بین ریاستی خبریںسرورق

اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کی رپورٹ میں انکشاف : 30 مدرسوں میں 749 غیر مسلم بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں

نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع کے 30 مدارس میں 749 غیر مسلم بچے زیر تعلیم ہیں

دہرادون، 7نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اتراکھنڈ کے مدرسہ بورڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہری دار، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع کے 30 مدارس میں 749 غیر مسلم بچے زیر تعلیم ہیں، جس کے بعد کانگریس نے تعلیم کے معیار کو لے کر ریاستی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ اتراکھنڈ مدرسہ تعلیمی بورڈ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہری دوار، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر اضلاع کے 30 مدارس میں 749 غیر مسلم بچے زیر تعلیم ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست بھر کے مدارس میں کل 7399 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کانگریس کی ریاستی اکائی کی ترجمان گریما داسونی نے اس معاملے پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست کے تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست میں تعلیم کی خراب حالت کو ظاہر کرتا ہے جہاں بی جے پی گزشتہ سات سالوں سے برسراقتدار ہے۔

آخر غیر مسلم خاندان اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں کے بجائے مسلمانوں کے مدرسے میں پڑھنے کیوں بھیجیں گے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کے تعلیمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔دسوونی نے کہا کہ یہ بی جے پی حکومت کے معیاری تعلیم اور ہندوتوا کے بارے میں بلند و بانگ دعوؤں کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ ان کا نیا ہندوتوا ماڈل ہے؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر غیر مسلم خاندانوں کو اپنے بچوں کو مدرسوں میں پڑھنے کے لیے بھیجنا ہے تو بی جے پی حکومت کو خود کا جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کو صحیح طریقے سے لاگو کیا جاتا تو ان بچوں کو اچھے اسکولوں میں داخلہ مل جاتا۔ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی طرف سے اقلیتی بہبود کے محکمہ کے پرنسپل سکریٹری ایل فینائی کو 9 نومبر کو طلب کیے جانے کے بارے میں دسوونی نے کہا کہ ریاستی وزیر تعلیم دھان سنگھ راوت کو بھی کمیشن کو طلب کیا جانا چاہیے تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button