سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

معمولات بہتر بنائیں،غذائی تبدیلی صحت کی ضامن

اگر آپ اپنی خوراک میں معمولی تبدیلی لے آئیں یار دو بدل کر دیں تو اس سے آپ کو اچھی نیند آسکتی ہے

اگر آپ اپنی خوراک میں معمولی تبدیلی لے آئیں یار دو بدل کر دیں تو اس سے آپ کو اچھی نیند آسکتی ہے، دن بھر کے کام کاج کیلئے زیادہ توانائی مل سکتی ہے، سر درد سے چھٹکارا حاصل ہو سکتا ہے اور آپ کی روز مرہ صحت مجموعی طور پر بہتر ہو سکتی ہے۔ ماہرین یہ سفارش کرتے ہیں کہ مغزیات (Nuts)، سالمن مچھلی، پھل، حتی کہ پانی کے ایک گلاس سے بھی بہت سارے عام امراض اور طبی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ تیار شدہ غذائیں (Processed Foods)، مٹھائیاں، مشروبات اور کافی ایسی چیزیں ہیں جن سے اگر پر ہیز کیا جائے تو دن اچھا گزر سکتا ہے۔

لیز اساسن نیویارک یونیورسٹی میں غذائی ماہر ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہر شخص مختلف ہوتا ہے اور ان کا جسم بعض مخصوص غذائوں پر مختلف طریقے سے رد عمل دے سکتا ہے لیکن کچھ عمومی طریقے ہیں جن میں وہ اپنی خوراک میں کچھ تبدیلی لا کر اپنی طبیعت اور صحت میں بہتری لاسکتے ہیں۔ لیز اساسن کہتی ہیں کہ اگر کسی شخص کو یہ پریشانی لاحق ہو کہ اسے کسی غذا سے کوئی نقصان ہو رہا ہے، یا طبیعت میں خرابی پیدا ہو رہی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ایک چارٹ مرتب کرے۔ یعنی جب بھی وہ جو کچھ کھائے، اسے لکھتا جائے اور پھر اپنے ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے مشورہ کرے کہ آیا وہ جو خوراک لے رہا ہے، اس کی وجہ سے مسئلہ پیش آرہا ہے یا کوئی چھپی ہوئی بیماری اس مسئلے کی وجہ ہے؟

ان کا یہ کہنا ہے کہ بہت سے بالغ افراد کا ایک عام مسئلہ تھکاوٹ اور نڈھال ہو نا ہوتا ہے۔اگرچہ بہت سے لوگ کام پر یا اسکول میں جاگتے رہنے یا مستعد رہنے کیلئے کافی پر کافی پینا ضروری سمجھتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں اس سے ان کو بہت ہی کم فائدہ ہوتا ہے۔ دن بھر توانائی برقرار رکھنے کیلئے کافی نہیں، پانی زیادہ اہم مشروب ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہر شخص کو اتنازیادہ پانی پینا چاہئے کہ ہر چند گھنٹوں کے بعد انہیں پیشاب کی حاجت ہو اور ان کے پیشاب کی رنگت ہلکی زرد ہو۔ پانی کی کمی سے جسم میں تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ پانی در اصل ایک قدرتی چکنائی پیدا کرنے والا مادہ یا لبریکینٹ (Lubricant) ہے۔

جس طرح مشینوں کو اچھی طرح کام کرنے کیلئے لبریکینٹس کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح جسمانی اعضاء کو اپنے فرائض انجام دینے کیلئے پانی کی طلب ہوتی ہے۔ اگر جسم میں پانی مناسب مقدار میں موجود نہ ہو تو جسم کے اندرونی نظاموں کو زیادہ محنت سے کام کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس میں زیادہ توانائی استعمال ہوتی ہے اور جسم نڈھال ہو جاتا ہے۔ پوٹاشیم بھی ہائیڈریشن کے عمل کو یعنی جسم میں پانی کی کمی دور کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ یہ معدن ایک الیکٹرولائٹ ہے جو جسم کو اس قسم کے فوائد فراہم کر سکتا ہے جو ایک اسپورٹس ڈرنک سے حاصل ہوسکتے ہیں لیکن پوٹاشیم میں اسپورٹس ڈرنک کے بر خلاف نہ تو شکر ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی کیمیکلز شامل کئے جاتے ہیں جو جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔


بار بار غش آنا

دودھ گائے پائوسیر، پانی پائوسیر، اسگند ناگوری، ستاور ہر ایک چھ ماشہ، دودھ اور پانی کو دیگچہ میں ڈالیں اور باقی دونوں دوائوں کو کوٹ کر اس میں شامل کردیں اب اس کو اتنا جوش دیں کہ کل پانی جل کر باقی صرف دودھ رہ جائے ، پھر آگ سے اتار کر چھان لیں۔ اور ٹھنڈا کرکے اس میں حسب ضرورت مصری ملادیں غشی کے مریض کو چند روز تک پلاتے رہیں ، مرض غشی دور کرنے کے لئے مجرب نسخہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button