بائیڈن کی اسرائیل کو کلین چٹ، اسپتال حملے سے بری الذمہ قرار دیدیا، سلامتی کونسل میں انسانی امداد اور جنگ بندی قرارداد بھی ویٹو کردی
فلسطینی ڈاکٹرز کا کہنا ہے پہلے ان مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے جن کے بچنے کی امید زیادہ ہے ۔
غزہ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات میں کہا کہ غزہ کے اسپتال میں ہونے والے دھماکے سے نہیں لگتا کہ یہ اسرائیل نے کیا ہے۔نیوز کے مطابق صدر بائیڈن نے ملاقات میں نیتن یاہو سے کہا کہ ’جو کچھ میں نے دیکھا ہے، اس بنیاد پر یہی لگتا ہے کہ یہ دوسری ٹیم نے کیا ہے آپ نے نہیں۔اس کے ساتھ ہی صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ’بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں یہ یقین نہیں ہے کہ دھماکہ کس نے کیا۔صدر بائیڈن اسرائیل پہنچے تو وزیر اعظم نیتن یاہو ان کے استقبال کے لیے پہلے ہی ایئرپورٹ پر موجود تھے اور امریکی صدر سے گلے لگ کر ملے جسے دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک نئے تعلق کے آغاز کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر بائیدن نے مزید کہا کہ امریکہ، اسرائیل کو وہ ہر چیز مہیا کرے گا جو اسے فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ضرورت ہے۔جو بائیڈن نے کہا کہ حماس، داعش سے بھی زیادہ بدتر ہے کیونکہ اس نے اسرائیلی شہریوں پر اچانک حملہ کیا جس سے حالیہ تشدد کی شروعات ہوئی۔انہوں نے اسرائیل کو ہر طرح کی امداد دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا، غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے اسرائیل نے اسپتال پر فضائی حملہ کیا تھا جبکہ اسرائیلی ملٹری نے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی جہاز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔امریکی صدر کی اسرائیل میں موجودگی کے دوران بھی اسرائیلی طیاروں کی غزہ کی آبادی پر فضائی حملے جاری رہے ، خان یونس سمیت کئی علاقوں میں متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں ،اس دوران متعدد افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں، غزہ کے سب سے بڑے القدس اسپتال کے اطراف بھی اسرائیلی طیاروں نے شدید بمباری کی۔
بموں کے ٹکڑے اسپتال میں موجود لوگوں کو بھی لگے ہیں جس سے اسپتال میں موجود مریضوں اور پناہ گزینوں میں خوف وہراس پھیل گیا،اسپتال میں 8ہزار فلسطینی موجود ہیں۔اسرائیلی طیاروں نے خان یونس میں ایک اسکول پر بھی بم گرادیئے جہاں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کیمپ میں سیکڑوں فلسطینی پناہ گزین موجود ہیں ،کیمپ میں موجود 6افراد شہید ہوگئے جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعا ت ہیں، صدر بائیڈن نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے رفاہ کی سرحد سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دیدی ہے ،اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ جانے والی انسانی امداد کو نشانہ نہیں بنائیں گے ،تاہم اس کے باوجود مصر کی طرف سے راہداری کے گیٹس بدستور بند رہے ، اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ جاری رکھنے کی حمایت کردی ہے ۔ اسرائیلی فورسز اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ میں بدھ کے روز بھی فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے ۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے مزید دو جنگجو اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئے ہیں ۔ اسرائیلی فورسز نے حزب اللہ کے ارکان پر ڈرون حملے کا بتایا تھا ۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے شمالی اسرائیل کے علاقے حنیتا میں اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے ، اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں کی بڑی تعداد کے جنوبی علاقوں میں جمع ہونےکاسلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا ۔ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں میں امریکا، اسرائیل اور فرانس کیخلاف مظاہرے جاری رہے، کیپٹل ہل میں یہودی گروپوں کا دھرنا،یہودی گروپوں کا جنگ بندی کا مطالبہ ، برطانیہ میں ٹین ڈاوننگ اسٹریٹ پر بھی احتجاجی ریلی ۔ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی رسائی کیلئے سلامتی کونسل میں برازیل کی پیش کردہ قرارداد کو ویٹو کردیا ہے۔ امریکی سفیرلندا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ اس قرارداد کے متن میں اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کا ذکر نہیں کیا گیا ،سلامتی کونسل کے 15 میں سے 12 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ، روس اور برطانیہ نے حصہ نہیں لیا،قرارداد کے خلاف امریکہ کا واحد ووٹ تھاجو ویٹو شمار ہوتا ہے،روس نے اس قرارداد کے متن میں غزہ کے الاہلی اسپتال پر ہونے والے بم حملے کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، ماسکو نے غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے ،ایران اور حماس نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں کہا ہے کہ اسپتال پر حملے اور اسرائیلی جرائم میں امریکہ میں برابر کا شریک ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عبداللہیان نے مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر معاشی پابندیاں عائد کرے ۔سعودی وزیر خارجہ نے اوآئی سی اجلاس کے موقع پر ایرانی اور ترک ہم منصبوں سمیت پاکستانی سفیر سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے کہا ’مسئلہ فلسطین کی حمایت سے متعلق سعودی عرب کا موقف غیر متزلزل ہے‘۔ روس کے صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ اسپتال پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اس جنگ کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے حملےکو تکلیف دہ قرار دیا ۔ چینی وزارت خارجہ نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے ۔
غزہ کے نائب وزیر صحت یوسف ابولریش نے سیکڑوں بچوں اور دیگر افراد کی میتوں کے ہمراہ الاہلی اسپتال سے براہ راست پریس کانفرنس کی ، انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں حملے سے قبل اسپتال خالی کرنے کی دھمکی دی تھی ، انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’14 اکتوبر 2023 کو رات 8 بجکر 30 منٹ پر الاہلی اسپتال پر دو شیل فائر کئے گئے‘، انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران شیلز کی تصاویر بھی دکھائیں، انہوں نے بتایا کہ میزائل فائر کئے جانے کے بعد اسپتال پر دوبارہ حملے کی بھی دھمکی دی گئی۔غزہ کے اسپتالوں میں ادویات تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ امریکی خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ڈاکٹرز مریضوں کو بے ہوش کئے بغیر سرجری کررہے ہیں ۔مریضوں کیلئے بستر موجود نہیں اور زمین پر ہی ان کی سرجریاں کی جارہی ہیں۔ فلسطینی ڈاکٹرز کا کہنا ہے پہلے ان مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے جن کے بچنے کی امید زیادہ ہے ۔
الشفا اسپتال کے ڈاکٹر اشرف القدرکا کہنا ہے کہ الاہلی اسپتال کے کئی زخمیوں کو ان کے اسپتال لایا گیا جہاں پہلے ہی مریضوں کا بے پناہ رش ہے ۔ ڈاکٹر ابو سلمیانے بتایا کہ طبی آلات اور طبی سامان ختم ہوچکا ہے ، ہمیں ادویات، بستروں اور بے ہوشی کی دوا کی ضرورت ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 3500کے قریب ہوگئی ہے، 1300افرادملبے تلے دبے ہوئے ہیں، 12ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں، شہید اور زخمیوں میں 75فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فائرنگ سے مزید تین فلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔گزشتہ ایک ہفتے سے زائد جاری اسرائیلی کارروائیوں میں یہاں شہداء کی تعداد 78ہوچکی ہے۔
مصر کے صدر الفتاح السیسی نے ایک بار پھر غزہ کے مہاجرین کیلئے اپنے ملک کی سرحد کھولنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے صحرائی علاقے میں غزہ کے محصورین کو پناہ دے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مصر نے غزہ کےلئے اپنی سرحد کھول دی تو اسرائیل کو غزہ میں آپریشن میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور صحرائے سیناء ’’شدت پسندوں ‘‘ کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔انہوں نے الاہلی عرب اسپتال پر اسرائیلی بمباری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور دانستہ بمباری کوبین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ او آئی سی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حامی ممالک نے اسے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ، جدہ سے نمائندہ جنگ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی قابض فوج کی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت فوراً بند کرنے اورغزہ پٹی کا محاصرہ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ، جدہ میں او آئی سی سکریٹریٹ میں سعودی عرب کی درخواست پر غیرمعمولی اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ غزہ پٹی کے الاہلی اسپتال پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری جنگی جرم ہے، اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
غزہ میں امداد جمعہ کے روز تک پہنچنے کی امید ہے: بائیڈن
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے رفح کراسنگ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ غزہ کے لیے انسانی امداد کے 20 ٹرکوں کی پہلی کھیپ کو گزرنے کی اجازت دی جا سکے۔خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن نے اسرائیل کے دورے سے واپسی کے دوران ’ایئر فورس ون‘ سے عبدالفتاح السیسی کو فون کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے آغاز میں 20 امدادی ٹرک لے جانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔جوبائیڈن نے کہا کہ کراسنگ کے آس پاس کی سڑک کو مرمت کی ضرورت ہے اس لیے ممکنہ طور پر امدادی ٹرک جمعے سے پہلے روانہ نہیں کیے جاسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سڑک کی مرمت کی جا رہی ہے، ان ٹرکوں کے گزرنے کے لیے وہاں موجود گڑھے بھرنے پڑیں گے، یہ ہونے والا ہے، انہیں توقع ہے کہ اس میں 8 گھنٹے لگیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ غزہ کی سرحد کے اطراف میں امداد تقسیم کرنے کے لیے تیار ہے، پہلے 20 ٹرک حماس کو کوئی فائدہ پہنچے بغیر امداد کی تقسیم کے نظام کا امتحان ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے یہ امداد ضبط کر لی یا اسے گزرنے نہ دیا تو امداد کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا کیونکہ اگر حماس اسے ضبط کرے گی تو ہم کوئی انسانی امداد نہیں بھیجیں گے، یہی وہ تہیہ ہے جو میں نے کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امداد کی پہلی کھیپ 20 ٹرکوں پر مشتمل ہوگی لیکن مجموعی طور پر 150 یا اس سے کچھ زیادہ ٹرک ہیں، اِن باقی ٹرکوں کو فی الحال گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حالات کو دیکھ کر اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عبدالفتاح السیسی حقیقی کریڈٹ کے مستحق ہیں، وہ بہت ملنسار ہیں۔بائیڈن نے اپنے دورے کو کامیاب قرار دیا اور اپنے اتحادی اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کیا، انہوں نے غزہ میں امداد کی اجازت دینے کی ضرورت کے حوالے سے دوٹوک انداز میں اسرائیلیوں پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ متاثرین کی تکلیف کو کم کرسکتے ہیں تو آپ کو یہ ضرور کرنا چاہیے، اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ دنیا بھر میں ساکھ کھو دیں گے اور مجھے لگتا ہے کہ ہر کوئی یہ بات سمجھتا ہے



