قومی خبریں

یوٹیوب کا مصنوعی ذہانت سے ویڈیوز بنانے والوں کیخلاف کارروائی کا منصوبہ

مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعل سازوں کو پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے

نئی دہلی، 16نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) یوٹیوب نے کہا ہے کہ جلد ہی اپنے صارفین کو یہ درخواست کرنے کی اجازت دی جائے گی کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعل سازوں کو پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے اور ساتھ ہی مصدقہ نظر آنے والا مواد نمایاں کرنے والی ویڈیوز پر بھی لیبل درکار ہوگا۔ڈان میں شائع غیر ملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ویڈیو مواد سے متعلق بنائے گئے نئے قوانین کا اطلاق آنے والے مہینوں میں ہوگا کیونکہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے فراڈ، غلط معلومات یا فحش نگاری میں لوگوں کی جعلی تصویر کشی کا اندیشہ بڑھتا جارہا ہے۔یوٹیوب کے پروڈکٹ مینجمنٹ کے وائس صدور ایمیلی موکسلے اور جینیفر فلنری نے ایک بلاگ میں کہا کہ ہم اے آئی اور دیگر مصنوعی یا ہیر پھیر سے بنایا گیا مواد ہٹانے کی درخواست ممکن بنائیں گے جو کسی قابل شناخت فرد بشمول اس کے چہرے یا آواز کی نقل کرتا ہے۔ان درخواستوں کو جانچتے ہوئے یوٹیوب اس بات پر غور کرے گا کہ کیا ویڈیوز مزاحیہ ہیں اور کیا اس میں دکھائے گئے حقیقی لوگوں کی شناخت ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یوٹیوب کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ تخلیق کاروں کو یہ واضح کرنے کا پابند کیا جائے گاکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ ویڈیو کب بنائی گئی تاکہ ناظرین کو لیبل کے ساتھ آگاہ کیا جا سکے۔ایمیلی موکسلے اور جینیفر فلنری نے کہا کہ ایک ایسی ویڈیو مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیو ہوسکتی ہے، جس میں حقیقی طرز پر ایسے ایونٹ دکھائے گئے ہوں جو منعقد ہی نہیں ہوا یا کوئی ایسا مواد ہو سکتا ہے جو کسی کو کچھ بولتے یا کرتے ہوئے دکھایا جا رہا ہو جو انہوں نے کیا ہی نہ ہو۔پلیٹ فارم کے مطابق یہ بالخصوص ان کیسز کے لیے ضروری ہے جس کا مواد حساس موضوعات جیسے انتخابات، جاری تنازعات، صحت عامہ کا بحران یا سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے ہو، قوانین کی خلاف ورزی کر کے ویڈیو بنانے والوں کا مواد یوٹیوب سے ہٹایا جا سکتا ہے یا اشتہار کی آمدنی شیئر کرنے والے اس کے پارٹنر پروگرام سے معطل کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button