عدالت عظمیٰ کا حکم، راگھو چڈھا راجیہ سبھا کے چیئرمین سے غیر مشروط معافی مانگیں
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ آپ چیئرمین سے ملیں اور غیر مشروط معافی مانگیں
نئی دہلی، 3نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا سے کہا ہے کہ وہ راجیہ سبھا کے چیئرمین سے ملاقات کریں اور غیر مشروط معافی مانگیں۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ آپ چیئرمین سے ملیں اور غیر مشروط معافی مانگیں، جس پر چیئرمین اس بنیاد پر غور کر سکتے ہیں کہ وہ ایک نوجوان رکن ہے۔ اسی طرح معطلی کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔خیال رہے کہ راھو چڈھا کو راجیہ سبھا سے اگست میں معطل کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی معطلی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے 5 ساتھی اراکین اسمبلی کے ناموں پر ان کی رضامندی کے بغیر دستخط کئے تھے۔ انہیں سلیکٹ کمیٹی میں اپنا نام تجویز کرنے پر معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ فی الحال پارلیمنٹ کی استحقاق کمیٹی کے پاس زیر التوا ہے۔
حال ہی میں عآپ ایم پی کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل سے ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے قوانین کے بارے میں سوالات پوچھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ رکن پارلیمنٹ کو کب تک معطل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے پوچھا کیا ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے والوں کو ایک سیشن کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے؟ یا چڈھا کو اس سے زیادہ کے لیے معطل رہنا پڑے گا۔ کیا ان کی غلطی اس سے بڑی ہے؟اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی نے کہا کہ یہ موضوع راجیہ سبھا کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس کی سماعت عدالت میں نہیں ہونی چاہیے۔اس سے پہلے 16 اکتوبر کو راگھو چڈھا کی درخواست پر سپریم کورٹ نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو نوٹس جاری کیا تھا۔
راجیہ سبھا کی خصوصی استحقاق کمیٹی نے راگھو چڈھا سے مانگی رپورٹ
نئی دہلی، 3نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آج راجیہ سبھا خصوصی استحقاق کمیٹی کی میٹنگ میں عآپ رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا سے منسلک معاملوں سمیت کئی اہم ایشوز پر تبادلہ خیال ہوا۔ کمیٹی نے راگھو چڈھا سے 7 نومبر تک پورے معاملے کی رپورٹ مانگی ہے۔ میٹنگ کے دوران اراکین نے خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملوں میں کمیٹی کی رپورٹ پر فوری کارروائی کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کونسل آف اسٹیٹس کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس معاملے میں راجیہ سبھا کی خصوصی استحقاق کمیٹی کی آئندہ میٹنگ 8 نومبر کو طلب کی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا میں گزشتہ 11 اگست کو ایوان کے لیڈر پیوش گویل نے ایک قرارداد پیش کیا تھا۔
اس قرارداد میں مجوزہ سلیکشن کمیٹی میں کچھ اراکین کے نام ان کے اتفاق کے بغیر شامل کرنے پر عآپ لیڈر راگھو چڈھا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ راجیہ سبھا سے قرارداد پاس ہونے کے بعد چڈھا کو خصوصی استحقاق کمیٹی کی رپورٹ زیر التوا رہنے تک ’اصولوں کی خلاف ورزی، بے ضابطگی، ضدی رویہ اور ہتک آمیز روش‘ کے لیے مانسون اجلاس کے آخری دن معطل کر دیا گیا تھا۔دوسری طرف عآپ راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کی بھی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ انھیں راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کے ذریعہ پارلیمنٹ کے پورے مانسون اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا کی طرف سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ خصوصی استحقاق کمیٹی کی جانچ تک سنجے سنگھ راجیہ سبھا سے معطل رہیں گے۔



