غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ہنڈراس نے اسرائیل سے سفیر واپس بلالیا
اسرائیل کی طرف سے فلسطینی مزدوروں کو غزہ منتقل کرنے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
ٹیگو سیگلپا/ہنڈراس :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہنڈراس کی حکومت نے غزہ کی پٹی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا رہا ہے۔ ملک کے اعلیٰ سفارت کار نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر یہ اعلان کیا۔وزیر خارجہ اینریک رینا نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر کہا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہری آبادی کو سنگین انسانی صورت حال کا سامنا ہے صدر زیومارا کاسترو کی حکومت نے اسرائیل میں جمہوریہ ہنڈراس کے سفیر مسٹر رابرٹو مارٹینز کو فوری طور پر ٹیگوسیگالپا میں مشاورت کے لیے بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بائیں بازو کے صدر کاسترو کی حکومت کا یہ فیصلہ ہفتے کے شروع میں خطے میں ہم خیال ساتھیوں کی طرف سے اسی طرح کے اقدامات کے بعد کیا گیا ہے۔ چلی کے گیبریل بورک اور کولمبیا کے گسٹاو پیٹرو نے بھی غزہ کے تنازع سے متعلق واقعات پر مشاورت کے لیے اسرائیل سے اپنے ممالک کے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ بولیویا نے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔
اسرائیل کی طرف سے فلسطینی مزدوروں کو غزہ منتقل کرنے پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
جینوا :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقوام متحدہ نے اسرائیل میں موجود ہزاروں فلسطینی مزدوروں کو جمعہ کے روز سے جبراً غزہ بھجوانے کی کوشش پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ مزدور پچھلے دنوں سے جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں پھنس کر رہ گئے تھے۔لیکن اب اسرائیل اور حماس جنگ کے چوتھے ہفتے کے اختتام سے پہلے اسرائیل نے مسلسل بمباری اور ٹینکوں کے حملوں کی زد میں تباہ حال غزہ میں ان مزدوروں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے لیے ترجمان الزبتھ تھروسیل نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا اب ان مزدورں میں سے بہت سوں کے گھر اسرائیلی بمباری کی وجہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہونے کا خدشہ ہے اور اور بہت سوں کے اہل خانہ اور دوسرے پیاروں کے ہلاک ہو چکے ہونے کا اندیشہ ہے۔ترجمان نے کہا ‘ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فلسطینی مزدور اور اسپتالوں میں مریض کے طور پر اسرائیل میں تھے لیکن سات اکتوبر سے انہیں اسرائیل نے ایک طرح سے قید میں رکھا ہوا تھا۔ ‘واضح رہے کہ اسرائیل کی طرف سے 18500 فلسطینیوں کو اسرائیلی کارخانوں اوردودسری جگہوں پر مزدوری کے لیے ‘ ورک پرمٹ’ جاری کیا جاتا ہے۔
کیونکہ یہ فلسطینی مزدور اسرائیلی کارخانوں وغیرہ کے لیے سستے مزدور کے طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔لیکن اب جبکہ اسرائیل خود غزہ پر روزانہ بارود کی بارش کر رہا ہے اورلاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 9 ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں ان مزدوروں کو زبردستی غزہ میں دھکیلنا ان کی زندگیوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے۔یہ بھی اندیشہ ہے کہ اسرائیل ان ہزاروں مزدوروں کو انسانی ڈھال کے طور پر غزہ میں اپنے زمینی حملوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔



