قومی خبریں

دیومالائی فلسفہ پر مبنی’ رامائن‘ اور ’مہابھارت‘ ہوسکتے ہیں نصاب میں شامل

این سی ای آر ٹی کی سوشل سائنس کمیٹی اسکولوں میں اس مضمون کے نصاب کو دوبارہ طے کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

نئی دہلی، 21نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) موصولہ اطلاع کے مطابق دیومالائی فلسفے پر مبنی رامائن اور مہابھارت کو نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے نصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کو اسکول کی تاریخ کے نصاب میں ہندوستان کے کلاسیکی دور کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ این سی ای آر ٹی کے اپنے اعلیٰ سطحی پینل سوشل سائنس کمیٹی نے اس کی سفارش کی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ طے نہیں ہوا ہے کہ رامائن-مہابھارت کے کس باب کو کس کلاس میں پڑھایا جائے گا۔پرو سی آئی اسحاق نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ پینل نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ آئین کی تمہید اسکول کی ہر کلاس میں دیوار پر لکھی جائے۔ اسے علاقائی زبان میں ہونا چاہیے۔ اسحاق تاریخ کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ دراصل،این سی ای آر ٹی کی سوشل سائنس کمیٹی اسکولوں میں اس مضمون کے نصاب کو دوبارہ طے کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

کمیٹی نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ ہندوستانی نالج سسٹم تیار کیا جانا چاہیے۔وید اور آیوروید کو بھی کتابوں میں شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ نصابی کتابوں میں انڈیا کے بجائے بھارت لکھا جائے۔ یہ تجاویز این سی ای آر ٹی کی نئی نصابی کتاب بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ تاہم، ان تجاویز کو این سی ای آر ٹی سے حتمی منظوری ملنا باقی ہے۔ این سی ای آر ٹی نے اکتوبر میں اس معاملے میں کہا تھا کہ نصاب کو نئے طریقے سے تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

ہم کچھ کہیں گے تو میڈیا میں آئے گا، اچھا نہیں ہوگا۔ پرو (ریٹائرڈ) سی آئی اسحاق نے کہاکہ ہم نے تاریخ کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایک – کلاسیکی دور، دوسرا – قرون وسطی کا دور، تیسرا – برطانوی دور اور چوتھا جدید ہندوستان۔اب تک تاریخ صرف تین حصوں میں پڑھائی جاتی ہے ۔ قدیم ہندوستان، قرون وسطی کا ہندوستان اور جدید ہندوستان۔ اسحاق کے مطابق، ہم نے کلاسیکی دور میں مہاکاوی رامائن اور مہابھارت کو پڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ رام کون تھے اور ان کی زندگی کا مقصد کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button