سرورققومی خبریں

پروفیسر شارب ردولوی کا انتقال، اُردو دنیا سوگوار

اردو کے ممتاز مصنف پروفیسر شارب ردولوی کا انتقال ہوگیا ہے۔

لکھنؤ،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اردو کے ممتاز مصنف پروفیسر شارب ردولوی کا انتقال ہوگیا ہے۔وہ بہت سی کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ طویل عرصے سے بیمار تھے۔ اطلاعات کے مطابق پروفیسرشارب ردولوی کی تدفین لکھنؤ کے عباس باغ قبرستان میں آج بدھ کے روز (18 اکتوبر) کو بعد نمازمغرب عمل میں آئے گی۔ پروفیسرشارب ردولوی کے انتقال کے بعد اردوحلقوں میں غم کی لہردیکھنے کو مل رہی ہے۔ان کے شاگردوں کے علاوہ یونیورسٹیوں کے اردوشعبوں سے وابستہ شخصات کی طرف سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کیلئے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کی صدر شعبہ پروفیسر نجمہ رحمانی، پروفیسررضی الرحمن، پروفیسرشہزاد انجم، دوست محمد خان، ڈاکٹر علی احمد ادریسی، ڈاکٹرعلاء الدین خان، ڈاکٹررئیس فاطمہ، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹرادریس احمد، ڈاکٹرشاداب شمیم، عبدالباری، ڈاکٹر شاہد اقبال، سمیع الدین سمیت بڑی تعداد میں اردوشعبوں سے وابستہ اساتذہ اور طلباء نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

شارب ردولوی ایک اہم ترین نقاد اور شاعر کی حیثیت سے معروف تھے۔ ان کی پیدائش ردولی کے ایک زمیندار اور پڑھے لکھے گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد اور دادا کا شمار فارسی اور عربی کے بڑے عالموں میں ہوتا تھا۔ شارب ردولوی کا اصل نام مسیب عباس ہے۔ یکم ستمبر 1935 کو پیدا ہوئے۔شارب ردولوی نے لکھنؤ یونیورسٹی سے اردو ادبیات کی اعلی تعلیم حاصل کی۔پروفیسر سید احتشام حیسن کی نگرانی میں اپنا تحقیقی مقالہ ’جدید اردو ادبی تنقید کے اصول‘ کے موضوع پر لکھا۔

شارب ردولوی کے اس مقالے کا شمار اہم ترین تنقیدی کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ شارب ردولوی نے دہلی یونیورسٹی کے دیال سنگھ کالج میں اردو کے استاد کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ 1990 میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں بحیثیت ریڈر ان کا تقرر ہوا اور 2000 میں یہیں سے سبکدوش ہوئے۔شارب ردولوی کے ادبی سفر کا آغاز شعر گوئی سے ہوا تھا، انہوں نے بہت اچھی غزلیں کہیں لیکن دھیرے تنقید نگاری نے ان کی تخلیقی کارگزاریوں کو کم سے کم کردیا۔ شارب ردولوی کی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔ ’مراثی? انیس میں ڈرامائی عناصر‘ ’گل صد رنگ‘ ’جگر فن اور شخصیت‘ ’افکار سودا‘ ’مطالعہ ولی‘ ’تنقیدی مطالعے‘ ’انتخاب غزلیات سودا‘ ’اردو مرثیہ‘ ’معاصر اردو تنقید: مسائل ومیلانات‘ ’تنقیدی مباحث‘۔

متعلقہ خبریں

Back to top button