ایک اور نسل کشی کا انتظار مت کریں، غزہ اسپتال کے ڈاکٹر کی فریاد
ڈاکٹر محمد غنیم نے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بین الاقوامی برادری سے علاقے میں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کی اپیل کی
غزہ،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ڈاکٹر محمد غنیم نے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بین الاقوامی برادری سے علاقے میں معصوم شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کی اپیل کی ہے۔خبر کے مطابق ڈاکٹر غنیم نے التجا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غزہ کے بہت سے بے گھر اور زخمی افراد اسپتال کو ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اسپتال کو محفوظ جگہ سمجھا جاتا ہے اور یہ حملہ واقعی نسل کشی ہے۔ڈاکٹر غنیم نے بتایا کہاسپتال میں لائے جانے والے بری طرح سے زخمی حالت میں ہوتے ہیں، ان کے جسم کے کئی اعضا کٹے ہوتے ہیں اور کئی ایک میں تو زندگی کے آثار نہیں ہوتے۔ہسپتال میں سفید کپڑے میں لپٹی بہت سی لاشوں کے درمیان کھڑے ڈاکٹر غنیم نے درخواست کی کہ ہمارے پاس اس وقت صرف پانچ ایسے اسپتال ہیں جہاں علاج کی سہولت ہے اور لگتا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں یہاں سہولتیں کم ہو جائیں گے۔
ہم اس اسپتال میں اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے بلکہ ہم کسی بھی جگہ اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتے ہیں۔پلیز یہ پاگل پن بند کر دیں، اس نسل کشی کو بند کر دیں۔ اس انسانی بحران کو روکیں۔ اس وقت کا انتظار نہ کریں جب یہ ہسپتال بھی ختم ہو جائیں۔منگل کو غزہ کے الاہلی اسپتال پر اسرائیل کے فضائی حملے میں سینکڑوں مریض اور عام شہری ہلاک ہو گئے، یہ وہ عام افراد تھے جو اسپتال میں پناہ لئے ہوئے تھے۔اسرائیل فلسطین تنازع کے آغاز کے بعد یہ سب سے بڑا اور مہلک حملہ تھا جب کہ اسرائیل اور امریکہ ہسپتال پر حملے کا الزام فلسطینی مسلح گروپ اسلامی جہاد پر لگاتے ہیں۔قبل ازیں امریکی صدر جو بائیڈن کے تل ابیب پہنچتے ہی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ غزہ ہسپتال پر حملہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کا فضائی حملہ نہیں۔
اس موقع پر جو بائیڈن نے اسلامی جہاد کا حوالہ دیتے ہوئے بنیامین نیتن یاہو سے کہا کہ میں نے جو دیکھا ہے، اس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ یہ دوسری ٹیم نے کیا ہے، آپ نے نہیں۔عالمی برادری نے غزہ اسپتال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی اور اس قتل عام کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ اردن، مصر اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں کی عمان میں ہونے والی سربراہی کانفرنس منسوخ کر دی گئی۔
نسل کشی فوری طو رپر بند کرائیں، فلسطینی مندوب کا سلامتی کونسل سے مطالبہ
نیویارک،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب ریاض منصور نے کہا ہے کہ ’کچھ لوگ اب بھی ایک ایسی طاقت کے دفاع کے حق کی بات کر رہے ہیں جو فلسطینیوں کو جبری بے دخل اور ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔بدھ کو انہوں نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا جو اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کے حوالے سے منعقد ہوا۔ یہ اجلاس امریکہ کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کیے جانے کے بعد منعقد ہوا جس میں انسانی بنیادوں پر جنگ روکنے‘ اور حماس کے اسرائیل پر حملے کی مذمت کی گئی تھیاقدام کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی مندوب نے اسرائیل کے دفاع کے حق کا حوالہ بھی دیا۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر منعقد ہوا جب غزہ میں جنگ زوروں پر ہے اور ایک روز قبل ہی غزہ کے ایک اسپتال پر حملے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔
اس حملے کا الزام اسرائیل کی جانب سے اسلامک جہاد گروپ پر لگایا گیا ہے۔ریاض منصور نے روس کی جانب سے پیر کو پیش کردہ قرارداد کے مسودے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کونسل نے دو روز قبل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہوتا سینکڑوں لوگوں کی جانیں بچ سکتی تھیں۔اس میں بھی انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی بات کی گئی تھی، مگر اسی طرح سے سلامتی کونسل میں اس کو مسترد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جن ارکان نے اس کیخلاف ووٹ دیئے، انہوں نے اپنے اقدام کی وجہ قرارداد میں حماس کا ذکر نہ ہونا بتائیفلسطینی مندوب نے کہا کہ ’خونریزی روکو، میں پھر کہتا ہوں، خونریزی کو روک دو۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے قتل سے اسرائیل زیادہ محفوظ نہیں ہو جائے گا۔
انہوں نے ارکان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں، پوپ، عرب ریاستوں، اسلامی ممالک، دنیا بھر کے اربوں لوگوں اور ان لاکھوں افراد کے مطالبے پر دھیان دیں جنہوں نے گلیوں میں مارچ کیے۔ ان کی بات سنیں اور خونریزی کا سلسلہ ابھی بند کریں۔عمان کے ایلچی محمد الحسن نے خلیجی تعاون کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اتحاد نہ ہونے کا نتیجہ مزید خونریزی کی شکل میں سامنے آیا ہے۔



