اپنے تمام قیدیوں کے عوض اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے: خالد مشعل
یرغمالیوں کی تلاش جاری،ممکن ہے حماس کے جنگجو تل ابیب میں داخل ہوئے :اسرائیلی فوج
دوحہ،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس تحریک کے بیرون ملک سربراہ خالد مشعل نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل پر حملہ ایک حسابی مہم جوئی ہے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا اور اہم اس کے نتائج اچھی طرح جانتے ہیں۔انہوں نے انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ قیدیوں کی تعداد کی تفصیلات صرف القسام بریگیڈز کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس اسرائیلی فوجیوں کے کافی قیدی ہیں۔ جس پر ہم اپنے قیدیوں کے لیے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ ہم نے کچھ ملکوں کو سویلین یرغمالیوں کے حوالے کرنے کے لیے اپنی تیاری سے آگاہ کر دیا ہے۔ ہمیں صرف اسرائیلی فوجی قیدی کے حوالے سے سروکار ہے۔ ہم اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ اسرائیل کے زیر حراست اپنے تمام قیدیوں کے بدلے کریں گے۔خالد مشعل نے کہا کہ نیتن یاہو حکومت نے الاقصیٰ کو یہودیانے کا ایجنڈا طے کیا ہے۔
ہم مزاحمت کریں یا نہ کریں اسرائیل ہمیں مار رہا ہے۔ اسرائیل کے خلاف ہمارے آپریشن کا حساب ایک تنگ فریم ورک کے اندر تھا۔ ہمارے آپریشن میں حیرت کا عنصر تھا اس کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ ہر کوئی اس کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے اثرات کا غیر ملکی قیدیوں تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف اسرائیل مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کے حوالے سے عربوں کا موقف اچھا ہے اور ہم اسے مزید بہتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم لوگوں کو جنگوں کی طرف نہیں بلاتے۔
انہوں نے کہا حزب اللہ اور ایران نے ہمیں ہتھیار اور مدد فراہم کی اور ہم مزید کے لیے بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔خالد مشعل نے عربوں سے غزہ کی حفاظت کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ غزہ میں مزاحمت پر تنقید کرنے والی کوئی آواز نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک متحد عرب اسلامی موقف ہو جو مغرب پر جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ حماس کو ختم کر دے گا، تاہم وہ کامیاب نہیں ہو گا۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ مشکل ہے، طالبان نے امریکہ کو شکست دی اور ہم اسرائیل کو شکست دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ملک جنہوں نے ہمیں دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالا ہے، وہ تیسرے فریق کے ذریعے ہم سے رابطہ کر رہے ہیں۔غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے بارے میں خالد مشعل نے کہا کہ حماس اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ امداد صرف جنوبی غزہ کی پٹی کے لوگوں تک محدود ہو۔ غزہ کے لوگوں کی مصر روانگی کے اسرائیلی مطالبے پر مشعل نے کہا مکہ ہم غزہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں۔ اگر غزہ کے لوگوں کی نقل مکانی ہوتی ہے تو مصر اور اردن کو نقصان پہنچے گا۔
حماس تحریک کے بیرون ملک سربراہ نے مزید کہا کہ اسرائیل میں ہماری کارروائی ایک طویل دفاعی جنگ کے حصے کے طور پر کی جانے والی ایک جارحیت ہے۔یاد رہے حماس کی جانب سے اسرائیل پر سات اکتوبر کو حملہ کیا گیا اور پھر جنگ چھڑ گئی تھی۔ لڑائی کے 13 دنوں میں 3800 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کے مرنے والوں کی تعداد بھی لگ بھگ 2000 ہوگئی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل اخبار کے مطابق اس لڑائی میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 306 ہو گئی ہے۔ اب تک 4629 اسرائیلی زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ یروشلم پوسٹ نے اسرائیلی فوج کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد 203 ہو گئی ہے۔
یرغمالیوں کی تلاش جاری،ممکن ہے حماس کے جنگجو تل ابیب میں داخل ہوئے :اسرائیلی فوج
مقبوضہ بیت المقدس،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے غزہ کے اندر خصوصی کارروائیوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے سات اکتوبر کو شروع ہونے والے ’طوفان الاقصیٰ‘ آپریشن میں جمعرات کو تصدیق کی کہ فوج ابھی تک اسرائیل میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے امکان کو رد نہیں کر سکتی۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ فوج نے ابھی غزہ کی پٹی کے اطراف کے علاقے کا سروے مکمل نہیں کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ رات فورسز نے ایک تھکے ہوئے رکن کو تلاش کیا اور اسے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ غزہ واپس جانے کی کوشش کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل میں کوئی نئی دراندازی نہیں ہوئی ہے۔اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج حماس کے خلاف جنگ کے اگلے مراحل کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں ایک بڑا زمینی حملہ بھی متوقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روز ہم نے سروے اور اغوا کاروں کا پتہ لگانے کے مقصد کے لیے محدود اور ٹارگٹڈ چھاپے مارے۔ اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والوں میں سے 306 خاندانوں کو مطلع کر دیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی شدید اسرائیلی بمباری کے نشانے پر ہے جس میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق محصور فلسطینی علاقے میں اب تک کم از کم 3,400 افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی، برطانیہ کا اسپیشل سکواڈ اسرائیل کی مدد کیلئے تیار
لندن ،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) برطانیہ کا اسپیشل ایئر ا سکواڈ حماس کی حراست میں موجود یرغمالیوں کو بچانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر ممکنہ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ غزہ کے علاقے میں 200 کے قریب افراد کو حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے جن میں 10 برطانوی شہری بھی شامل ہیں اور ان کو چھڑانے کے لیے ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اسپیشل ایئر اسکواڈ اسرائیلی فوج کے علاوہ امریکہ کی ڈیلٹا فورس کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔رپورٹ کے مطابق یرغمال بنائے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے اور ان کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کو حماس کی جانب سے سرنگوں اور دیگر مقامات پر رکھا گیا ہے۔
ایک فوجی سورس نے اخبار کو بتایا کہ ’اسرائیل میں بننے والی صورت حال کی وجہ سے سپیشل سکواڈ کی تیاریوں میں تیزی آئی ہے۔اسیپشل ایئر اسکواڈ کے ایک دستے کا تربیتی مرحلہ مقررہ وقت سے کئی روز قبل ہی ختم کر دیا گیا ہے اور یہ اس کی خصوصی تعیناتی کے منصوبے کا حصہ ہے۔برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ جیمز کلیورلی کی جانب سے پیر کو اس امر کی تصدیق کی گئی تھی کہ غزہ میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں 10 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2011 سے لے کر اب تک ا سپیشل فورسز نے تین ریسکیو مشنز پر کام کیا ہے۔یہ کارروائیاں کینیا، نائجیریا اور یمن میں کی گئیں۔اسی عرصے کے دوران اس کی جانب سے چھ خفیہ اجلاس بھی ہوئے جن میں سے ایک یوکرین میں روس کے حملے سے قبل ہوا تھا۔



