سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

جدید تحقیق,چائے سے عمر میں اضافہ ممکن،پیش کش: عافیہ امینہ دہلی

بڑی خوش خبری ہے کہ چائے نوشی سے ان کی عمر میں اضافہ ممکن ہے

دنیا بھر میں کروڑوں افراد جو کافی پینا پسند کرتے ہیں، ان کیلئے تو یہ کوئی زیادہ خوشگوار خبر نہیں لیکن چائے پینے والوں کیلئے بڑی خوش خبری ہے کہ چائے نوشی سے ان کی عمر میں اضافہ ممکن ہے۔برطانیہ میں پانچ لاکھ افراد کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ ایک دن میں دو یا اس سے زیادہ کپ چائے پیتے ہیں، کسی بھی سبب سے ان کی موت کا امکان 13 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی میٹھی چیز کا شوقین ہے تو اسے بھی یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ اگر چائے میں شکر ملا کر بھی پئیں تو بھی اپنی زندگی کو چائے پی کر طول دے سکتے ہیں گو کہ شکر کا استعمال صحت کیلئے زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔

کالی چائے اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء سے لبریز ہوتی ہے اور ان اجزاء کے بارے میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ یہ دل، آنتوں اور دماغ کو صحت مند رکھتے ہیں اور خراب کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو کم تر سطح پر رکھتے ہیں۔ برطانوی باشندے ایک دن میں چائے کی 10 کروڑ پیالیاں پی جاتے ہیں تاہم چائے کی طلب خاص طور پر نوجوانوں میں حالیہ برسوں میں کچھ کم ہو گئی ہے۔ 2021ء میں کافی کی فروخت چائے سے دگنی تھی اور اس کی فروخت 10 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ ارب پائونڈ ہو گئی تھی۔

تازہ ترین جائزہ یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی طرف سے لیا گیا جس میں یو کے بایو بینک میں شامل 5 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔ 40 سے 69 سال کی عمر کے 85 فیصد مرد اور خواتین نے بتایا کہ وہ روزانہ چائے پیتے ہیں۔

ان لوگوں میں سے 10 میں سے 9 افراد نے کہا کہ وہ زیادہ تر کالی چائے استعمال کرتے ہیں۔ سوالناموں پر مبنی یہ جائزہ 2006ء سے 2010ء کے دوران لیا گیا اور اس کے بعد تقریباً 10 سال تک ان کی نگرانی کی گئی۔ چائے نہ پینے والوں کے مقابلے میں جن لوگوں نے روزانہ دو یا اس سے زیادہ کپ چائے پینے کا اعتراف کیا تھا، اس وقت ان کی موت کا خطرہ 9 سے 13 فیصد کم تھا۔ خطرے میں یہ کمی اس وقت بھی برقرار رہی جب وہ چائے میں دودھ ملا کر پی رہے تھے۔ گرم چائے پینے یا چائے کو ٹھنڈا کر کے پینے سے بھی نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ واضح رہے کہ چائے نباتات سے حاصل ہونے والے مرکبات ’’پولی فینولز‘‘ کے حصول کا اہم ذریعہ ہے جو جسم میں خلیات کی تباہی کو روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

پولی فینولز کے اس حفاظتی کردار سے بہت سے دیرینہ امراض جن میں امراض قلب اور ڈیمنشیا (مخبوط الحواسی) شامل ہیں، کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ ان مرکبات سے دماغ کی کار کردگی بہتر ہو جاتی ہے، ہڈیوں کی کثافت بڑھ جاتی ہے، ذہن تیز رہتا ہے اور دماغ قبل از وقت بوڑھا نہیں ہوتا۔ 2020ء کے ایک جائزے میں آسٹریلوی ریسرچر ز نے بتایا تھا کہ با قاعدگی سے سیاہ چائے پینے سے قلبی شریانی بیماری اور فالج کا خطرہ 10 سے 20 فیصد کم ہو سکتا ہے۔ چائے کے ذریعہ امراض قلب سے تحفظ اس طرح ملتا ہے کہ پولی فینولز شریانوں کو کشادہ اور صحت مند رکھتے ہیں اور خون میں پھٹکیوں کی تشکیل کو روکتے ہیں۔ چائے میں شامل کیفین کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے ان ہاضم ہار مونز کے اخراج کو تحریک ملتی ہے جو آنتوں کو صحت مند رکھتے ہیں۔

اندرونی چوٹ کا آسان علاج

کھیلتے ہوئے یاکسی اور وجہ سے اندرونی چوٹ لگ جائے تو انڈے کی سفیدی میں تھوڑا سا نمک ڈال کر متاثر جگہ پر لیپ کرلیں۔ ایک یا دو بار استعمال کرنے سے ہی مکمل آرام آجاتا ہے۔ یہ ٹوٹکہ پرانی اور اندرونی چوٹ کے لئے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button