ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ آیا ہمارے پیریڈ یا ماہواری ’نارمل‘ ہیں یا نہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے، کیونکہ نہ صرف ہم سب مختلف ہیں، بلکہ غلط فہمی اب بھی ہمیں سوالات پوچھنے یا اس بارے میں بات کرنے سے روکتی ہے۔درحقیقت، تقریباً ایک چوتھائی خواتین کو ایک طبی حالت ’مینوریجیا‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے ماہواری کے دوران زیادہ خون بہنا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کی ماہواری غیر معمولی طور پر زیادہ یا طویل مدت تک ہوتی ہے۔
کتنا خون آنا معمول سے زیادہ ہوتا ہے؟
عام طور پر ایک ’عام‘ ماہواری کے دوران، 70 سے 80 ملی لیٹر کے درمیان مائع مواد ضائع ہو جاتا ہے۔ ضائع ہونے والے سیال کا تقریباً 50فیصد خون ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو ماہواری میں بہت زیادہ خون آتا ہے وہ تقریباً 160 ملی لیٹر سے 400 ملی لیٹر سیال کھو سکتے ہیں۔
زیادہ خون بہنے کی عام علامات
ہر ایک سے دو گھنٹے میں پیڈ یا ٹیمپون کی گنجائش سے زیادہ خون بھرنا
=ایک ماہواری جو سات دن سے زیادہ رہتی ہے
2.5= سینٹی میٹر سے بڑے خون کے لوتھڑے کا آنا
کیا زیادہ ماہواری ہونا درست ہے؟
یہ حالت جتنی عام ہے، زیادہ تر خواتین جن کو یہ ہوتی ہے وہ اسے نہیں جانتیں۔ بہت سے لوگ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ان کی ’معمول‘ کی ماہواری ہے۔لیکن یہ سوچ ایک مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ ماہواری میں بہت زیادہ خون بہنا بعض اوقات کسی بنیادی مسئلے کی علامت ہو سکتا ہے، جیسا کہ فائبرائڈز، اینڈومیٹرائیوسس، شرونیی انفیکشن، یا خون بہنے کے عارضے۔
حال ہی میں داخل کیا گیا انٹرا یوٹرن ڈیوائس (IUD) بھی عارضی طور پر زیادہ ماہواری کے خون کا سبب بن سکتا ہے۔نتیجتاً ماہواری سے زیادہ خون بہنے والی تقریباً دو تہائی خواتین میں بھی طویل مدت تک آئرن کی کمی اور خون کی کمی ہوتی ہے۔ماہواری کے دوران ہم خون کے سرخ خلیات کھو دیتے ہیں جو پورے جسم میں آکسیجن (توانائی کا ذریعہ) لے جانے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر آپ کو ہر ماہ بہت زیادہ خون آتا ہے، تو آپ خون کے سرخ خلیات معمول سے زیادہ کھو دیں گے۔
خون کی کمی پیدا ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن یہ مختلف علامات کا سبب بن سکتا ہے جو آپ کی روزمرہ کی زندگی پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔اگرچہ خراب جلد یا ہونٹ اس کی ظاہری جسمانی علامات ہیں، تاہم خون کی کمی کا شکار شخص معمول سے زیادہ تھکاوٹ، چڑچڑاپن، چکر آنا، الجھن اور یہاں تک کہ افسردہ بھی محسوس کر سکتا ہے۔خون کی کمی سر درد، دماغی کمزوری، دل کی دھڑکن میں اضافہ اور یہاں تک کہ وزن میں کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اگر زیادہ ماہواری ہو تو کیا کر سکتے ہیں؟
اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کو ماہواری میں بہت زیادہ خون آ رہا ہے تو یہ ضروری ہے کہ جلد از جلد اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔ ڈاکٹر کے پاس آپ کے پہلے دورے کے بعد تشخیص میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر کے پاس باقاعدگی سے جایا جائے۔
ڈاکٹر کے پاس زیادہ سے زیادہ معلومات کے ساتھ جائیں۔ مثال کے طور پر آپ معمول کے خون کا اندازہ لگائیں یا تو حجم کی پیمائش کے لیے ماہواری کے کپ کا استعمال کریں یا آپ ہر ماہواری میں کتنی سینیٹری اشیا استعمال کرتی ہیں اس کی تعداد بتائیں۔
ماہواری کی ڈائری رکھنا یا ٹریکنگ ایپ استعمال کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا ہے تو آپ ڈاکٹر ممکنہ طور پر آپ کو حالت کی تشخیص کرنے سے پہلے چند ماہ تک ان چیزوں پر نظر رکھنے کو کہے گی۔ آپ کی ڈاکٹر کچھ ایسی دوائیں تجویز کر سکتی ہے جو ماہواری سے زیادہ خون بہنے کے اثر کو کم کر سکتی ہیں، بشمول پیدائش پر قابو پانے کی گولی یا ٹرانیکسامک ایسڈ (جو خون کو کنٹرول کرتی ہے اور خون کو جمنے میں مدد دیتی ہے)۔ اگر یہ حالت کسی اور مسئلے کی وجہ سے ہو، جیسا کہ فائبرائڈز۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو خون کی کمی ہو سکتی ہے، تو یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ آپ اپنی علامات کی احتیاط سے نگرانی کریں، خاص طور پر آپ اپنی ماہواری سے پہلے اور بعد میں کیسا محسوس کرتی ہیں۔
بے چینی، کھانسی، فلو، اور کھانے کی الرجی جیسی حالت میں بھی آئرن اور خون کی کمی کے ساتھ مل کر ایسی علامات پیدا ہوتی ہیں، اس لیے اپنے ڈاکٹر سے خون کے ٹیسٹ کے لیے پوچھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ آپ کو بتائے گا کہ آپ کو خون کی کمی ہے یا نہیں۔اگر آپ کو خون کی کمی کی تشخیص ہوئی ہے، تو جسم کو خون کے نئے سرخ خلیات بنانے میں مدد کے لیے آئرن سپلیمنٹس تجویز کیے جا سکتے ہیں۔ ایک صحت مند، متوازن غذا جس میں آئرن سے بھرپور غذائیں ہوں، جیسے لال گوشت، چنے، پھلیاں، سبز پتوں والی سبزیاں اور گری دار میوے بھی مدد کر سکتے ہیں۔
علاج ضروری ہے
بہت سی خواتین کو معلوم ہوتا ہے کہ ماہواری سے بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے، انھیں مدد حاصل کرنے میں اکثر وقت لگتا ہے۔جن خواتین کو خون کی کمی ہوتی ہے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مزید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کو اس حالت کی علامات اور علامات کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ کیا جائے، اور اس کے نقصانات آگاہی زیادہ خواتین کی مدد اور علاج مدد کر سکتی ہے جس کی انھیں ضرورت ہے۔
Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039
|



