غیر قدرتی تغذیہ,گردوں کیلئے نقصاندہ غذائیں-امۃ المعیز فرزانہ افضل,بنگلور
سوڈا یا کار بونیٹڈ مشروبات میں کاربن ڈائی آکسائڈ گیس شامل کی جاتی ہے
سوڈا مشروبات
سوڈا یا کار بونیٹڈ مشروبات میں کاربن ڈائی آکسائڈ گیس شامل کی جاتی ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو بذریعہ دبائو مشروبات میں شامل کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ ان میں بلبلے اور جھاگ پیدا ہوتے ہیں اور پینے میں خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ لیکن خبر دار رہیں کہ بہت زیادہ سوڈا مشروبات پینے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے، گردے کی کار کرد گی گھٹ سکتی ہے اور گردے میں پتھری بنے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ بہت زیادہ شکر ملے جھاگ دار مشروبات اور کینسر میں تعلق پایا جاتا ہے۔ ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے میں دو سو ڈا ڈرنکس پینے سے لبلبے انسولین پیدا کرنے کی رفتار تیز کر دیتے ہیں اور اس کی مقدار بڑھا دیتے ہیں جس سے لبلبے کے سرطان کا خطرہ دوگنا ہو سکتا ہے۔
انسولین ایک ہارمون ہے جو لبلبہ پیدا کرتا ہے اور یہ ہارمون غذا اور مشروبات سے شکر الگ کر کے دوران خون میں شامل کرتا ہے جہاں خلیات انہیں استعمال کر کے توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ اگر خون میں انسولین کی سطح بلند ہو جائے تو اس سے صحت کے بہت سے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں جن میں ذیا بیطس اور امراض قلب شامل ہیں۔ کاربونیٹڈ مشروبات اگر حد سے زیادہ استعمال کئے جائیں تو اس سے دل کے امراض کے علاوہ الزائمر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، وقت سے پہلے بڑھا پا آسکتا ہے اور فربہی نمایاں ہو سکتی ہے۔ اس قسم کے میٹھے مشروبات کے ایک کین میں 10 چائے کے چمچے کی مقدار شکر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی مٹھاس اور کیفین بھی ان میں شامل کی جاتی ہیں۔ آپ سوڈا مشروبات کی جگہ پھلوں کے تازہ جوس، ناریل کا پانی اور سبزیوں کا جوس استعمال کرسکتے ہیں۔
سگریٹ نوشی
نیشنل کڈنی فائونڈیشن کی طرف سے شائع شدہ ڈیٹا کے مطابق سگریٹ نوشی کی وجہ سے امریکہ میں ہر سال پانچ میں سے ایک موت ہوتی ہے اور وثوق سے کہا جاتا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کر کے بہت سی بیماریوں کا خطرہ گھٹایا جاسکتا ہے۔ صرف ایک سگریٹ میں 4800 سے زیادہ کیمیکلز ہوتے ہیں اور ان میں سے 69 کیمیکلز ایسے ہیں جو سرطان میں مبتلا کر سکتے ہیں۔
سگریٹ نوش حضرات اور خواتین نہ صرف پھیپھڑے، مثانہ اور منھ کے کینسر سے دوچار ہو سکتے ہیں بلکہ اس عادت کی وجہ سے ان میں پھیپھڑے اور دل کی بیماری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خواتین حمل کی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہیں۔ سگریٹ پینے والے فالج اور گردے کے مسائل میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ سگریٹ پینے کی بری عادت خون کے بہائو میں کمی لاتی ہے۔ خون کی نالیوں کو تنگ کر دیتی ہے اور چھوٹی شریانوں (Arterioles) کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ شریانیں وہ ننھی اور بار یک شاخیں ہیں جو شعری رگ سے جاملتی ہیں۔
اینلز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سگریٹ نوش حضرات میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں ذیا بیطس کا خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ سگریٹ پینے سے تمام اہم اعضاء تک خون کا بہائو سست ہو جاتا ہے اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کیلئے جو دوائیں کھائی جاتی ہیں،ان کی تاثیر بھی متاثر ہوتی ہے۔
بلڈ پر یشر اگر کنڑول میں نہ ہو تو گردے کی بیماری بہت تیزی سے جگہ بنانے لگتی ہے۔ صحت پر خراب اثرات صرف سگریٹ پینے والوں پر ہی نہیں پڑتے بلکہ جو لوگ خود سگریٹ نہیں پیتے ہیں لیکن دوسرے لوگوں کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تمباکو کادھواں ان کے جسم میں بھی سانس کے ذریعے جاتا ہے، وہ بھی خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔اس کو سیکنڈ ہینڈ اسموک‘‘ کہتے ہیں اور امریکہ میں ہر سال تقریباً 50 ہزار افراد بالواسطہ سگریٹ نوشی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اپنی اور اپنے آس پاس موجود پیاروں اور دوستوں کی خیر خواہی کی خاطر اس بری عادت کو ترک کر دیں۔
جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذائیں
جینیاتی طور پر تبدیل شدہ نامیاتی عناصر (Genetically Modified Organisms)جدید بایوٹیکنو لوجیکل شعبے کا کار نامہ ہے جس میں نامیاتی عناصر یا غذائوں کے ڈی این اے کو اس طرح تبدیل کر دیا جاتا ہے جو قدرتی طور پر موجود نہیں ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذائوں کا ذائقہ اور معیار قدرتی حالت میں ملنے والی غذائوں سے بہتر ہوتا ہے اور انہیں زیادہ عرصے تک استعمال کے قابل رکھا جاسکتا ہے۔
جینیاتی تبدیلی سے غذائی اشیا کی رنگت تبدیل کی جاسکتی ہے۔ انہیں خوشنما بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے سائز میں اضافہ بھی ممکن ہے اور پیداوار بھی بڑھائی جاسکتی ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن (FDA) کا بھی یہ کہنا ہے کہ GMO غذائیں ان قدرتی غذائوں جیسی ہی محفوظ ہوتی ہیں جنہیں جینیاتی طور پر تبدیل نہیں کیا گیا ہے تاہم مصر کے ریسرچرزنے اپنے جائزے میں یہ دیکھا ہے کہ چوہوں کو جب جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سوئے (Soy) کھلائی گئی تو ان دوں، جگر، خون حتی کہ ڈی این اے میں بھی زہر یلا مواد خطر ناک حد تک جمع ہو گیا تھا۔
GMO غذائوں کے خطرات سے محفوظ رہنے کیلئے کوشش یہ کی جانی چاہئے کہ 100 فیصد قدرتی غذائیں استعمال کی جائیں۔ محتاط سائنسدان یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ گوشت ان مویشیوں کا کھایا جائے جو کھلی چراگاہوں میں گھاس چھرتے ہیں اور انڈے بھی دیسی مرغیوں کے استعمال کئے جائیں لیکن دورِ حاضر میں یہ بہت مشکل کام ہے۔



