قومی خبریں

منی پور: چھاپوں سے پریشان سینکڑوں دیہاتی گھر بار چھوڑ گئے

زومی-ہمار قبائلی آبادی والے علاقوں میں تعینات تمام منی پور پولیس کمانڈوز کو ہٹائے اور ان کی جگہ غیر جانبدار مرکزی فورسز کو تعینات کرے

امپھال، 4نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) منی پور میں کئی قبائلی تنظیموں اور 10 قبائلی ارکان اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ میانمار کی سرحد سے متصل علاقے ٹینگنوپل میں تلاشی کی کارروائیوں، غیر پیشہ ورانہ طرز عمل، پولیس کمانڈوز کے مظالم اور غیر انسانی زیادتیوں کی وجہ سے سینکڑوں مرد، خواتین اور بچے خوف کے عالم میں ٹینگنوپول ضلع کے مورے میں واقع اپنے گاؤں کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ارکان اسمبلی اور قبائلی تنظیموں نے مرکزی وزارت داخلہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر مداخلت کرے، مورے اور دیگر کوکی-زومی-ہمار قبائلی آبادی والے علاقوں میں تعینات تمام منی پور پولیس کمانڈوز کو ہٹائے اور ان کی جگہ غیر جانبدار مرکزی فورسز کو تعینات کرے۔ دس ارکان اسمبلی نے مظالم میں ملوث تمام قصوروار ریاستی پولیس اہلکاروں اور کمانڈوز کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔دس قبائلی ارکان اسمبلی نے جمعہ کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ منی پور پولیس کے کمانڈوز نے بدھ کو ٹینگنوپال ضلع کے سنام کوکی گاؤں پر حملہ کیا اور مکانات، گاڑیوں سمیت املاک کو تباہ کر دیا۔

مورے میں جاری آپریشنز میں ریاستی فورسز نے آتش زنی، اندھا دھند فائرنگ، شہریوں کی املاک، گاڑیوں، گھریلو سامان بشمول قیمتی زیورات، دستاویزات، سونا، نقدی اور بلا اشتعال درندگی کی لوٹ مار جت سطط خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کو قریبی علاقوں میں بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ارکان اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ کمانڈوز نے کئی خواتین پر وحشیانہ حملہ کیا اور چھیڑ چھاڑ کی۔ خواتین کو علاج کے لیے مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ راجدھانی امپھال سے 110 کلومیٹر دور میانمار کے سرحدی شہر مورے میں آسام رائفلز کے کیمپ کے سامنے سینکڑوں خواتین، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے بچوں کے ساتھ پناہ لی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button