یوپی کانسٹیبل سہیل انصاری کو فلسطین کی حمایت مہنگی پڑگئی،یوگی سرکار کا عتاب نازل ہوا ، محکمہ سے معطل کرکے تفتیش شروع
اسرائیلی فوج کے حملے سے متأثرہ فلسطینیوں کیلئے عطیات مانگنا اتر پردیش کے پولیس کانسٹیبل سہیل انصاری کے لیے مہنگا ثابت ہوا
لکھنؤ، 16اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالنے اور اسرائیلی فوج کے حملے سے متأثرہ فلسطینیوں کیلئے عطیات مانگنا اتر پردیش کے پولیس کانسٹیبل سہیل انصاری کے لیے مہنگا ثابت ہوا ہے۔ انہیں محکمہ پولیس نے معطل کر دیا ہے، اور انکوائری شروع کر دی ہے۔اس ضمن میںڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کھیری، سندیپ سنگھ نے کہاکہ کانسٹیبل کو مبینہ متنازعہ پوسٹ کرنے اور سوشل میڈیا پر فلسطین کیلئے چندہ مانگنے پر معطل کیا گیا تھا۔ فلسطینی کی حمایت کی وجہ جاننے کے لیے کانسٹیبل کیخلاف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔ قصوروار پائے جانے پر غلطی کرنے والے کانسٹیبل کیخلاف سخت کارروائی شروع کی جائے گی،یوپی پولیس کی کارروائی کانسٹیبل سہیل انصاری کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آئی۔
سہیل انصاری اس وقت لکھیم پور کھیری میں تعینات ہیں ، آبائی طور پر بریلی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔تاہم یہ اتر پردیش میں پہلی بار نہیں ہے کہ کسی شخص نے فلسطین کی حمایت کی ہو۔ 9 اکتوبر کو فلسطین کی حمایت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیمپس میں مارچ کرنے پر چار طلباء اور دیگر کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ خیال رہے کہ یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک حالیہ میٹنگ میں پولیس کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ میں فلسطین کی حمایت کرنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کریں۔ یہ عیاں رہے کہ فلسطین کے حامی اکثر مسلمان اور انصاف پسند طبقہ ہیں۔



