سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

صحت کو نقصان پہنچائے بغیر چینی کی کتنی مقدار لی جا سکتی ہے؟

کھانوں میں چینی کی مقدار کے تناسب کے بارے میں آپ لاعلم ہوتے ہیں اس لیے کوشش کریں

ہم لوگ اگرچہ اپنے خاموش دشمن ’چینی‘ کے نقصانات سے کسی حد تک واقف تو ہیں ’لیکن کچھ میٹھا ہو جائے‘ کہہ کر چینی کو اپنی روز مرہ غذا میں شامل کرنے سے ہچکچاتے بھی نہیں۔ یہ ہماری روزمرہ کی خوراک میں کچھ یوں شامل ہو چکی ہے کہ مشروبات، مٹھائی یا تازہ جوسز چینی کے بغیر بن ہی نہیں سکتے۔

اکثر افراد سمجھتے ہیں کہ چینی صرف ذیابیطس کا باعث بنتی ہے، اس لیے ’چینی کم ہے‘ کا فارمولہ استعمال کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ چینی کا تعلق کئی جان لیوا بیماریوں سے ہے جن میں کینسر جیسا مہلک مرض بھی شامل ہے۔

چینی کی مقدار اور صحت

تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ چینی کا استعمال محدود ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ:

  • چینی کی روزانہ مقدار کتنی ہونی چاہیے؟

  • کس عمر میں چینی کے استعمال پر زیادہ احتیاط برتی جائے؟

  • کن بیماریوں سے چینی کا گہرا تعلق ہے؟

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ "چینی تو سب کھاتے ہیں، لیکن کتنی مقدار میں کھانا صحت کے لیے محفوظ ہے؟” اس سوال کا جواب صرف ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر فرد کے لیے جاننا ضروری ہے کیونکہ چینی کا زیادہ استعمال صرف شوگر ہی نہیں بلکہ کئی خطرناک بیماریوں کی جڑ بن سکتا ہے۔


عالمی ادارہ صحت (WHO) کی سفارش

عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) کے مطابق:

  • بالغ افراد کے لیے:
    روزانہ کل توانائی (calorie intake) کا زیادہ سے زیادہ 10% چینی سے حاصل ہونا چاہیے۔
    بہتر یہ ہے کہ اسے 5% تک محدود رکھا جائے۔

  • مثال کے طور پر:
    اگر کسی شخص کی روزمرہ کیلوریز کی ضرورت 2000 کیلوریز ہے، تو اس میں سے 5% یعنی تقریباً 25 گرام (6 چمچ) چینی تک محدود رکھنا بہتر ہے۔


چینی کی اقسام: صرف سفید چینی نہیں!

یاد رکھیں! چینی صرف وہ سفید دانے دار چیز نہیں جو ہم چائے میں ڈالتے ہیں، بلکہ:

  • فریش جوس

  • کولڈ ڈرنکس

  • کیک و بسکٹ

  • پروسیسڈ فوڈز

  • سوئیٹس اور چاکلیٹس

سب میں "چھپی ہوئی چینی” شامل ہوتی ہے۔ ان سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے روزمرہ کی مقدار کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔


بچوں کے لیے چینی کی حد

  • 2 سال سے کم عمر:
    کسی قسم کی چینی کا استعمال نہ کریں۔

  • 2 سال سے زیادہ:
    WHO کے مطابق بچوں کو بھی بالغوں کی طرح 5 سے 10% کیلوریز چینی سے لینے کی اجازت ہونی چاہیے، مگر کوشش کریں کہ کم سے کم ہو۔


محفوظ چینی کے استعمال کے عملی طریقے

  1. مشروبات میں چینی کم کریں
    چائے یا کافی میں آہستہ آہستہ چینی کم کرتے جائیں تاکہ ذائقے کی عادت بن جائے۔

  2. بازاری اشیاء سے گریز کریں
    کیک، بسکٹ، مشروبات اور دیگر بازاری اشیاء میں چھپی چینی زیادہ ہوتی ہے۔

  3. پیک شدہ اشیاء پر لیبل پڑھیں
    "Sugar”, "Sucrose”, "Fructose”, "Corn Syrup” جیسے الفاظ چینی کے ہی مختلف نام ہیں۔

  4. پھلوں سے مٹھاس حاصل کریں
    قدرتی مٹھاس والی اشیاء جیسے سیب، کیلا یا کھجور کا استعمال کریں۔

چینی سے نجات کے مفید مشورے

ماہر غذائیت متری کے مطابق اگر آپ چینی کی لت سے نجات چاہتے ہیں تو درج ذیل نکات پر عمل کریں:

  1. میٹھے مشروبات کی جگہ بغیر چینی والے مشروبات استعمال کریں۔
    بتدریج شکر کی مقدار کم کریں تاکہ ذائقے کا فرق محسوس نہ ہو۔

  2. گھر کے کھانے کو ترجیح دیں۔
    ہوٹل یا ریستوران کے کھانوں میں چینی کی مقدار کا اندازہ نہیں ہوتا، اس لیے گھر میں کھانا بہتر ہے۔

  3. اہل خانہ کو آگاہ کریں۔
    بچوں اور بڑوں کو چینی کے نقصانات سے آگاہ کریں اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیں۔


📌 چینی کا کم استعمال نہ صرف آپ کو ذیابیطس، کینسر، موٹاپا اور دل کے امراض سے بچا سکتا ہے بلکہ طویل اور صحت مند زندگی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ چینی زندگی کا لازمی حصہ ہے، مگر سچ یہ ہے کہ اگر ہم اسے قابو میں رکھیں تو اپنی صحت کو طویل مدت تک بہتر بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button