بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل کا اسپتالوں کے اطراف میں وحشیانہ بمباری غزہ کو انٹرنیٹ اور مواصلات سے تیسری بار محروم کردیا گیا

اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ایک مرتبہ پھر اسپتالوں کے اطراف شدید بمباری کی ہے۔

غزہ، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ایک مرتبہ پھر اسپتالوں کے اطراف شدید بمباری کی ہے۔ اسرائیل غزہ شہر کے شمال، مغرب اور جنوب مشرق کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے حملے کر رہاہے۔ ادھر فلسطینی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی نے اتوار کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی مواصلاتی لائنوں کو تیسری مرتبہ پھر منقطع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز معطل کرکے اسرائیل نے بڑے پیمانے پر حملے شروع کردئیے ہیں۔کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہمیں غزہ کی پٹی کے ساتھ تمام مواصلاتی اور انٹرنیٹ خدمات کی مکمل تعطل کا اعلان کرتے ہوئے افسوس ہے۔ مرکزی روابط جو منسلک کردئیے گئے تھے اب پھر اسرائیل نے انہیں دوبارہ منقطع کردیا ہے۔اطلاع کے مطابق غزہ کی پٹی کے شاطئی کیمپ، زیتون کالونی اور الرمال محلے پر آدھے گھنٹے کے اندر 100 سے زیادہ پرتشدد اسرائیلی حملے کئے گئے۔

حماس نے اعلان کیا کہ متعدد اسرائیلی چھاپوں میں الشفاء اسپتال کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حماس نے کہا وہ اسرائیل کے الزامات کے حوالے سے غزہ کی پٹی میں اسپتالوں کا معائنہ کرنے کے لیے کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کے افراد کو وزٹ کرانے کے لیے تیار ہے۔ یاد رہے اسرائیل اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کے لیے الزام عائد کرتا ہے کہ اسپتالوں میں حماس کے افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ حماس نے مزید کہا کہ شدید اسرائیلی بمباری نے غزہ کی پٹی کے متعدد اسپتالوں کو نشانہ بنایا۔دریں اثنا اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے گزشتہ گھنٹوں کے دوران غزہ میں 150 مقامات پر بمباری کی۔چونکہ غزہ کی پٹی کے اسپتالوں کی گنجائش سے زیادہ زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، الاقصی شہداء اسپتال کے ڈائریکٹر نے کہاکہ ہم زخمیوں کے درمیان تفریق کے اصول پر کام کر رہے ہیں۔

پہلے سنگین زخمیوں کا علاج کیا جائے اور دیگر کو چھوڑ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپتال اب زخمیوں کو معمولی سی خدمات بھی فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔ قبل ازیں فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے طبی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں 200 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ اس کے جنگجو اتوار کی صبح اور گزشتہ رات غزہ کے شمال مغرب میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں مصروف ہیں۔

بریگیڈز نے ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے بہت سے اسرائیلی فوجیوں کو دو بدو لڑائی میں ہلاک کردیا ہے۔ انہوں نے جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی ٹینک کو بھی تباہ کر دیا۔ تحریک اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے کہا ہے کہ اس کے مجاہدین غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرق میں گھسنے والی اسرائیلی فوج کے خلاف جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 32 ہو گئی ہے۔غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ کے شمال مغرب میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ غزہ شہر کے جنوب مغرب کے علاقے میں وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوئیں۔


جیل پر دھاوا، فلسطینی قیدیوں نے اسرائیلی جھنڈا اُتار پھینکا

مقبوضہ بیت المقدس، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سات اکتوبر سے اسرائیلی جارحیت اور خوفناک بمباری مسلسل جاری ہے۔ اسرائیل نے کئی فلسطینی علاقوں میں گرفتاری کی مہم بھی چلا رکھی ہے۔ ان گرفتاریوں کا معاملہ قید کی سزا تک پہنچ گیا ہے۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے اعلان کیا کہ اسرائیلی جیل سروس نے اتوار کی صبح مجیدو جیل میں اس وقت فلسطینیوں کے سیلوں پر چھاپہ مارا جب ان میں سے متعدد فلسطینیوں نے جیل سے اسرائیلی پرچم اتار پھینکا۔ قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جیل سروس نے فلسطینی قیدیوں کیخلاف اپنی جارحانہ مہم کو آگے بڑھانے کے لیے یہودی مجرم قیدیوں کی مدد بھی حاصل کی۔

اسرائیلی مہم کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم نہیں ہوسکی ہیں تاہم براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ یہ جھنڈا نیچے کرنے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔گزشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیل نے مغربی کنارے میں گرفتاری کی ایک نئی مہم شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ 7 اکتوبر سے اب تک حراست میں لیے گئے قیدیوں کی مجموعی تعداد 1830 سے زیادہ ہوگئی ہے۔گرفتاریوں کی اس مہم میں مشرقی القدس اور اس کے اطراف کے قصبوں کو زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ مغربی کنارے کے اضلاع الخلیل، قلقیلیہ، طولکرم، جنین، نابلس اور رام اللہ کے شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔


غزہ: عورتوں اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 21 افراد شہید

غزہ، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کی غزہ پر بمباری کا بد ترین سلسلہ جاری ہے۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کی گئی بمباری کے دوران ایک ہی خاندان کے 21 افراد شہید کر دیے۔ان شہدا کا تعلق ابو حارثہ کے خاندان سے تعلق ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے ابو حارثہ کے گھرانے کو بطور خاص ٹارگیٹ کر کے شیلنگ کی۔غزہ کے وزیر صحت کے مطابق جس کے نتیجے میں گھر کی مکمل تباہی کے علاوہ گھرمیں موجود تمام خواتین اور بچے شہید ہو گئے۔ابو حارثہ کے گھرانے کو غزہ کی بنرگاہ کے نزدیک رات کے وقت اچانک نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 21 افراد خانہ شہید ہوگئے۔


 اسپتالوں کے نیچے اور اطراف حماس کے نیٹ ورک کا کھوج لگایا ، ہگاری کا دعویٰ

مقبوضہ بیت المقدس، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں اسپتالوں کے نیچے اور ملحقہ مقامات پر حماس کی سرنگوں، کمانڈ سینٹرز اور راکٹ لانچروں کے نیٹ ورک کا کھوج لگایا ہے۔ اسرائیل کے چیف ملٹری ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے صحافیوں کو بتایا کہ تنظیم حماس اپنی جنگی مشین کے حصے کے طور پر اسپتالوں کو منظم طریقے سے استعمال کر رہی ہے۔دوسری طرف تحریک مزاحمت اسلامی۔ حماس نے ان الزامات کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ اسرائیل بے بنیاد جھوٹ پھیلا رہا ہے۔میڈیا بریفنگ کے دوران ہگاری نے ایسی ویڈیوز، تصاویر اور آڈیو ریکارڈنگ پیش کیں جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حماس کی جانب سے اسپتالوں کو کور کے طور پر استعمال کرنے اور عام شہریوں کو جنگی علاقوں سے نکلنے سے روکنے کی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے دوران غزہ سے اسرائیل پر داغے گئے 800 سے زائد راکٹ گرے اور انکلیو کے اندر جا گرے تھے جس سے کئی فلسطینی مارے گئے۔ انہوں نے کہا حماس اپنے کچھ راکٹ مقامی طور پر تیار کرتی اور بیرون ملک سے بھی راکٹ حاصل کرتی ہے۔

ہگاری کے ان بیانات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج نے ہفتوں سے غزہ کے مرکزی الشفا اسپتال کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ الشفا اسپتال کے اطراف کئی مرتبہ بمباری کی جا چکی ہے۔ اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسے زیر زمین آپریشنل مراکز کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ہگاری نے اب شمالی غزہ کے دو دیگر ہ اسپتالوں پر بھی اسی طرح کے الزامات لگائے ہیں۔ان میں قطر کی مالی اعانت سے چلنے والا شیخ حمد اسپتال اور ایک انڈونیشیائی اسپتال شامل ہے۔ہگاری نے کہا کہ قطری اسپتال کی دو ویڈیوز میں حماس کی سرنگوں کو کھولتے ہوئے اور حماس کے بندوق برداروں کو اسپتال کے اندر سے اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ کی ایک تصویر میں انڈونیشیائی اسپتال سے سڑک کے پار واقع راکٹ لانچر دکھائے گئے ہیں۔ انہوں نے اسپتال سے 75 میٹر کے فاصلے سے اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ حماس کے افراد بخوبی جانتے ہیں کہ اگر اسرائیل اس طرح لانچنگ پیڈ پر فضائی حملہ کرے گا تو اسپتال کو نقصان پہنچے گا۔


غزہ جنگ سے اسرائیل کو 51 ارب ڈالر نقصان کی چپت لگ گئی

نیویارک، 6نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اتوار کو غزہ کی پٹی میں جنگ 30 ویں دن میں داخل ہوئی تو اسی روزاسرائیلی اقتصادی اخبار ’’کالکالیسٹ‘‘ نے وزارت خزانہ کے ابتدائی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل جس جنگ میں لڑ رہا ہے اسے اس جنگ کی لاگت 200 بلین شیکل میں پڑ رہی ہے۔ 200 بلین شیکل 51 بلین ڈالر کے قریب بنتے ہیں۔51 بلین ڈالر کے ان اخراجات کا یہ تخمینہ اسرائیلی جی ڈی پی کے 10 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس تخمینے میں جنگ کا حساب 8 سے 12 ماہ تک جاری رہنے کا لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ اس صورت میں ہے جب جنگ غزہ تک محدود رہے اور اس میں لبنان کی حزب اللہ یا ایران یا یمن کے حوثی شریک نہ ہوں۔کالکالیسٹ‘‘ نے مزید کہا کہ آدھی لاگت دفاعی اخراجات میں ہوگی جو تقریباً ایک بلین شیکل یومیہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محصولات کے نقصانات کی لاگت مزید 40 اور 60 بلین شیکلز یعنی 10 سے 15 بلین ڈالر کے درمیان ہوگی۔ اس کے علاوہ 17 اور 20 بلین شیکل اسرائیل کو کمپنیوں کو معاوضے کی شکل میں ادا کرنے ہونگے۔ اسی طرح 10 سے 20 بلین شیکل بحالی کے منصوبوں پر خرچ ہوجائیں گے۔اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی حملوں سے متاثر ہونے والوں کے لیے ایک اقتصادی امدادی پیکج تیار کر رہی ہے۔ یہ کووڈ 19 وبا کے دوران بنائے گئے پیکج سے بڑا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button