قومی خبریں

سپریم کورٹ نے دہلی کی کجریوال حکومت کو دیا الٹی میٹم

دہلی کی اروند کجریوال حکومت اور مرکز کے درمیان تنازع جاری ہے۔

نئی دہلی،25نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی کی اروند کجریوال حکومت اور مرکز کے درمیان تنازع جاری ہے۔ اب چیف سکریٹری کی تقرری کو لے کر دونوں کے درمیان تناؤ ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کیجریوال حکومت سے کہا ہے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے تجویز کردہ ناموں پر ایک گھنٹے کے اندر فیصلہ کرے۔ یہی نہیں عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ پینل کی جانب سے حکومت کو جو بھی نام دیے جائیں گے۔ انہیں خفیہ رکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے لیفٹیننٹ گورنر سے ایک پینل بنانے کو کہا ہے۔سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پارڈی والا کی بنچ نے کہا کہ پینل سے جو بھی نام سامنے آئیں گے۔ ایک گھنٹے کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔

حال ہی میں قانون میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جس کے بعد چیف سیکرٹری کا جلد انتخاب ضروری ہو گیا ہے۔ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ چیف سکریٹری دہلی حکومت کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی تقرری میں ریاستی حکومت اور مرکز کے درمیان تال میل ضروری ہے۔واضح ہو کہ دہلی کے چیف سکریٹری نریش کمار 30 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے اگلے چیف سیکرٹری کا فیصلہ ہونا ہے۔ عام آدمی پارٹی اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ پہنچی ہے کہ نئے چیف سکریٹری کی تقرری کے لیے مرکزی حکومت کو دہلی حکومت سے اتفاق کرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایل جی کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ اس سے قبل بھی چیف سکریٹری کے ناموں کو لے کر کافی بحث ہو چکی ہے۔

ایسے میں ایک بار پھر آپ حکومت کو عہدیداروں کے نام پر عوام پر نئے الزامات لگانے کا موقع ملے گا۔سی جے آئی نے کہا کہ اس معاملے کا حل تلاش کرنے کے لیے مرکزی حکومت اور ایل جی کو کچھ افسران کے نام ریاستی حکومت کو بتانے چاہئیں۔ ریاستی حکومت کو ان ناموں میں سے اپنی پسند کے افسر کو منتخب کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم جن افسران کے نام تجویز کیے جائیں گے ان کے نام سوشل میڈیا پر ظاہر نہیں ہونے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button