نسل پرست اسرائیلی وزیر کا مغربی کنارے میں عربوں کو الگ کر نے کا مطالبہ
اسرائیل کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے ایک نسل پرستانہ بیان دے ڈالا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی وزیرِ ثقافت میچائی الیاہو کے ان اشتعال انگیز بیانات سے اٹھنے والا ہنگامہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ اسرائیل کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے ایک نسل پرستانہ بیان دے ڈالا ہے۔ اس بیان کو فلسطینی اتھارٹی نے نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلل سموٹریچ نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے مغربی کنارے میں ایسا بفر زون بنانے کا مطالبہ کردیا جس میں عرب داخل نہیں ہوں گے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے اس بیان پر رد عمل دیا اور ان بیانات کو نوآبادیاتی اور نسل پرستانہ قرار دیا۔
وزارتِ خارجہ نے کہا اس بیان سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے اسرائیل کے ارادوں کا اظہار ہوتا ہے۔مغربی کنارے کی بستیوں کے آس پاس بفر اور سیف زونز بنانے کے وزیر کے مطالبے پر بھی جھوٹے حیلوں اور بہانوں سے غور کیا گیا۔ اس مجوزہ بفرزون کی آڑ میں اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کی مزید اراضی چرانا ہے۔ اس بفر زون کو موجودہ کالونیوں اور بے ترتیب چوکیوں سے منسلک کرنا اور یہودی بستیوں کو وسیع کرنا بھی مقصود ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی حکومت ان نسل پرستانہ بیانات اور اشتعال انگیزی کے ساتھ اپنے ارادوں اور اپنی پالیسی کو ظاہر کر رہی ہے۔
یہ وہ پالیسی ہے جسے صہیونی حکومت غزہ کی پٹی کو تباہ کر کے اور اس کے باشندوں کو بے گھر کر کے زمین پر نافذ کر رہی ہے۔فلسطینی وزارت خارجہ نے تمام ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بیان کی مذمت کریں اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری اور فلسطینی شہریوں کی زمینوں کی چوری کو روکنا ہوگا تاکہ دو ریاستی حل کی حفاظت کی جا سکے۔یاد رہے ایک ہفتہ سے زیادہ قبل بھی انتہا پسند مذہبی صیہونیت پارٹی کے سربراہ سموٹریچ نے وزارت خزانہ کو فلسطینی اتھارٹی کو رقوم کی منتقلی روکنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کے بعد کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
اسرائیلی کارروائی میں غزہ دو حصوں میں تقسیم، صہیونی فوج کا شہر میں داخل ہونے کا خدشہ
مقبوضہ بیت المقدس، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کی فورسز نے ایک ماہ سے جاری فوجی کارروائی کے بعد غزہ کو دو حصوں شمالی اور جنوبی علاقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ فورسز نے پیر کو غزہ شہر کا محاصرہ کر لیا ہے اور محصور مقام کے شمالی حصے کو باقی علاقے سے کاٹ دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے اس اقدام کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب حماس کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کیا جائے گا۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی فوج پیر یا منگل کو غزہ شہر میں داخل ہو جائے گی اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ حماس سمیت دیگر عسکری تنظیموں کے جنگجو سرنگوں کے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے گلی گلی میں مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
لگ بھگ 15 لاکھ فلسطینی یعنی غزہ کی کل آبادی کے 70 فی صد لوگ ایک ماہ سے جاری جنگ کے بعد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔پیر کو غزہ میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کمیونی کیشن کے ذرائع ایک بار پھر منقطع ہوئے تھے جو بعد ازاں جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں تیسری بار غزہ میں ٹیلی کمیونی کیشن کا نظام متاثر ہوا تھا۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کے غزہ شہر کے اندر داخل ہونے کا امکان ہے۔غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے اور اس دوران حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے طبی حکام کے مطابق لگ بھگ 10 ہزار فلسطینیوں کی موت ہو چکی ہے جب کہ 24 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے میں بھی اب تک 140 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر غیر متوقع اور اچانک حملے میں 1400 اسرائیلی مارے گئے تھے جب کہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حماس نے اس دوران 230 کے قریب اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا جو اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔ حماس کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی بمباری میں کچھ یرغمالی مارے جا چکے ہیں۔اسرائیلی فورسز نے اتوار کو ایک بار پھر وسطی غزہ میں دو مہاجر کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مقامی طبی حکام نے ان حملوں میں بھی درجنوں فلسطینیوں کی موت کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل امریکہ کی اس تجویز کو مسترد کر چکا ہے جس میں اسے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر بمباری روکنے کے لیے کہا گیا تھا کیوں کہ مسلسل حملوں میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
حماس نے لبنان سے اسرائیل پر 16 راکٹوں کافائر، اسرائیل میں سراسیمگی
غزہ؍دبئی، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے جنگجوؤں نے کہا ہے کہ انہوں نے پیر کے روز لبنان سے اسرائیل کے شمالی علاقے کی جانب 16 راکٹ فائر کیے۔ حماس کے عسکری ونگ کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ہدف اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ کے جنوبی علاقے تھے۔حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے کہا ہے کہ یہ حملے غزہ کی پٹی میں ہمارے لوگوں کے خلاف قابض (اسرائیل) کی جانب سے قتل اور اس کی جارحیت کے جواب میں کیے گئے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ لبنان سے شمالی اسرائیل پر 30 کے لگ بھگ گولے داغے گئے۔ فوج کا مزید کہنا تھا کہ اس نے اسی جانب جوابی فائرنگ کی جہاں سے گولے فائر کیے گئے تھے۔یہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب پیر کی صبح حماس کے زیر قبضہ غزہ کی پٹی کی وزارت صحت نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ تقریباً ایک مہینہ پہلے عسکریت پسند گروپ کی جانب سے اسرائیل پر ایک بڑے حملے کے بعد چھڑنے والی لڑائی سے محصور علاقے میں انسانی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں 1400 افراد مارے گئے تھے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ جب کہ اس حملے کے دوران عسکریت پسند 240 سے زیادہ افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔حماس کے، جو کہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ کی اتحادی ہے، جنوبی لبنان میں بہت سے جنگجو موجود ہیں اور وہ ماضی میں وہاں سے اسرائیل کے خلاف حملوں کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، یہ سرحد بھی 7 اکتوبر سے حزب اللہ اور اسرائیلی فورسز کے درمیان فائرنگ کے باقاعدہ تبادلوں کی وجہ سے تکنیکی طور پر بدستور حالت جنگ میں ہے۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد سے سرحد ی جھڑپوں کے نتیجے میں لبنانی جانب کم ازکم 81 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں سے 59 افراد حزب اللہ کے جنگجو تھے جب کہ اسرائیل کی جانب ہلاک ہونے والوں میں 6 فوجی اور 2 عام شہری شامل ہیں۔
اسرائیل نے غزہ میں اسپتال کے سولر سسٹم کو بمباری کا نشانہ بنا ڈالا
غزہ ، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے زیادہ ہوجانے اور بجلی و پانی کا نظام مکمل برباد ہوجانے کے بعد اسرائیل نے الشفا ہسپتال کمپلیکس کے سولر پینلز کو بھی بمباری کا نشانہ دیا ہے۔ تاکہ ہسپتال شمسی توانائی کی مدد سے بھی اپنا کام نہ چلا سکے اور زخمی فلسطینی تڑپتے تڑپتے چل بسیں۔اسرائیل کی درندگی کا یہ تازہ واقعہ پیر کے روز اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے عالمی طاقتوں کی کامل سرپرستی اور مدد سے غزہ پر بمباری کا ایک مہینہ مکمل کر لیا۔اس سے پہلے اسرائیل کی مسلسل کامیابی یہ رہی کہ اس نے ہسپتالوں کے نظام کار کو غزہ پر مجموعی بمباری کے ذریعے معطل کرنے میں بھی عالمی طاقتوں کی سرپرستی سے خود کو محروم نہ پایا۔ پھر ہسپتالوں کو براہ راست بمباری کا نشانہ کا مرحلہ جاری کیا اور ایک بڑے ہسپتال کو بمباری کر کے مکمل تباہ کر دیا جبکہ اس میں موجود ڈاکٹروں، طبی عملے اور زخمیوں سمیت لگ بھگ پانچ سو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔
ایک اسپتال میں شمسی توانائی کے امکان کو بھی ختم کرنے کے لیے اس کے سولر پینلز کو تباہ کیا گیا ہے۔تاہم اس واقعے کے بعد بھی امریکہ اور یورپ کے سب اہم اور بڑے ملک اسرائیل ہی کی طرح اس موقف پر پکے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری روکی نہیں جائے گی اور جنگ بندی نہیں کیا جائے گی۔اسرائیل اور اس کے سرپرست اسی کو اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے استعمال کیے جارہے کہ سات اکتوبر کو حملہ پہلے حماس نے کیا تھا۔ اس پہلو کو بالکل نظر انداز کیا جاررہا ہے کہ سات اکتوبر سے پہلے گذرے 75 اور 56 سال کیونکر گذرے اور جارحانہ انداز کس کا رہا، کس نے اقوم متحدہ کی قرادادوں اور بین الاقوامی قوانین ہی نہیں اخلاقیات کے ہر انسانی حوالے کو اپنے سے عملی طور پر دور رکھا۔ اقوم متحدہ کے ادارے سمیت اس کے سیکرٹری جنرل بھی بار ہا غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کے حملے اور ہلاکتیں کرتے چلے جانے کو بلا جواز اور بین الاقوامی قوانی کی خلاف ورزی کہہ چکے مگر اسرائیل نے ایک نہ سنی ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے حال میں سامنے آنے والا موقف 18 انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ سامنے آیا ہے جس میں اسرائیل کارروائی کو مشترکہ طور پر سب نے ناقابل قبول قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔یہ کہتے ہوئے ان 18 عالمی تنظیموں اور اداروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ بہت ہو گئی، اب اس بمباری کو روکا جائے، لیکن اس کے بعد ہسپتال کے سولر پینل سسٹم کو نشانہ بنا دیا گیا ہے۔اس صورت حال میں اردن نے اپنے جدید جنگی طیاروں کو غزہ کے متاثرین کی مدد کے لیے طبی امداد کے طور پر ٹیبلٹس اور سیرپ وغیرہ کے علاوہ زخمیوں کے لیے پمپر وغیرہ غزہ میں پھینکنے کے لیے استعمال کیا ہے۔آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے جب اسرائیل غزہ کے ہسپتالوں کو مکمل تباہی سے دوچار کر رہا ہو تو دوسرے برادر اسلامی ملک ملکوں کو بھی اسی طرح فلسطینیوں کو ادویات وغیرہ دلانے کے لیے اپنے جدید ترین جنگی طیاروں کو مال برداری کے لیے استعمال کرنا پڑے۔
سرنگوں میں جنگ شروع، ممکنہ طور پر حماس کے کئی سینئر رہنما جاں بحق: اسرائیل
مقبوضہ بیت المقدس، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کے اچانک حملے کے 31 دن بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنے زمینی آپریشن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کی تصدیق کردی۔ اس مرحلے میں زمین میں گہرائی تک گھس کر سرنگوں کو تلاش کیا جارہا۔اسرائیلی فوجی ترجمان نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجیں ٹینکوں کے ساتھ غزہ کی پٹی کے شمالی اور جنوبی حصے کو الگ کرنے کے بعد اس حماس کے جنگجوؤں کیخلاف ان کی سرنگوں اور زیر زمین ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچٹ نے نامہ نگاروں سے مزید کہا اب ہم ان پر شکنجہ کسنا شروع کریں گے۔
جب میں کہ رہا ہوں کہ ہم پیچ کو سخت کر رہے ہیں تو اس کا مطلب زمین کے اوپر کے ساتھ زمین کے نیچے بھی ہے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی کہ فوج کو توقع ہے کہ حماس تحریک کے سینئر رہنما کل رات ایک غیر معمولی حملے کے دوران مارے جائیں گے۔ اتھارٹی نے مزید کہاکہ زمین کے اوپر اور نیچے ایک بہت بڑا فضائی حملہ کیا گیا جس میں حماس کے کئی رہنماؤں سمیت بہت سے جنگجوؤں کو مار دیا ہے۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوج اس وقت بیچ کیمپ اور الشفا ہسپتال میں حماس تحریک کے مضبوط گڑھوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ ہم نے غزہ کی پٹی میں سرنگوں کو اہم نقصان پہنچایا۔واضح رہے جنگ کے 31 ویں روز اسرائیلی بربریت کی زد میں آکر شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 10022 ہوگئی ہے۔
غزہ ’بچوں کا قبرستان‘ بنتا جا رہا ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا انتباہ
نیویارک، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے پیر کو متنبہ کیا ہے کہ غزہ پٹی ’بچوں کا قبرستان‘ بنتی جا رہی ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج زمینی آپریشن اور مسلسل بمباری سے شہریوں، ہسپتالوں، پناہ گزینوں کے کیمپوں، مساجد، گرجوں اور اقوام متحدہ کی سہولیات بشمول پناہ گاہیں نشانہ بن رہی ہیں۔ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل-حماس تنازع میں فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ پٹی پر بمباری سے بچے متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے انسانی بنیادوں پر سیز فائر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدترین انسانی بحران جنم لے رہا ہے جس کے لیے جنگ بندی کی ضرورت ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جنگ بندی زیادہ ضروری ہوتی جا رہی ہے۔



