بنگلہ دیش میں بدترین ڈینگو پھیلنے سے المناک طور پر 1600 لقمہ اجل ہوگئے
بنگلہ دیش کو حالیہ دنوں میں ڈینگو بخار کی بدترین وبا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
ڈھاکہ ،29نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بنگلہ دیش کو حالیہ دنوں میں ڈینگو بخار کی بدترین وبا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اس مہلک مرض کے باعث رواں سال ہلاکتوں کی تعداد 1606 تک پہنچ گئی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مون سون کے موسم کے دوران ڈینگو ایسی وبا ہے جو عام طور پر جولائی سے ستمبر تک مچھروں کی بھرمار کے باعث پھیلتی ہے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق رواں سال اب تک تین لاکھ 9 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ڈینگو ایسی وبا ہے جو مچھروں سے پھیلتی ہے اور مچھروں کی یہ خاص قسم میٹھے پانی کے تالابوں، کھڑے پانی اور نالوں میں افزائش پاتی ہے۔ڈینگومچھر سے ہلاکتوں کے ریکارڈ 2000 کے بعد سے گذشتہ سال ڈینگو کے باعث 281 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں، رواں سال یہ تعداد تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ماہرین صحت نے رواں سال ڈینگی کی طوالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عام طور پر مون سون کی بارشیں ختم ہوتے ہی ڈینگو انفیکشن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، تاہم اس بار صرف نومبر میں ڈینگو کے تقریباً 38,000 کیسز ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ڈھاکا کی بنگا بندھو شیخ مجیب میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد شرف الدین احمد نے بتایا کہ ’گذشتہ برسوں میں اس عرصہ کے دوران ہم نے ڈینگو کا کوئی مریض ریکارڈ نہیں کیا۔گذشتہ برسوں میں وبا پھیلنے کا زیادہ رجحان کثیر آبادی والے شہری علاقوں میں تھا، تاہم اس بار دیہی علاقوں میں وبا پھیلنے کی اطلاعات زیادہ ہیں۔ان کے مطابق ’اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ رواں سال رپورٹ ہونے والے 65 فیصد سے زائد کیسز 23 ملین آبادی والے شہر ڈھاکا سے باہر کے تھے اور پہلی بار شہر میں یہ انفیکشنز کم ہیں۔صحت عامہ کے ماہر اور عالمی ادارہ صحت کے سابق علاقائی مشیر مظاہر الحق نے بتایا کہ ’ڈینگو کا طویل موسم ممکنہ طور پر موسمیاتی تبدیلی ہے، اس بار درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور مون سون کا موسم بھی طویل رہا ہے۔



