قومی خبریں

اسرائیلی فوج کو غزہ میں حماس کی سخت مزاحمت کا سامنا

مغربی غزہ میں حملہ کرکے 6 اسرائیلی ٹینک تباہ کردئیے: القسام بریگیڈز

غزہ، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں نے غزہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے پیش قدمی کی لیکن انہیں حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے مارٹر گولوں اور سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے جو سرنگوں سے نکل کر حملے کر رہے تھے۔غزہ کی پٹی میں شمال میں واقع آبادی کا مرکزی حصہ اسرائیلی فورسز کے حملوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شہر کے اس حصے میں حماس کے فوجی ٹھکانے ہیں جنہیں ختم کرنے کا انہوں نے عزم کر رکھا ہے۔ اور اسی لیے مشرقی حصے کی 10 لاکھ سے زیادہ آبادی کو فوری طور پر وہاں سے نکل کر جنوب میں جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوجی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ازک کوہن نے کہا کہ ہم غزہ شہر کے دروازے پر ہیں۔رائٹرز کی رپورٹ میں رہائشیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حماس اور اس کی اتحادی اسلامی جہاد کے جنگجو سرنگوں سے نکل کر ٹینکوں پر فائر کرنے کے بعد دوبارہ سرنگوں میں چلے جاتے ہیں۔ایک فلسطینی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے رات بھر غزہ پر بمباری جاری رکھی، لیکن صبح ہمیں پتہ چلا کہ وہ ابھی تک شہر میں داخل نہیں ہو سکے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مزاحمت ان کی توقع سے زیادہ ہے۔اسرائیل کے فوجی عہدے داروں شہر کے اندر لڑائی کی حکمت عملی پر توجہ دے رہے ہیں اور اپنی توجہ شمالی علاقے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔فلسطینیوں کو خوراک، ایندھن، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

شہر میں بجلی نہیں ہے۔ سیوریج کا پانی گلیوں میں رس رہا ہے۔ کچھ لوگ کھارا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ اسرائیل نے محدود پیمانے پر فلسطینوں کے لیے رفح کراسنگ کے راستے بین الاقوامی امداد پہنچانے کی اجازت دی ہے لیکن امدادی ایجنسیوں کے مطابق وہ 23 لاکھ کی آبادی کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔غزہ کے اسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی اور جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونیکے سبب 35 میں سے ایک تہائی میں کام نہیں ہو رہا۔ ایندھن نہ ہونے کے باعث ایمبولنسز کھڑی ہو گئی ہیں اور لوگ زخمیوں اور مریضوں کو گدھا گاڑیوں پر اسپتال پہنچا رہے ہیں۔اسرائیلی مسلح افواج کے سربراہ نے جمعرات کو ایندھن پر عائد پابندی میں نرمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگرانی کے نظام کے تحت اسپتالوں کو ان کی ضرورت کا ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ سات اکتوبر سے جاری بمباری میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 9 ہزار سے بڑھ چکی ہے جن میں 3760 بچے اور 2326 خواتین شامل ہیں۔متحدہ عرب امارات نے 1000 بچوں اور ترکیہ نے کینسر کے مریضوں کو اپنے ہاں علاج کی پیشکش کی ہے۔اگرچہ مغربی اقوام اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی روایتی طور پر حمایت کی جا رہی ہے لیکن غزہ میں عمارتوں کے ملبے کے ڈھیروں، لاشوں کے دلخراش مناظر اور عام شہریوں کی زبوں حالی کی تصاویر اور ویڈیوز سے دنیا کے متعدد ملکوں میں جنگ بندی کی اپیلوں اور احتجاجی مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور سے مسلمان ملکوں میں۔

اسرائیل نے بمباری سے بچنے کے لیے غزہ کا شمالی حصہ خالی کر کے رہائشیوں کو جنوبی حصے میں جانے کا حکم دیا تھا، لیکن جنوبی علاقے بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہیں رہے۔غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ خان یونس قصبے میں اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری سے تین فلسطینی جب کہ پناہ گزین کیمپ میں ایک اسکول کے قریب فضائی حملے میں پانچ افراد مارے گئے۔رہائشیوں نے بتایا ہے کہ پناہ گزین کیمپ میں بمباری کا نشانہ بننے والے مکانوں کے ملبے سے 15 نعشیں نکالی جا چکی ہیں۔

جبالیا کے نام سے موسوم یہ کیمپ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت قائم کیا گیا تھا جہاں اسرائیلی علاقوں سے بے دخل ہونے والے فلسطینیوں نے پناہ لی تھی۔ یہ ایک گنجان آباد کیمپ ہے۔غزہ میں حماس کے میڈیا آفس نے بتایا ہے کہ منگل اور بدھ کو جبالیا پر ہونے والے دو حملوں میں کم از کم 195 افراد ہلاک اور 120 لاپتہ ہو گئے جب کہ زخمیوں کی تعداد کم ازکم 777 ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ جبالیا کیمپ پر حملے میں حماس کے دو کمانڈروں کو مار دیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار بریگیڈیئر جنرل اودو میز راہی نے کہا ہے کہ فوج غزہ میں داخل ہونے کے لیے راستے کھول رہی ہے اور اسے بارودی سرنگوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’حماس نے خود کو مقابلے کے لیے اچھی طرح سے تیار کیا ہوا ہے۔‘‘زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے 18 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں درجنوں عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔


مغربی غزہ میں حملہ کرکے 6 اسرائیلی ٹینک تباہ کردئیے: القسام بریگیڈز

غزہ ، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ آپریشن ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے ستائیسویں دن ان کے جنگجو کئی محاذوں پر اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ القسام بریگیڈ اسرائیلی فوج کی ایک بٹالین کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا۔ القسام کے جنگجوؤں نے جمعرات کو 6 ٹینک، دو فوجی گاڑیاں اور ایک بلڈوزر تباہ کر دیا۔ابو عبیدہ نے بتایا کہ القسام قابض افواج کے خلاف اپنی دفاعی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا القسام آرٹلری قابض افواج کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ابو عبیدہ نے مزید کہا کہ ہم قابض فوج کے خلاف فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کی کارروائیوں کو مشکل سے شمار کر سکتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے قابض فوجیوں کی تعداد قابض فوجی قیادت کے اعلانات سے کہیں زیادہ ہے۔ابو عبیدہ نے وضاحت کی کہ اسرائیل کی بکتر بند گاڑی ’’ٹائیگر‘‘ القسام بریگیڈ کے میزائلوں کے پہلے حملے میں ہی تباہ ہوگئی۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جس میں سفید فاسفورس بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں تین قتل عام کیے جس میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اور ہر وہ شخص جو دشمن کی حمایت کرتا ہے اس کے قتل عام میں شراکت دار ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں صحت کے شعبے پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ غزہ میں صحت کی صورتحال تباہ کن ہے۔ ابھی تک مناسب سامان نہیں پہنچ رہا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ کی امداد کے لیے کم از کم روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کے داخلے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل اس وقت جھوٹ بول رہا ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اسپتالوں میں مزاحمتی افراد نے پناہ لی ہوئی ہے۔

حماس کے رہنما نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی کے مقدر کا تعین فلسطینی عوام کو انتخابات کے ذریعے کرنا چاہیے۔ ہم جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے والے کسی بھی بیان کو قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے زور دیا کہ موجودہ جنگ آسانی سے نہیں گزرے گی۔ انہوں نے رفح راہداری کو داخلے کے لیے کھولنے میں مصر کے کردار کی تعریف کی اور درخواست کرتے ہوئے کہا کہ طبی بحری جہاز غزہ کے ساحلوں پر بھیجے جائیں ناکہ کہ اس سے باہر۔حماس کے نمائندے نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے تحریک کی سرگرمیوں پر عائد پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے۔قبل ازیں حماس تحریک نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے بین الاقوامی علاقائی اتفاق رائے کے وجود کے بارے میں جو رپورٹ دی گئی تھی اسے مسترد کر دیا تھا۔


فوج نے نقصان اٹھایا، پھر بھی جنگی اہداف کے حصول کیلئیپرعزم: نیتن یاھو

benjamin netanyahu israel
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

مقبوضہ بیت المقدس، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیں غزہ شہر کے مضافات میں داخل ہوئی ہیں۔ یہ اقدام غزہ کی پٹی کے شمالی نصف حصے میں حماس کے جنگجوؤں پر حملے کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا۔ جاری بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ہم جنگ کے عروج پر ہیں۔ ہم نے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں اور غزہ شہر کے مضافات کو عبور کیا ہے۔ ہم پیش رفت کر رہے ہیں۔ہماری افواج میں بہت سے نقصانات ہوئے ہیں۔ لیکن ہم اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ وہ غزہ میں ایندھن کی کسی بھی کھیپ کے داخلے سے متفق نہیں ہیں۔ قبل ازیں اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہیلیوی نے جمعرات کو غزہ کی پٹی کے لیے ایندھن پر عائد پابندی میں نرمی کے لیے اپنی تیاری کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر وہاں کے ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہو جاتا ہے تو انہیں اپنی نگرانی میں ایندھن کی سپلائی فراہم کرنا ممکن ہے۔سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر کے جوابی حملہ کیا تھا۔

اس وقت سے اسرائیل نے غزہ میں ایندھن داخل نہیں ہونے دیا ہے۔ غزہ کی پٹی کے ہسپتال اپنی بجلی کی سپلائی کی کمی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ہیلیوی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ دیکھیں کہ وہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے ہمیں بتا رہے ہیں کہ کل ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہو جائے گا۔ ابھی تک یہ ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم انتظار کریں گے کہ وہ دن کب آئے گا جب ایندھن ختم ہو جائے گا تو نگرانی میں ایندھن ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔


حماس کے عسکری ونگ نے اسرائیلی گاوں پر 12 راکٹ فائر کئے : القسام بریگیڈ

غزہ ، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے لبنان میں موجود عسکری ونگ کے ترجمان نے کہا ہے القسام بریگیڈ نے لبنان کی سرحد کے پاس اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں 12 راکٹ حملے کیے ہیں۔ یہ 12 راکٹ حملے جمعرات کے روز کیے ہیں۔القسام بریگیڈ کے لبنان میں موجود ترجمان کے مطابق اسرائیلی قصبے کریات شمونہ پر داغے گئے۔ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔اسرائیل کی ایمرجنسی میڈیکل سروس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حماس کے القسام بریگیڈ کے تازہ راکٹ حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو ئے ہیں۔

ان کے علاوہ ایک اسرائیلی جو چھرا گھونپے جانے سے زخمی ہوا تھا۔ اس 25 سالہ یہودی کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔اسرائیلی پولیس افسران کا کہنا تھا ‘جب حماس کے القسام بریگیڈ کے راکٹ حملے کے وقت پولیس اہلکار اور اسرائیلی آگ بجھانے والے فائر فائٹر موقع پر موجود تھے۔اسرائیلی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ایمرجنسی کیسے متعلق سٹاف نے جلی ہوئی گاڑیوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ادھر حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان کے مطابق اسرائیل کو غزہ پر اس کے حملوں کا جواب دیا گیا ہے۔


اسرائیلی فوج کا غزہ کے مضافات میں پیش قدمی کا دعویٰ

مقبوضہ بیت المقدس، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے فخریہ انداز میں کہا ہے ہے کہ ان کی فوج غزہ کے مضافاتی علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہے۔ نیز اسرائیلی فوج غزہ کے شمالی حصے میں حماس کو پیچھے دھکیلتی ہوئی مزید اندر جا چکی ہے۔نتن یاہو کے دفتر سے جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے ‘ہم اس وقت جنگ کے نکتہ عروج پر ہیں۔ ہم نے متاثر کن کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان میں اسرائیلی کامیابیوں کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔البتہ یہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں اب تک 9 ہزار سے زائد فلسطینی غزہ میں شہید ہو چکے ہیں۔

جن میں چار ہزار کے قریب فلسطینی بچے ہیں۔ اسی طرح ایک بڑی تعداد عورتوں کی ہلاکت کی ہے۔دریں اثنا ایک پریس بریفنگ کے دوران نتن یاہو یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں ایندھن کی فراہمی بحال کرنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے اسرائیل نے غزہ کا پچھلے سولہ برسوں سے محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ سات اکتوبر سے غزہ کے اس محاصرے کو شدید تر کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پانی سے لے کر خوراک، ادویات اور ایندھن تک کوئی چیز بھی غزہ میں نہیں داخل ہو سکتی۔انہوں نے اسرائیلیوں کو یقین دلانے کے سے انداز میں کہا میری طرف سے غزہ کو ایندھن کی فراہمی کے لیے کوئی ہدایات دی ہیں اور نہ ہی جنگی کابینہ نے اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔


غزہ میں فلسطینیوں کے قتل میں امریکہ برابر کا شریک و مساہم ہے: حماس

غزہ، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سفید فاسفورس جیسے ممنوعہ ہتھیاراستعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں غزہ یں تین قتل عام کیے جس میں تقریباً ایک ہزار افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اور ہر وہ شخص جو دشمن کی حمایت کرتا ہے اس کے قتل عام میں شراکت دار ہے۔اسامہ حمدان نے کہا جاری اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں صحت کے شعبے پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ غزہ میں صحت کی صورتحال تباہ کن ہے۔

وہاں ابھی تک ضروری سامان تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ غزہ کی امداد کے لیے کم از کم روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کے داخلے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل جھوٹ بول رہا ہے کہ حماس کے مزاحمتی کارکنوں نے اسپتالوں میں اپنے لیے مقامات مختص کر رکھے ہیں۔اسامہ حمدان نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے متعلق کسی بھی فیصلے کا تعین فلسطینی عوام کو انتخابات کے ذریعے کرنا چاہیے۔ ہم جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل کے متعلق بات کرنے والے کسی بھی بیان کو قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا موجودہ جنگ آسانی سے نہیں گزرے گی۔ انہوں نے رفح راہداری کو داخلے کے لیے کھولنے میں مصر کے کردار کی تعریف کی تعریف کی اور کہا کہ طبی بحری جہاز غزہ کے ساحلوں پر بھیجے جائیں نہ کہ دیگر ملکوں کے ساحل پر۔انہوں نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے تحریک کی سرگرمیوں پر عائد پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے۔حماس نے کہا کہ ایک غزہ پر نئی حقیقت مسلط کرنے کے لیے مداخلت کی کوششیں یکسر مسترد کی جاتی ہیں۔ فلسطینی عوام ایسی کوششوں کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button