال سکتی ہے اور ان کی وجہ سے بعد کی زندگی میں کینسر اور بانجھ پن کی شکایات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
سوئیڈن کے ریسرچر ز نے 150 نئے اور پرانے کھلونوں میں دو نقصان دہ زہریلے کیمیکلز کی سطح کی جانچ پڑتال کی تھی۔ نئے 100 کھلونوں میں سے 13 فیصد میں ان کیمیکلز کی مقدار یورپی یونین اور برطانیہ کی قانونی منظور شدہ حد سے زیادہ تھی جبکہ 80 فیصد سے زیادہ پرانے کھلونوں میں منظور شدہ قانونی مقدار سے تجاوز کیا گیا تھا۔
بعض پرانے کھلونوں میں ’’ہمیشہ برقرار رہنے والے کیمیکلز (Forever Chemicals) قانونی حد سے 400 گنا زیادہ تھے۔یہ وہ کیمیکلز ہیں جو جسم میں موجود رہتے ہیں اور خارج ہونے میں برسہا برس لگاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف گو تھین برگ کے ماہرین نے 157 مختلف اقسام کے کھلونوں کی جانچ پڑتال کی تھی جن میں گیند، گڑیاں اور لباس پر سجانے والی اشیاء شامل تھیں۔
وہ لوگ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کھلونوں اور آرائشی چیزوں میں ’’تھالیٹس‘‘(Phthalates) یا کلور پینٹیڈ پیرافین کی کتنی مقدار موجود ہے۔ ان میں پہلی قسم کے کیمیکلز تو پلاسٹک کو زیادہ پائیدار بنانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں جن کو اکثر Plasticisers کہا جاتا ہے جبکہ آخری الذکر کیمیکلز کھلونوں کو آگ سے محفوظ بنانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں اور انسانوں کیلئے زہر یلے سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ تھالیٹس سے دمہ، چھاتی کے سرطان، مٹاپا، ذیا بیطس، کمتر آئی کیو (ذہنی صلاحیت)، نشو و نما اور بانجھ پن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
باور کیا جاتا ہے کہ ایک بار یہ پائیدار قسم کے کیمیکلز جسم میں داخل ہو جائیں تو وہ جسم کے اندرونی نظام میں مداخلت کرنے لگتے ہیں اور DNA میں خلل ڈالتے ہیں جس سے کینسر ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ میں قانون بنایا گیا ہے کہ تیار کنندہ کمپنیاں کھلونے کے کل وزن کا 0.1 فیصد سے زیادہ تھالیٹ استعمال نہیں کر سکتی ہیں جبکہ چھوٹے کھلونوں میں کلور پینٹیڈ پیرافن کی حد 0.15 فیصد مقرر کی گئی ہے لیکن جائزے میں یہ دیکھا گیا کہ نئے کھلونوں میں سے 30 فیصد میں ان اہداف سے تجاوز کیا گیا تھا جبکہ پرانے کھلونوں میں ان حدود کو بری طرح پامال کیا گیا تھا۔
84 فیصد پرانے کھلونوں میں یہ کیمیکلز غیر قانونی سطح تک شامل تھے۔ اس ریسرچ کی قیادت کرنے والے پروفیسر بیتھانی کار نے بتایا کہ بہت سی پرانی گیندوں میں کھلونے کے وزن کا 40 فیصد سے زیادہ تھا لیٹس شامل تھے جو قانونی حد سے 400 گنازیادہ تھا۔ اس جائزہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ کسی بھی چیز کو دوبارہ استعمال کرنا یاری سائیکل کرنا، ہمیشہ کوئی اچھا عمل نہیں ہوتا ہے۔



