ایم پی : اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے فقط دو مسلم امیدواروں کو دیا ٹکٹ
مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے نام پر اس کا نظریہ تنگ ہوتا جارہا ہے۔
بھوپال،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے کانگریس قیادت مسلمانوں سے نوے فیصد ووٹنگ پارٹی کے حق میں تو چاہتی ہے لیکن مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے نام پر اس کا نظریہ تنگ ہوتا جارہا ہے۔رہی بات بھاجپاکی تو بھاجپا نے ہمیشہ اس سے گریز کا رویہ اختیار کیا ہے۔ دوہزار اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے تین مسلم امیدوار کو میدان میں اتارا تھا جس میں سے دو مسلم ایم ایل اے کامیاب ہوکر اسمبلی تک پہنچے تھے مگر اس بار کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنے نظریہ کو تنگ نظری کاجامہ پہنایا اور اس بار صرف دو مسلم امیدوار کو بھوپال سے میدان میں اتارا ہے حالانکہ اسی مدھیہ پردیش سے اسی کی دہائی میں کانگریس سے سولہ مسلم امیدوار کامیاب ہوکر اسمبلی میں نمائندگی کر چکے ہیں۔ بی جے پی نے دوہزار تیرہ اور اٹھارہ کے اسمبلی انتخابات میں ایک ایک مسلم امیدوار کو بھوپال سے میدان میں اتارا تھا مگروہ اسمبلی پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
اس بار ابتک بی جے پی کے ذریعہ اسمبلی انتخابات کے لئے چار لسٹ جاری ہوچکی ہے اور اس کے ایک سو چھتیس امیدواروں کے نام کا اعلان ہوچکا ہے لیکن اس میں بی جے پی نے کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے اور آگے بھی جو ٹکٹ بی جے پی کے ذریعہ جاری ہونے والے ہیں اس میں بھی ملنے کی کوئی امیدنظر نہیں آتی ہے۔مدھیہ پردیش مسلم وکاس پریشد کے صدر محمد ماہر کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کا نظریہ مسلم قیادت کو لیکر جس طرح سے تنگ نظری مبنی ہوتا جارہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ہم نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو مدھیہ پردیش کی وہ سولہ سیٹیں جہاں سے پہلے مسلم ایم ایل اے رہ چکے ہیں بی جے پی اور کانگریس دونوں کو میمورنڈم دیتے ہوئے ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیاتھا۔کانگریس نے صرف دو ٹکٹ دیئے ہیں اور بی جے پی نے ابتک اس سے بھی محروم رکھا ہے۔
بھوپال شمال اور وسط سے ہم مسلم ووٹرس سے عارف مسعود اوعاطف عقیل کو کامیاب بنانے کی اپیل عوام سے ضرور کرینگے لیکن باقی مقامات پر پارٹی نہیں بلکہ امیدوار دیکھ کر ووٹ دینے کی اپیل ہوگی۔بی جے پی جنرل سکریٹری رجنیش اگروال کہتے ہیں بی جے پی جیتنے والے امیدواروں کے نام پر غور کرتی ہے اور اگر کوئی امیدوار ایسا ہوتا ہے اور پارٹی کی لائن پر کام کرتا ہے تو اسے ٹکٹ دیاجاتا ہے۔ بی جے پی کانگریس کی طرح منھ بھرائی کی سیاست نہیں کرتی ہے۔وہ تو کانگریس جو مسلمانوں کو ڈرا کر ووٹ لیتی ہے اور آج تک اس نے مسلم سماج کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اگر کچھ کیا ہوتا تو آج مسلم سماج کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت ہو یا صوبائی ہر حکومت کے ذریعہ جو قدم اٹھایا گیا ہے وہ دیش کے ناگرکوں کے لئے ہے اور اس کی اسکیموں کا فائیدہ سبھی لوگوں کو یکساں طور پر پہنچ رہا ہے۔وہیں کانگریس ترجمان ڈاکٹر راگنی نائک کہتی ہیں کہ یہ کانگریس ہی ہے جس نے ہمیشہ مسلم قیادت کو آگے بڑھایا ہے۔
کانگریس کی دوسری فہرست پر کمل ناتھ کا ردعمل,مدھیہ پردیش میں 18 سال کی بدانتظامی جلد ہی ختم ہوگی
بھوپال،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کانگریس نے مدھیہ پردیش میں ہونے والے انتخابات کے لیے جمعرات کی رات دیر گئے اپنے امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کی۔ اس فہرست میں 88 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ فہرست جاری ہونے کے بعد ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے اپنے بیان میں تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے امیدوار صرف ایم ایل اے بننے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے انتخابی میدان میں بھی اترے ہیں۔آج کے بعد سے ہم سب اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض میں شامل ہوں اور مدھیہ پردیش سے 18 سال کی بدانتظامی کو ختم کرنے کے لیے تیار رہیں۔
مدھیہ پردیش میں بھاری اکثریت کے ساتھ کانگریس پارٹی کی حکومت بنائیں۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش میں 230 ممبران اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک کو چھوڑ کر تمام امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ریاست میں 17 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ اس سے قبل 15 اکتوبر کو پارٹی نے 144 سیٹوں کے لیے پہلی فہرست میں امیدواروں کے نام جاری کیے تھے لیکن پارٹی نے دوسری فہرست میں تین سیٹوں پر امیدواروں کو تبدیل کیا ہے۔کانگریس نے اپنی دوسری فہرست میں دتیا، گوٹیگاؤں اور پچور سیٹوں سے امیدواروں کو تبدیل کیا ہے۔
دتیا سے اودھیش نائک کا ٹکٹ منسوخ کر کے کانگریس کے سینئر لیڈر راجندر بھارتی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ وہ بی جے پی امیدوار اور ایم پی وزیر داخلہ نروتم مشرا سے مقابلہ کریں گے۔ پچھور میں شیلیندر سنگھ کا ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ اروند سنگھ لودھی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔اسی طرح پارٹی نے گوٹیگاؤں ایس سی اسمبلی حلقہ سے شیکھر چودھری کی جگہ نرمدا پرساد پرجاپتی کو میدان میں اتارا ہے۔ پارٹی نے رویندر سنگھ تومر کو دیمانی اسمبلی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ ان کا مقابلہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے سنیل شرما کو گوالیار اسمبلی سیٹ سے میدان میں اتارا ہے جسے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ مدھیہ پردیش میں 230 رکنی اسمبلی کے لیے اگلے ماہ 17 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، جب کہ ووٹوں کی گنتی دیگر انتخابی ریاستوں کے ساتھ دسمبر میں ہوگی۔



