سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

داڑھی تمام مذاہب میں سربلندی کا باعث,حضرت رحمۃ اللہ علیہ

اس زمانہ میں داڑھی مرد کی زینت اور مردانگی کی علامات میں سے تصور کی جاتی تھی

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کی پوجا بنی اسرائیل کرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ اپنے چھوٹے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کا نگراں بنا کر گئے تھے ۔ تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے مؤاخذہ کے طور پر حضرت ہارون ؑ کی داڑھی پکڑلی ، جس کا کلام پاک میں ذکر کیا گیا ہے۔

اس زمانہ میں داڑھی مرد کی زینت اور مردانگی کی علامات میں سے تصور کی جاتی تھی اور داڑھی کا منڈانا عیب سمجھا جاتا تھا، اس لئے ہرکس وناکس داڑھی رکھتا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا کہ ’’اسلام کی فطرت مونچھوں کا لینا (کٹوانا) ہے اور داڑھی کا بڑھانا ہے، اس لئے کہ مجوسی لوگ اپنی مونچھوں کو بڑھاتے ہیں اور داڑھی کو کٹواتے ہیں،لہٰذا ان کی مخالفت کرو، مونچھوں کو کٹوایا کرو اور داڑھی کو بڑھایا کرو۔‘‘حضور اکرم e کے زمانہ میں یہود ونصاریٰ بھی داڑھی رکھتے تھے، لیکن آگ کی پوجا کرنے والے پارسی داڑھی منڈواتے تھے اور مونچھوں کو بڑھاتے تھے۔

آج کے نوجوانوں کو سن کر تعجب ہوگا کہ اسلام کے کٹر دشمن عقبہ ،شیبہ ، ابوجہل ،ابولہب بھی داڑھی رکھتے تھے ، گویا داڑھی ہرمرد رکھنا ضروری سمجھتا تھا کیوں کہ عورتوں کو سرکے بال سے اللہ تعالیٰ نے زینت بخشی اور داڑھی سے مردوں کو وقار عطا فرمایا،مردوں کے چہروں پر داڑھی سے رعب و دبدبہ اور چہرے کی خوبصورتی قدرتی امور میں سے ہے۔

آج جولوگ یعنی مسلمان اپنے چہروں کو داڑھی سے مزین نہیں رکھنا چاہتے ۔ اور دشمنا نِ اسلام کی تقلید کرتے ہیں وہ اس معاملہ میں ابوجہل ابولہب سے بھی بدتر ہیں کہ ان لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا اور آخر تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی لیکن داڑھی جیسی قدرتی نعمت اور عطاکو اپنے چہروں سے علیحدہ نہ کرسکے۔

داڑھی کے ثبوت کے چار طریقے

اگر انبیاء علیہم السلام کسی چیز کا استحسان ظاہر فرمائیں تو عقل ودانش کا تقاضا یہ ہے کہ اسے قبول کیا جائے اور اگر کسی چیز کو پسند یدہ نگاہوں سے دیکھ کر خود اپنا اسوہ بنالیںتو منہاج نبوت کے عقیدت مندوں کا خوشگوار وظیفہ یہی ہونا چاہئے کہ وہ بھی اسے دستور العمل بنالیں اور اگر یہ مقدس طبقہ کسی چیز کے بارے میں ترغیبی کلمات بھی استعمال فرمائے یعنی دوسروں کے حق میں بھی اسے پسند کرے تب تو وہ حرز جان بنالینے کے قابل ہے اور اگر اس سے آگے ہوکر کسی چیز کو وہ اپنی امت کے حق میں ضروری قرار دیں تو اس کیلئے تو سرتا پا تعمیل اور اس کے خلاف سے سرتا پا گریز بن جانا چاہئے ظاہر ہے کہ کسی چیز کی مشروعیت یا خدائی دستور کے جزو ہونے کی یہی چار صورتیں ہوسکتی ہیں کہ یا وہ بذات خود مستحسن کہی جائے یا اسوۂ پیغمبر ہو یااس کے بارے میںترغیبی عنوان اختیار کیا گیا ہو اور یا اس کا صریح امر ونہی کیا گیا ہو۔

اب اگر کسی چیز میں یہ چاروں طریقے اختیار کئے گئے ہوں کہ وہ خود بھی اچھی بتائی گئی ہو اسوۂ پیغمبر بھی ہو اس کی ترغیب بھی دی گئی ہو اور اس کا امر بھی کیا گیا ہو تو اس سے زیادہ اس کے شرعی ہونے کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ داڑھی کے مسئلہ میں حسن اتفاق یہ چاروں وجود مشروعیت جمع ہیں۔
داڑھی رکھنا کسی دلیل کا محتاج نہیں

ٹھیک اسی طرح داڑھی رکھنا بھی فطرتاً بتلایا گیا ہے گویا اس کا ہونا تو اصل ہے اور نہ ہونا خلاف اصل ہے پس اس کے رکھنے کا ارادہ اور وقوع اصلی ہے جو انسان کی سرشت میں پڑا ہوا ہے کسی عارضی یا خارجی قوۃ سے اسے بے وجہ سمجھا نہیںگیا ہے کہ وہ باہر کے دباؤ سے اسے مان رہا ہے اور وہ چونکہ اصل اور بمنزلہ صحت کے ہے تو اس کیلئے کسی خاص سبب یا تعلیم وتلقین یا دلیل کی حاجت نہیں صرف سلامتی طبیعت کا فی ہے البتہ ریش تراشی چونکہ خلاف اصل اور بمنزلہ مرض کے ہے اس لئے وہ ضرورکسی بیرونی عارضہ اور دباؤ سے ہی ہوسکتی ہے۔ جس کے سبب اورمحرک کی تلاش کی جائے گی اور وہ بھی اس لئے کہ اس سبب کا ازالہ کرکے اس کے خلاف اصل مرض کو زائل کیا جائے نہ کہ اس لئے کہ ان غیر طبعی عوارض کو جنہوں نے ریش تراشی پر آمادہ کیا تھا اصل قرار دے کر ریش تراشی کو صحت سمجھ لیا جائے اور اسے پالا پوسا جائے ۔

بہرحال داڑھی کے منکر وں کے مقابلہ میں سب سے بڑی اور سب سے پہلی دلیل تو یہی ہے کہ اسے فطرۃ کہہ کر مُسْتَغْنٰی عَنِ الدَّلِیْلُ بتلایا گیا ہے۔ جو سودلیلوں سے بڑھ کر دلیل ہے گویااس کے ثبوت اور وقوع کے لئے دلیل کا مطالبہ ہی نہیں کیا جاسکتا کہ طبیعت کا اندرونی تقاضا ہی اس کے لئے دلیل ہے جبکہ وہ صحت ہے مرض نہیں دلیل کا مطالبہ اگر ہوسکتا ہے تو داڑھی کے منکروں سے ہوسکتا ہے جو ایک خلاف فطرۃ کامکررہے ہیں مگر وہی آج تک داڑھی منڈانے یا ترشوانے کی کوئی معقول حجۃ بجز شوقینی نفس یا کسی غلط رواج او رماحول کی اندھی تقلید کے پیش نہیں کرسکے ہیں مگر اس دور کے عجائبات میں سے ایک عجوبہ ہے کہ داڑھی نہ رکھنے والے داڑھی والوں سے دلیل کا مطالبہ کررہے ہیں حالانکہ یہ حق داڑھی والوں کاہے کہ وہ منڈوانے والوں سے حجۃ طلب کریں۔

پس آج کے لوگوں کا یہ کہنا کہ داڑھی رکھنے کی آخر دلیل کیاہے جو علماء ہم سے داڑھی رکھنے کامطالبہ فرماتے ہیں ایک مہمل اور لایعنی سوال ہے ۔ معقول سوال یہ ہے کہ آخر داڑھی نہ رکھنے کی کیا دلیل ہے ؟ کیونکہ سوال صحت کی وجہ کا نہیں ہوتا بلکہ مرض کی وجہ کا ہوتا ہے۔ طبیب کسی کے گھر کبھی اس لئے نہیں جاتا کہ اہل بیت کی تندرستی کی وجوہ دریافت کرتا پھر ے کہ وہ اصل ہے اور اصل کیلئے دلیل کی ضرورت نہیں اور وجودی چیز ہے اور وجود اپنی دلیل خود ہے ۔

داڑھی پر اجماع انبیاء

پھر اس سنت کے لفظ کو احادیث طیبہ میں کسی ایک رسول یاایک ہی نبی کی طرف منسوب نہیں کیا گیا بلکہ سنت المرسلین(سارے رسولوں کی سنت) کہہ کر تمام انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب کیا گیا ہے جس سے داڑھی رکھنے کا مسئلہ اجماع انبیاء سے ثابت شدہ مسئلہ نکلتا ہے۔

داڑھی اور تعامل انبیاء

پھر کسی ایک پیغمبر سے بھی داڑھی منڈانا ، یاپست کرانا ثابت نہیں اوراس سنت کے عمل سے کوئی ایک نبی بھی مستثنیٰ نہیںہے اس لئے داڑھی رکھنے کاعمل تعامل انبیاء سے بھی ثابت ہوجاتا ہے جو اس کے لازم العمل ہونے کی دلیل ہے۔

داڑھی تمام ادیان وشرائع میں ضروری ہے

دوسرے لفظوں میں اسی جماعت کو سامنے رکھ کر یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ داڑھی کاطریقہ کسی ایک دین اور شریعت کا مسئلہ نہیں بلکہ کل شرائع و مذاہب کا اجمالی طریقہ ہے۔

داڑھی تمام اقوام وملل کا متفقہ مسئلہ ہے

جب کہ دنیاکی ہرقوم وملت کسی نہ کسی مذہب ہی سے تشکیل یافتہ ہے تو کہہ سکتے ہیںکہ یہ مسئلہ تمام اقوام وملل کا مسئلہ ہے جس پر قول کا اجماع ہے پس جہاں لفظ فطرۃسے طبعی رنگ میں یہ مسئلہ اجماع اقوام وملل کا اجماعی مسئلہ نکلتا تھا، وہیں اس اجماع شرائع سے یہ مسئلہ شرعی رنگ میں بھی امتوں کا اجماعی مسئلہ ثابت ہوجاتا ہے پس داڑھی بڑھانے کے بارے میں اگر ایک امت کا اجماع کسی مسئلہ کے ثبوت کیلئے شرعی حجۃ ہوسکتا ہے تو تمام اولین وآخرین کا اجماع اور بلا استثنیٰ سارے انبیاء ورسل اور سارے اولیاء و علماء کا اجماع آخر کس طرح حجۃ نہیں بنے گا؟

دریں صورت اس مسئلہ کی ضرورت سے انکار کرنا گویا تمام شرائع اور تمام انبیاء کے ایک مشترکہ شرعی تقاضے کا انکار اوران کی عملی تکذیب ہے سو اگر ایک امت کے اجماعی مسئلہ کا انکار فسق ہے تواقوام عالم اور اولین وآخرین کے اس کھلے اجماعی مسئلہ کا انکار فسق کے کس درجہ کو پہنچا ہوا ہوگا ؟بہر حال لفظ فطرۃ لفظ سنت پھر لفظ مرسلین سے داڑھی رکھنے کی نظری ضرورت ہی نہیں بلکہ عملی ضرورت بھی ثابت ہوجاتی ہے جو اس مسئلہ کی مشروعیت کیلئے ایک واضح دلیل اور حجت ہے جس سے انکار کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہوسکتا۔

داڑھی کے وجوب کا استنباط

پھر نہ صرف ضرورت بلکہ غور کیا جائے تو اسی سے داڑھی رکھنے کا وجوب بھی ثابت ہوجاتا ہے کیونکہ نبی کریم eنے اس پر مواظبت بلا ترک فرمائی ہے یعنی ہمیشگی کے ساتھ داڑھی رکھنے کے عمل کو جاری رکھا ہے جس میں کبھی تخلف نہیں ہوا جو اصولاً وجوب کی علامت ہے اگرمواظبت مع الترک ہو یعنی کبھی کبھی آپ نے اس عمل کو ترک بھی فرمادیا ہو تو وہ عمل سنت کہلاتا ہے۔ لیکن داڑھی رکھنا کبھی ایک ساعت کیلئے بھی حضور eنے ترک نہیں فرمایا اسلئے اس مواظبت بلا ترک سے ہم داڑھی رکھنے کے وجوب پر بھی استدلال کرسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ اس اہم سنت کو اپنائیں اور محبت کے ساتھ اپنے چہروں کو داڑھی سے سجائیں۔ آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button