اپنا خیال رکھیں,مخصوص ایام کا درد-ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی قاسمی
ایام کا درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟
ایام کا درد ویسا ہی ہوتا ہے جیسے پٹھے کھنچنے کے باعث وہ درد جو پیٹ سے ہوتا ہوا کمر، رانوں اور ٹانگوں تک اور جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتا ہے۔ جیسے کبھی کبھار ہمارے جسم کے کسی حصے میں اچانک درد اٹھتا ہے، لیکن یہ درد اس سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔خواتین کو اس دوران متلی، اسہال اور سر کے درد کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ماہواری کے دوران درد کی شدت اور اس کی مخصوص جگہ ہر خاتون میں مختلف ہو سکتی ہے۔
ایام کا درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟
آکسفورڈ یونیورسٹی کے نفیلڈز ڈیپارٹمنٹ آف وومنز ریپروڈکٹو ہیلتھ میں درد پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر کیٹی ونسینٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ 30 سے 50 فیصد خواتین کو ماہواری میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ جب خواتین کو ماہواری ہوتی ہے تو بچہ دانی سکڑ جاتی ہے تاکہ خون باہر آ سکے۔
اس دوران جو چکر آنے کی کیفیت ہوتی ہے جسے عموماً جمے ہوئے خون کے باہر آنے سے جوڑا جاتا ہے دراصل، سروکس کے کھلنے کے باعث ہوتا ہے تاکہ جما ہوا خون اس سے گزر سکے اور اس کے ساتھ مزید سکڑاؤ ہوتا ہے۔ ماہواری کے دوران سوزش کی شکایت بھی کی جاتی ہے۔ بچہ دانی کے ٹشوز ایک کیمیکل ریلیز کرتے ہیں جس سے درد بڑھتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جسم سے ایک کیمیکل پراسٹاگلینڈنز نکلتا ہے جس کی مقدار ماہواری کے دوران بڑھتی جاتی ہے۔پراسٹاگلینڈنز دراصل فیٹی کمپاؤنڈز ہوتے ہیں جو خلیوں میں بنتے ہیں اور اس کے جسم میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر ماہواری کے دوارن یہ بچہ دانی کے پھٹوں کو سکیڑنے کا باعث بنتا ہے، اس کے علاوہ یہ اس کے ردِ عمل میں ہونے والی سوزش کی وجہ بھی بنتا ہے جس سے درد ہوتا ہے۔پراسٹاگلینڈنز ہارمونز نہیں ہوتے لیکن ان کی ہارمونز کے ساتھ مماثلت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ڈاکٹر ونسینٹ کا کہنا ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ پراسٹاگلینڈنز دراصل ماہواری کے دوران سوزش اور درد میں اضافے کی وجہ ہو سکتا ہے۔
سوزش اور درد کا مقصد کیا ہے؟
ونسینٹ بتاتی ہیں کہ سوزش کے متعدد فوائد بھی ہیں۔ جب آپ زخمی ہوتے ہیں تو سوزش ہو جاتی ہے جس کے باعث ٹشوز کو صحتیاب ہونے میں مدد ملتی ہے اور آپ کو اس بات کا احساس دلواتی ہے کہ یہاں درد ہو رہا ہے تاکہ آپ اس حصے کو محفوظ رکھ سکیں اور زخم جلد بھر جائے۔یہ ایک انتہائی ضروری مرحلہ ہے جس کے ذریعے جسم اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اسی لئے ماہواری کے دوران درد اور پٹھوں کا کھچاؤ دراصل پراسٹاگلینڈنز کی وجہ سے ہوتا ہے تاکہ بچہ دانی کو مکمل طور صحتیاب ہونے کا موقع مل سکے اور اس میں موجود تمام بہاؤ نکل جائے۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ بہاؤ شدید ہو جائے۔
درد کی فکر کب کریں؟
ماہواری کے دوران درد محسوس کرنے والی خواتین کے لیے سوزش اور درد ختم کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں۔تاہم کئی مرتبہ ماہواری کے باعث ہونے والا درد کسی پہلے سے موجود طبی مسئلے کے باعث ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک عارضہ یوٹرین فبرائڈز کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے فبرائڈز بھی کہتے ہیں جو کینسر سے پاک رسولیاں ہوتی ہیں جو بچہ دانی کے اندر اور اس کے گرد پھیلتی ہیں، ان کے باعث ماہواری کے دوران درد ہوتا ہے۔
درد کی وجہ بیضہ دانی کا انفکشن بھی
ماہواری کے دوران درد پیلوک انفلیمیٹری ڈیزیز (پی آئی ڈی) کے باعث بھی ہو سکتا ہے جو بچہ دانی، فیلوپین ٹیوب اور بیضہ دانی میں ہونے والا انفیکشن ہے۔پی آئی ڈی اکثر ایسے بیکٹیریا کے باعث ہوتا ہے جو سیکس کے دوران منتقل ہوتا ہے جیسے کلیمیڈیا یا گونورہیا۔ کسی ایسے شخص کے ساتھ سیکس کرنا جسے یہ دونوں انفیکشن ہوں، اس کے باعث پی آئی ڈی ہو سکتا ہے۔ماہواری کے باعث ہونے والا درد اکثر انٹراٹرین ڈیوائس کے باعث بھی ہو سکتا ہے جو عام طور پر مانع حمل کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے بچہ دانی میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ حاملہ ہونے سے گریز کیا جا سکے۔تاہم اس درد کی سب سے اہم وجہ اینڈومیٹریوسز ہے۔
اینڈومیٹریوسز کیا ہے؟
اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں گائناکولوجی اور رپروڈکٹو سائنس کے پروفیسر اینڈریو ہارن بی بی سی کو تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اینڈومیٹریوسز کی تفصیل کچھ یوں بتاتے ہیں کہ یہ بچہ دانی کی لائننگ سے بچہ دانی کے باہر اینڈومیٹریم تک ٹشو کی موجودگی ہوتی ہے، جیسے پیٹ کے نچلے حصے، بیضہ دانی، پیشاب کی نالی یا آنتوں میں بھی ٹشو کی موجودگی۔ درد کے علاوہ اس عارضے کے باعث چھ سے 10 فیصد خواتین کو حمل کے دوران مشکلات پیش آتی ہیں۔
اینڈومیٹریوسس کی وجوہات کیا ہیں، اس بارے میں کچھ بھی واضح نہیں ہے لیکن اس کا متاثرہ خواتین کی زندگیوں پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
اینڈریو ہارن کہتے ہیں کہ ’ہمیں اینڈومیٹریوسز کے اثرات کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ بیماری ہے۔ تاہم اس بارے میں ہمارا علم محدود ہے کہ اس بیماری کے باعث درد کیوں ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری سے متعلق سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس کی تشخیص بہت مشکل سے ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اینڈومیٹریوسز کی علامات کو عام طور پر اس لیے مسترد کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ماہواری کے دوران نارمل ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اینڈومیٹریوسز کی بھی وہی علامات ہیں جو دوسرے عارضوں جیسے آئی بی ایس، پی بی ایس کی ہیں۔ اس لیے اس بیماری کی تشخیص کرنا آسان نہیں ہے۔
اینڈومیٹریوسز کی علامات
عمومی علامت ماہواری کے دوران پیلوس میں درد کی شکایت ہے، تاہم یہ درد ماہواری کے علاوہ بھی اٹھ سکتا ہے جیسے پاخانہ، پیشاب یا سیکس کرتے وقت۔اینڈومیٹریوسز کی کسی اسکین یا خون کے ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ اس بیماری کی تصدیق کے لیے صرف لیپروسکوپی ہی کی جا سکتی ہے۔یہ ایک سرجری ہے جس میں ڈاکٹر آپ کے پیٹ میں ایک چھوٹا سا کٹ لگا کر اس میں لیپروسکوپ نامی آلہ داخل کرتا ہے تاکہ پیلوک کیوٹی کے اندر اینڈومیٹریوسز کا پتا لگایا جا سکے۔اینڈومیٹریوسز ایلوپیتھ میں لاعلاج بیماری ہے اور اس حوالے سے صرف کچھ طریقوں سے علامات کو کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اینڈومیٹریئل گروتھ کو سرجری کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے یا اس کے لیے ہسٹیریکٹومی کی جا سکتی ہے تاکہ بچہ دانی کو نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ اس کا ہارمونل علاج بھی کیا جاتا ہے۔
| بھول مربہ آملہ ۲ عددپانی سے دھو کر دس گری بادام کے ساتھ روزانہ بعد دوپہر کھائیں۔ گھریلو اور قدرتی طریقہ علاج میںخالص دودھ، گھی، مکھن، بالائی کا غذا میں استعمال اور سرسوںکے تیل کی سر پر روزانہ مالش کرنا بھی بہت مفید ہے۔ |



