اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا
حماس کی جانب سے اچانک کیے گئے حملے سے قبل ان کی انٹیلی جنس سروسز کو حملو ں کا اندازہ لگانے میں ’’غلطیاں‘‘ہوئی
مقبوضہ بیت المقدس، 2 نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر تساحی ھنغبی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے اچانک کیے گئے حملے سے قبل ان کی انٹیلی جنس سروسز کو حملو ں کا اندازہ لگانے میں ’’غلطیاں‘‘ہوئیتھیں۔اس سے قبل اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس اتھارٹی کے سربراہ احرون حالیوا نے بھی اعلان کیا تھا کہ ان کے زیر کمان انٹیلی جنس کی ایک بڑی ناکامی سامنے آئی ہے، جو جنگ چھڑنے کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔حالیوا کا مزید کہنا تھا کہ میں شروع سے ہی اس ناکامی کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں۔14 اکتوبر کو ایک پریس بریفنگ میں حماس سے حملے کی توقع نہ رکھنے کے بارے میں اپنے بیانات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حالیوا کا کہنا تھا کہ یہ میری غلطی ہے اور یہ ہر اس شخص کی غلطیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو انٹیلی جنس کی جانچ کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمیں اس بات کا یقین تھا کہ حماس نے 2021 میں اسرائیل کے ساتھ آخری جنگ سے سبق سیکھا ہو گا۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیل غزہ سے ہونے والے حملے کو پسپا کرنے کے اپنے مشن میں ناکام رہا ہے، انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے ایک سخت دھچکا لگے گا، اب ہماری توجہ سخت ردعمل اور غزہ سے حماس کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔سات اکتوبر کو حماس نے ایک غیر معمولی حملہ کیا تھا، جس کے دوران اس کے جنگجوؤں نے سرحدی باڑ عبور کر کے اسرائیلی فوجی اڈوں میں گھس کر غزہ کی پٹی کے غلاف میں قائم سرحدی بستیوں پر حملہ کیا تھا، جس میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 240 کو یرغمال بنا لیا تھا۔اسرائیلی حکام کے مطابق اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری اور زمینی کارروائیاں کیں، جس میں جمعہ کی شام سے تیزی آئی ہے، غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق اس کے نتیجے میں اب تک 8,796 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں، جن میں 3,648 بچے بھی شامل ہیں۔



