مفید تجربات،نزلہ زکام میں کرنے کے کام-ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی
گرم پانی سے نہانے یا شاور لینے سے جسم کے درد اور جسم ٹوٹنے کی شکایت رفع ہو سکتی ہے
نزلہ زکام میں مبتلا ہوتے ہی ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ جلد از جلد اس سے جان چھوٹے۔اس مقصد کیلئے بہت زیادہ آرام کر نا اور جسم میں پانی کی سطح معمول پر رکھنا کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق کچھ دوسرے طریقے بھی ہیں جوا گرچہ بہت عام نہیں ہیں لیکن ان پر عمل کر کے بہتی ناک، گلے میں خراش اور مسلسل کھانسی پر قابو پایاجاسکتا ہے۔
گرم پانی سے غسل
گرم پانی سے نہانے یا شاور لینے سے جسم کے درد اور جسم ٹوٹنے کی شکایت رفع ہو سکتی ہے جو موسم سرما میں حملہ آور ہونے والے وائر سیز سے عموماً پیدا ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ میں متعدی امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر سائمن کلارک کا یہ کہنا ہے کہ جسم کو گرم رکھنے سے نزلہ زکام کی علامتیں کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اگر آپ سردی محسوس کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جسم کا درجہ حرارت بڑھے تو گرم پانی سے غسل کریں یا شاور لیں۔ اس سے نہ صرف جسم گرم ہو گا بلکہ شاور کی بھاپ سے ناک اور حلق میں جسے بلغمی مواد کو باہر نکلنے اور اس سے جکڑی سائی نس کی نالیاں بھی کھل جائیں گی۔ حکمائے کرام کا مشورہ ہے کہ گرم کھولتے پانی سے بھرے ایک برتن سے اُٹھنے والی بھاپ کو سانس کے ذریعے اندر داخل کرنے سے بھی اسی قسم کے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ گرم پانی سے غسل یا شاور لینے سے دوران خون بھی بہتر ہوتا ہے جس سے جسم میں درد اور اینٹھن کم ہو جاتی ہے۔
چہل قدمی کیلئے باہر نکلیں
اگرچہ ٹھنڈے موسم میں ہوا خوری یا چہل قدمی کیلئے باہر نکلنے کی اکثر لوگوں میں ہمت نہیں ہوتی ہے لیکن ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ چہل قدمی اور کھلی فضا میں سانس لینا اگرچہ ہمیشہ ہی صحت کو فائدہ پہنچاتا ہے لیکن ٹھنڈے موسم میں باہر نکلنے سے پہلے خود کو گرم کپڑوں میں لپیٹنانہ بھولیں۔ چہل قدمی جیسی ورزش سے آپ کی بند ناک کھل سکتی ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے جسم کا مدافعتی نظام بھی توانا ہوتا ہے جس کے دُور رس فوائد ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہر کوئی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ بیمار ہونے کی صورت میں چہل قدمی سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔ نزلہ زکام میں مبتلا ہونے کے بعد بہتر یہی ہے کہ آپ آرام کریں، نیند پوری کریں اور خود کو گرم رکھیں۔ جب تک آپ بہتر نہ ہوں، دوسروں سے رابطہ نہ کریں۔
مسالے دار سالن، سوپ اور یخنی پئیں
نزلہ زکام کا ایک علاج گرما گرم سوپ اور یخنی میں بھی مضمر ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ اس سے فائدہ ہوتا ہے۔
اگر تیز مرچ مسالے والا سالن اس حالت میں کھایا جائے تو علامتیں بہتر ہو جاتی ہیں۔ ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ تیز مرچ مسالے ہوائی نالیوں کو کھول دیتے ہیں۔ بند ناک بھی کھل جاتی ہے اور سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف کارڈیف کے کامن کولڈ سینٹر نے اپنے تجربات میں دیکھا ہے کہ مسالے دار سالن سے تھوک زیادہ بنتی ہے جس سے کھانسی میں کمی آتی ہے اور گلے کی خراش میں افاقہ ہوتا ہے۔
مسالے دار سالن میں ہلدی، لہسن اور ادرک شامل ہوتے ہیں جن میں زنک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اور زنک وہ معدن ہے جو Rhinovirus کا مقابلہ کرتا ہے۔
جسے نزلہ زکام کا بڑاذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ گرما گرم چائے اور کافی نزلہ زکام میں بہت فائدہ پہنچاتی ہیں۔ گرم مشروبات کے استعمال سے بند ناک کھل جاتی ہے۔
جریدہ رائنولوجی‘‘ میں 2008ء میں شائع شدہ جائزے میں بتایا گیا تھا کہ گرم مشروب مثلاً چائے، کافی یا یخنی پینے سے بہتی ناک، کھانسی، چھینک، گلے کی خراش، کیکپی محسوس کرنے اور تھکاوٹ سے آرام ملتا ہے لیکن اگر کمرے کے درجہ حرارت پر ان مشروبات کو استعمال کیا جائے تو پھر صرف بہتی ناک، کھانسی اور چھینک کی شکایت دور ہو سکتی ہے۔
پروفیسر ایکس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی گرم مزیدار مشروب عام نزلہ زکام کی زیادہ تر علامتوں بالخصوص گلے میں خراش اور کھانسی کو ٹھیک کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ گرم مشروب سے تھوک کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔بلغم کا اخراج زیادہ ہونے لگتا ہے اور سوزش زدہ حلق کو آرام ملتا ہے۔ گرم شاور لینے یا ہوا میں نمی سے نزلہ زکام میں جس طرح فائدہ ہوتا ہے وہی فائدہ گرم مشروب پینے سے بھی ہوتا ہے۔
گرم مشروب میں موجود بھاپ بھی بلغمی مواد کو نرم اور پتلا کر دیتی ہے اور اس طرح سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ نزلہ زکام میں مبتلا افراد کو وقفے وقفے سے کافی یا چائے پینی چاہئے تا کہ ان کی لعابی جھلیاں چکنی رہیں اور مواد خارج کرتی رہیں۔



