مالداروں پر مزدوروں کے حقوق-حضرت رحمۃ اللہ علیہ
مزدوروں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینے میں
آج دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کو فوقیت حاصل ہے، وہ مزدوروں کے خون کو چوس کر طاقت ور بن رہے ہیں ، بڑی بڑی ملیں، بڑی بڑی کمپنیاں اورفیکٹریاں چوبیس گھنٹے چل رہی ہیں، مالکان اپنے گھروں میں آرام کررہے ہیں اور مزدور اپنی غربت کی چکی میں پس رہا ہے، مال داری یا غریبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن حق کوادا کرنا انسان کے اختیار میں ہے، آج سرمایہ دار لوگ غریبوں کو چھوٹی چھوٹی تنخواہوں پر رکھ کر بڑے بڑے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی روزی کو ایک دوسرے سے وابستہ رکھی ہے ۔ روزی عطا کرنے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں لیکن اس کو عطا کرنے کے مختلف ذرائع اور بہانے ہیں، مالدار طبقہ کو یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو نعمت اور دولت دی ہے یہ امانت ہے اگر ہم نے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا اور لوگوں کے صحیح حقوق ادا نہیں کئے تو یہ نعمت اللہ تعالیٰ ہم سے واپس لے سکتے ہیں۔
بہت سے دولت مند غرور اور تکبر میں ڈوب جاتے ہیں اور غریبوں اور مزدوروں کو بے عزت کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے بڑا بھیانک انتقام لیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام بندے برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بندے کی بے عزتی ہرگز پسند نہیں ہے۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مزدور کی مزدوری (اجرت) اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو اور مزدور کوطعن وتشنیع نہ کرو، اس کی حقارت نہ کرو، اس کو کمتر نہ سمجھو، بے وقوف اور کم عقل نہ جانو۔
مزدوروں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم
مالدار کو حکم ہے کہ اپنے ساتھ دستر خوان پر بیٹھا کر کھلائے بلکہ اپنے برتن اور اپنی رکابی میں کھلائے ،مزدور کا دل رکھے، اس کو خوش کردے کہ اس کی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ مالدار جیسا پہنے اپنے نوکر کو بھی ویسا پہنائے اور اپنے عزیز واقارب اور رشتہ دار کی طرح ان کو تصور کرے ۔ نوکر سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اس کو گالی گلوج اور لعن طعن نہ کرے ۔ کیوں کہ سرور کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا ہرچیز کو موت ہے ۔ برتن کو بھی موت ہے ۔ صحابہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ برتن کو موت کیسے آتی ہے فرمایا برتن ٹوٹ جائے یہ اس کی موت ہے۔
اس لئے کسی نوکر سے برتن ٹوٹ جائے تو سمجھے کہ برتن کو موت آگئی ۔ اس میںنوکر کا کیا قصور؟ اسلامی احکامات میں مساوات اور عزت نفس کو خاص درجہ حاصل ہے ۔ حضور سرورکائنات ﷺ کے مشہور صحابی حضرت انس tکہتے ہیں کہ میں حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں دس سال رہا ۔ کبھی کسی غلطی پر نہ آپ نے مجھے ٹوکا اورنہ برا بھلا کہا ۔ نہ سخت سست کہا ۔ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ کے محبوب تمام بندوں میں محبوب ترین صفات کے حامل تھے ۔ سوچئے توسہی کہ دس سال تک کیا کبھی بھی ایسا موقع نہیں آیا کہ اپنے غلام کو ڈانٹتے؟ ضرور آیا ہوگا ۔ لیکن یہ سرکار مدینہ کا اخلاق عظیم ہے آپ ﷺ کی بڑی مہربانی اور شفقت ہے، ہم کو اس طریقہ سے اپنے چھوٹوں اور نوکروں کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔
روزگار کی فراہمی خدائی نظام ہے
تاجر ، صنعت کار اور زمیندار کو مزدور کی اور مزدور کو روز گار کی ضرورت ہوتی ہے ، اور ان دونوں کی ضرورت روزگار فراہم کرتی ہے اور یہ خدائی نظام ہے ، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے:’’نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَعِیْشَتَھُمْ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَھُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضاً سُخْرِیّاً‘‘ترجمہ: دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں، اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (سورۃ الزخرف:۳۲)
انسانی ضرورتوں کا ایک دوسرے سے مربوط ہونا ہی عقد اجارہ کے جائز ہونے کی بنیاد ہے، جیسا کہ فقہ کا قاعدہ ہے:’’حَاجَّۃَ النَّاسِ أَصْلُ فِیْ شَرَعَ الْعُقُوْد‘‘ (لوگوں کی حاجت معاملات کے جواز کی بنیاد ہے)
زندگی کیلئے جذبۂ خیر خواہی ضروری ہے
اسلام دین فطرت ہے ، اس کا قانونِ محنت واجرت اخوت وبھائی چارہ پر مبنی ہے ، دین نام ہے خیر خواہی کا ، اور جذبۂ خیر خواہی زندگی کے ہرمیدان میں ضروری ہے، جب کہ آج مالک ومزدور دونوں اس جذبہ سے عاری اور خود غرضی و مفاد پرستی کی ذہنیت کے مالک ہیں ، مالک یہ چاہتا ہے کہ مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام لے، پیدا وار زیادہ کرے ، زیادہ سے زیادہ نفع کو یقینی بنائے، اورمزدور یہ چاہتا ہے کہ کام چوری کرے ، کارخانہ کی پیداوار خواہ کچھ بھی ہو، مجھے میری اجرت زیادہ سے زیادہ ملے ، دونوں کی یہی خود غرضانہ ، مفاد پرستانہ ذہنیت ہے جو سرمایہ دار کو مزدوروں کے حقوق کے استحصال پر اور مزدور وں کو انتقامانہ بغاوت پر ابھارتی ہے۔
اسلام نے مالک اور مزدور کے مابین خوشگوار تعلقات کے لئے بنیادی احکام دیئے ہیں۔آج کے مغربی طرز زندگی میں یہ بات سب کومعلوم ہے کہ فیکٹری ،کمپنی یاادارہ کے ذمہ داران لیبرس کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو پکڑ کر ان کی نشاندہی کرکے مزدوروں کی تنخواہ کو کم کردیا جاتا ہے اور ایسے سخت قانون بنا ئے جاتے ہیں کہ جن کی اطاعت میں مزدور طبقہ مشغول رہے اور اس کو اپنا مستقبل بنا نے اور سنوارنے کا موقع نہ مل سکے۔
انسانی مساوات کا لحاظ نہیں
آج کل ہر کمپنی اور ہر فیکٹر ی میں لیبر یونین بناکر مالکوں کے سامنے مطالبات رکھے اور منائے جاتے ہیں ۔ ان میں کبھی تنخواہ کی بڑھوتری، کبھی بونس کا حصول ، کبھی دیگر قسم کی مراعات حاصل کرنے کیلئے یونین مالکوں پر دباؤ ڈالتی ہے ۔ اس میں حلا ل و حرام کی کوئی تمیز نہیں کی جاتی اور انسانی مساوات کا لحاظ نہیں ہوتا۔ آج مالداروں اورمزدور طبقہ میں جو اختلافات ہیں وہ اسی خود غرضی اور بے حسی کا نتیجہ ہیں، مزدور کومالک کی خیر خواہی کا خیال نہیں ہے اور مالکوں کو مزدوروں پر رحم وکرم کا خیال نہیں ہے۔اسلام نے مذکورہ خیالات اور نظریات کی نفی کی ہے اور جذبہ ٔ خیر خواہی کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنے اور کام کرانے کا حکم دیا ہے ۔
مالک کو بتایا گیا کہ مزدور اورنوکر کی ضروریات زندگی کی کفالت اور اس کے جملہ تقاضوں کو پورا کرنا مالک کی ذمہ داری ہے اور اس سے اسی قدر کام لے جس قدر متحمل ہوسکتا ہے۔اور مزدور کو حکم دیا ہے کہ مالک کے مال کو اپنا سمجھے کہ گویا یہ میرا ہی مال ہے اور میرا ہی سرمایہ ہے ۔ نوکر ،ملازم ،مزدور جب تک مالک کے ساتھ ہمدردانہ سلوک اپنے دل میں پیدا نہیں کرے گا وہ مالک کے حقوق کو ادانہیںکرسکتا ۔ جذبۂ اخوت ومحبت اور خیر خواہی کا پیدا کرنا لازمی ہے ۔ یہ حقو ق العبا د یعنی انسانی حقوق میں شمار ہیں۔
مزدور اور مالک آپس میں بھائی بھائی ہیں
آپ ﷺ کے اس مبارک ارشاد سے درج ذیل باتوں پر روشنی پڑتی ہے:مالک ومزدور آپس میں بھائی بھائی ہیں، اپنے خادم، نوکر اورملازم کے ساتھ نہ صرف برابری بلکہ بھائیوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔ ’’الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لا یَظْلِمُہُ، وَلا یَخْذُلُہُ، وَلا یَحْقِرُہُ۔ حضور ﷺ نے ارشادفرمایا: مسلمان، مسلمان کابھائی ہے۔نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو رسوا کرتا ہے،نہ اس کوحقیر جانتا ہے۔ (مسلم)
جو مالک کھائے اور پہنے وہ اپنے ملازم ونوکر کوکھلائے اورپہنائے ، یعنی آپ جس معیارکی زندگی گذارتے ہیں نوکر بھی اسی معیار کا حق دار ہے ، مزدوروں کا حق مار کر مالک کو عیاشانہ اور امیرانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ یا تو مالک نوکر کو اس قدر اجرت دے کہ وہ بھی مالک کا معیارِ زندگی گذار سکے ،اور اگر یہ ممکن نہیںتو مالک اپنے معیارِ زندگی کو اس سطح تک نیچے لے آئے جس سطح تک وہ اپنے مزدور اورملازم کے معیار زندگی کوبلند کرسکتا ہے۔
ایسے لوگ شیطان کے بھائی ہیں
اس دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے کہ وہ اپنا کام تو وقت پر کرالیتے ہیں اور مزدور کی مزدوری وقت پر ادا نہیں کرتے ۔ مزدور با ر بار چکر لگاتا رہتا ہے اور مطالبہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ بہت سے لوگ تو اپنی اجرت چھوڑ دیتے ہیں وہ مانگتے ہی نہیں حالانکہ یہ حقوق العباد ہے اور حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ خواہ بندہ کتنی ہی توبہ اور استغفار کرلے یہ تو بندے کے معاف کرنے سے ہی معاف ہوتے ہیں ۔ کیسے بے حس اور بے ضمیر ہیں وہ لوگ جو محنت پیشہ لوگوں سے اپنی مطلب برابری کے بعد منھ پھیر لیتے ہیں اورجب ان سے مزدوری طلب کی جاتی ہے تو ان کی آنکھیں لال ہوجاتی ہیں جیسے کہ ان سے مفت میں کچھ طلب کیا جارہا ہے ۔ ایسے لوگ شیطان کے بھائی ہیں حضور اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو بھی وعید سنائی ہے ۔ دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!



