پیوٹن کو دل کا دورہ پڑا، بیڈ روم کے فرش پر پڑے پائے گئے
’جب پیوٹن فرش پر گرے تو ان کی آنکھیں لڑھک گئیں
ماسکو :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی صحت کے بارے میں کئی ماہ کی قیاس آرائیوں کے بعد مبینہ طور پر انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ یہ خبر ٹیلی گرام گروپ جنرل ایس وی آر نے شیئر کی ہے۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ روس کے ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسران اور کریملن کے اہلکاروں سے معلومات حاصل کرتی ہے۔ٹیلی گرام گروپ کی خبر برطانوی خبر رساں اداروں دی مرر، جی بی نیوز اور دی ایکسپریس نے شائع کی ہے۔ خبر کے مطابق، اتوار کی رات تقریباً 9.05 بجے پیوٹن اپنے بیڈ روم کے فرش پر کھانے پینے کی اشیاء کے پاس پڑے پائے گئے، جب ان کے سیکورٹی اہلکاروں نے شور اور صدر کے فرش سے ٹکرانے کی آواز سنی تو وہ کمرے میں پہنچ گئے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن اتوار (22 اکتوبر) کو دل کا دورہ پڑگیا۔ یہ خبر پھیلتے ہی روسی سوشل میڈیا پر ہلچل مچ گئی۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیوٹن کو اتوار کی رات اس وقت دل کا دورہ پڑا جب وہ اپنے بیڈروم میں تھے۔وہ اپنے بیڈروم میں فرش پر پڑے پائے گئے۔ فی الحال ان کی حالت مستحکم ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
جنرل ایس وی آر ٹیلی گرام گروپ نے لکھا، ‘یہ ممکن ہے کہ جب صدر پیوٹن گرے تو ان کا ہاتھ میز پر رکھے برتنوں کو چھو گیا ہو اور شور سن کر ہی سیکیورٹی اہلکار کمرے میں آگئے۔’ ٹیلی گرام گروپ کا مزید کہنا تھا کہ ’جب پیوٹن فرش پر گرے تو ان کی آنکھیں لڑھک گئیں۔ جنرل ایس وی آر کے مطابق صدر پیوٹن کے ڈاکٹر کو ساتھ والے کمرے سے بلایا گیا۔ پیوٹن کو فوری علاج کے بعد ہوش آیا۔ اس کے بعد پیوٹن کو دوسرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں صحت کی سہولیات میسر تھیں۔
ڈاکٹروں نے پیوٹن کی موت کی تاریخ دے دی
روسی صدر کینسر سمیت دیگر کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ٹیلی گرام گروپ جنرل ایس بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ پیوٹن کی صحت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ سردیوں کے بعد زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ ٹیلی گرام گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد پیوٹن کے کئی قریبی لوگوں نے فون پر ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور صدر کے انتقال کی صورت میں آنے والے دنوں میں ممکنہ اقدامات کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا،
آپ کو بتاتے چلیں کہ پیوٹن کی صحت کے حوالے سے اس سے قبل بھی ایسی خبریں آ چکی ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیوٹن کینسر یا پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہیں۔ تاہم روس کی جانب سے ابھی تک ایسی خبروں پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پوٹن کی صحت سے متعلق پہلی خبر 2012 میں آئی تھی۔
2012 کے اوائل سے، روس پیوٹن کے بارے میں صحت کی اطلاعات اور افواہوں کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے خبر رساں اداروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پیوٹن کو کمر کی تکلیف ہے اور انہیں سرجری کی ضرورت ہے۔ کریملن نے ابتدا میں اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا تھا لیکن بعد میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پیوٹن کو ہاتھ پھسلنے کی وجہ سے کمر میں چوٹ آئی ہے۔پیوٹن کو کینسر ہے، امریکی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا تھا۔اپریل 2022 میں، امریکی انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا کہ کینسر کی وجہ سے ولادیمیر پوٹن وقتاً فوقتاً عوام کے سامنے آنا بند ہو جاتے ہیں اور حال ہی میں ان پر قاتلانہ سازش سے بال بال بچ گئی۔ تاہم روسی حکومت نے واضح طور پر ایسے کسی بھی دعوے کی تردید کی ہے۔
پیوٹن پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہیں۔گزشتہ سال ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں پیوٹن کو روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو سے بات کرتے ہوئے میز کو مضبوطی سے پکڑے دکھایا گیا تھا۔ یہ دیکھ کر بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ پیوٹن کو پارکنسن کی بیماری ہے۔درحقیقت کریملن میں کووڈ کے پھیلنے کے بعد پیوٹن نے خود کو دو ہفتوں کے لیے الگ تھلگ کر لیا، پیوٹن کو کئی بار کھانستے ہوئے دیکھا گیا۔ یوکرین پر حملے کے بعد، ان کی بہت سی ملاقاتیں غیر معمولی طور پر لمبی میزوں پر ہوئیں، جس سے یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ پوٹن تیزی سے بے وقوف ہوتے جا رہے ہیں۔
پوٹن ہمشکل استعمال کر رہے ہیں۔حال ہی میں، ولادیمیر پوٹن پر کریملن کو چلانے کے لیے ہمشکل استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دراصل یہ دعویٰ اس لیے کیا گیا کیونکہ کئی عوامی تقریبات میں پیوٹن غیرمعمولی طور پر دوستانہ نظر آتے تھے۔پیوٹن کی بدلی ہوئی باڈی لینگویج دیکھ کر لوگوں نے اندازہ لگایا کہ صدر اپنا ہمشکل استعمال کر رہے ہیں۔



