ہریانہ کے پرائیویٹ سیکٹر میں مقامی لوگوں کیلئے 75 فیصد ریزرویشن کا قانون مسترد
ریاست کے لوگوں کے لیے 75 فیصد ریزرویشن کے قانون کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا
چنڈی گڑھ، 17نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ہریانہ میں پرائیویٹ سیکٹر میں ریاست کے لوگوں کے لیے 75 فیصد ریزرویشن کے قانون کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ صنعتی مالکان نے ہریانہ حکومت کے اس قانون پر سوالات اٹھائے تھے جس کے بعد جسٹس جی ایس سندھاوالیا اور جسٹس ہرپریت کور جیون نے ہائی کورٹ میں یہ فیصلہ دیا۔کیس کی سماعت ایک ماہ قبل مکمل ہوئی تھی، عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے جمعہ (17 نومبر) کو اپنا فیصلہ سنایا۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل مارچ 2022 میں اس قانون سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ تب ہائی کورٹ نے اس قانون کے حق میں اور خلاف تمام دلائل سنے تھے، جس کے بعد اس نے اپریل 2023 میں دوبارہ اس کی سماعت شروع کی۔ہریانہ حکومت نے مقامی امیدواروں کا اسٹیٹ ایمپلائمنٹ ایکٹ 2020 نافذ کیا تھا۔
ہریانہ حکومت نے نومبر 2020 میں اسمبلی میں اس بل کو پاس کیا تھا۔ گورنر نے مارچ 2021 میں اس بل پر دستخط کیے تھے۔ اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہریانہ کے نوجوانوں کو ایسے تمام نجی اداروں بشمول پرائیویٹ کمپنیوں، سوسائٹیوں، ٹرسٹوں، پارٹنرشپ فرموں میں ملازمتوں میں 75 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔اس ایکٹ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ یہ ریزرویشن صرف ان پرائیویٹ اداروں پر لاگو ہو گا جہاں 10 یا اس سے زیادہ لوگ ملازم ہیں۔ نیز ان کی تنخواہ 30 ہزار روپے ماہانہ سے کم ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں 6 نومبر 2021 کو لیبر ڈیپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا کہ ہریانہ میں نئی اور پرانی فیکٹریوں، اداروں وغیرہ میں ہریانہ کے مقامی باشندوں کو 75 فیصد نوکریاں دینی ہوں گی۔
اس معاملے میں فرید آباد اور گروگرام کی صنعتی تنظیموں نے ہائی کورٹ میں اس قانون پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب اس قانون کے خلاف اپیل ہوئی تو ہائی کورٹ نے فروری 2022 میں اس پر پابندی لگا دی تھی۔ ہریانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے 4 ہفتوں میں اس پر فیصلہ کرنے کو کہا۔ اس معاملہ میں یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ جب تک ہریانہ کے اس قانون کی آئینی جواز کے بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا، حکومت اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی کاروائی نہیں کر سکتی۔



