سرورققومی خبریں

نیشنل ہیرالڈ کیس میں سونیا اور راہول گاندھی سے ہائی کورٹ نے مانگا جواب

National Herald case
PHOTO-catchnews

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)نیشنل ہیرالڈ کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے راہل گاندھی، سونیا گاندھی سمیت پانچ ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب مانگا ہے۔سبرامنیم سوامی کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے اس حکم پر بھی روک لگادی گئی ہے، جس میں سوامی نے نچلی عدالت میں کچھ گواہوں کی سمن بھیجنے اورکچھ اضافی دستاویز عدالت کے کچھ ریکارڈپرلانے کی مانگ کی تھی۔

سبرامنیم سوامی نے نچلی عدالت میں دائر ایک مجرمانہ شکایت میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سمیت دیگر لوگوں پر نیشنل ہیرالڈ کے ذریعے دھوکہ دہی اور غیر قانونی طور پر رقوم کے حصول کی سازش کرنے کا الزام عائد کیاتھا۔ تاہم گاندھی سمیت تمام ملزمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔یہ معاملہ نیشنل ہیرالڈ کی جائیداد اور مبینہ بدعنوانی سے متعلق ہے۔

بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے دہلی کی نچلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی سمیت کانگریس لیڈران کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس معاملے میں نچلی عدالت نے سونیا گاندھی، راہل گاندھی سمیت کانگریس لیڈران کو بھی بطور ملزم سمن جاری کیا ہے اور فی الحال سب ضمانت پر باہر ہیں۔نیشنل ہیرالڈ کی بنیاد 1938 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رکھی تھی،

لیکن یہ اخبار 2008 میں بند کردیا گیا تھا۔ بعدازاں نیشنل ہیرالڈ کے اوپر قرض ادائیگی کی بات کرتے ہوئے ینگ انڈین نامی ایک نجی کمپنی نے نیشنل ہیرالڈ کی جائیدادحاصل کرلی تھی۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی اس معاملے کو عدالت میں لے گئے۔

سوامی نے الزام لگایا کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ینگ انڈین کمپنی میں ڈائریکٹر ہیں اور وہ دونوں اس کمپنی کے 38-88 فیصد حصص رکھتے ہیں یعنی وہ دونوں کمپنی کے 76 فیصد حصص کے مالک ہیں اور یوں ینگ انڈین کی ملکیت گاندھی خاندان کے ساتھ ہے۔

سوامی نے الزام لگایا کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے سرکاری فرم کو ایک نجی کمپنی میں تبدیل کیا اور 1600 کروڑ روپے کی جائددادپرقبضہ کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button